جہاد وانقلاب کے محاذ پر

جہاد وانقلاب کے محاذ پر

راہ خدا میں مقابلہ و جہاد کا جذبہ امام ؒکے اعتقادی نظرایت ، تربیت، گهریلو ماحول اور پوری زندگی کے سیاسی اور معا شرتی میدانوں میں موجزن رہاہے، آپ نے دور جوانی سے ہی جدوجہد شروع کی جو آپ کے روحانی اور علمی پہلوؤں کے تکامل کے ساته ساته ایران اور عالم اسلام کے سیاسی اور معاشرتی حا لات کے مطابق مختلف صورتوں میں جاری رہی ، یہاں تک کہ (۶۲ ۔۱۹۶۱ ء ) میں علاقائی اور صوبائی کونسلوں کے قوانین کے نتیجے میں رونما ہونے والے واقعات نے آپ کیلئے علماء کرام کی تحریک کی قیادت میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا ، یوں جون ۱۹۶۳ ء کو شروع ہونے والی علماء اور عوام کی تحریک ، دو خصو صیات کے ساته ایرانی قوم کی جد وجہد کو نئے مرحلے تک پہنچانے کاباعث بنی جو آ گے چل کر انقلاب اسلا می کے نام سے دنیا میں پہچانے جانے لگی وہ دو خصو صیات یہ ہیں: امام خمینیؒ کی واحد قیادت اور پورے ایران میں تحریک کے محرکات ، نعروں اور اسکے مقاصد کا اسلامی ہونا ۔ امام خمینیؒ نے اس دور میں آنکه کهولی جب ایران اپنی تاریخ کے مشکل ترین مراحل سے گزر رہا تها ، آئینی تحریک ( نہضت مشروطہ ) قاجاری دربار میں موجود انگریزوں کے ایجنٹوں کی سازشوں اور مخالفتوں کے علاوہ اندرونی اختلافات اور مغرب پرست دانشوروں کے ایک گروہ کی غداری کی وجہ سے راستے سے منحرف ہو چکی تهی ۔ اس تحریک کی ابتدامیں علماء کرام نے ہر اول دستے کا کردار اداکیا تها لیکن مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں میدان سے نکال کر ایک بار پهر آ مریت مسلط کی گئی ۔

قاجاری بادشاہوں کی قبائلی طبیعت کے علاوہ امور مملکت کی باگ ڈور سنبهالنے والے لوگوں کی کمزوری اور نااہلی کی وجہ سے ایران شدید اقتصادی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہو چکا تها جس کی وجہ سے سرداروں اور بد عنوان لوگوں کو عوام کے امن و امان سے میں خلل ڈالنے کا کهلم کهلا موقع مل گیا تها ۔

ان حالات میں ایران کے شہروں اور دوسرے علاقوں میں عوام کا واحد قابل اعتماد طبقہ علماء کرام کا طبقہ تها ، چنانچہ اس سے پہلے بهی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ امام خمینیؒ نے اپنے والد گرامی کو حکومت وقت کے پٹهو سرداروں کے ہاتهوں اپنے اور علاقے کے عوام کے مسلمہ حقوق کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوتے دیکها ہے ۔بنیادی طور پر خمینیؒ خاندان کو ہجرت اور جہاد سے دیرینہ الفت تهی ۔ امام خمینیؒ پہلی عالمی جنگ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان فرماتے ہیں ، جبکہ آپ کی عمر اس وقت صرف بارہ سال تهی : ’’ مجهے دونوں عالمی جنگوں کی یاد ہے ۔ اگر چہ (اس وقت) میں چهوٹا تها لیکن مدرسہ جا تا تها ، میں روسی فو جیوں کو خمین میں قائم ان کی بیرک میں دیکهتا رہتا تها ۔پہلی عالمی جنگ کے دوران ہمارا (ملک) لوٹ مار کا شکار ہو گیا تها ۔(1)

حضرت امام خمینیؒ ایک اور مقام پر بعض ایسے سرداروں اور ظالم افراد کانام لے کر جو مرکزی حکومت کی پشت پناہی میں عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو سے کهیلتے تهے فرماتے ہیں : میں بچپن سے ہی جنگ میں مصروف رہا ہوں ۔ہم زلقی اور رجبعلی (جیسے ظالموں ) کے حملوں کی زد میں ہوتے تهے ، ہمارے ہاتهوں میں بندوقیں ہوتی تهیں اور جب کہ میں ابتداء دوران بلوغت میں تها ، میں بچہ تها، اس وقت میں ہمارے علاقے میں ان کی طرف سے حملہ کرکے ہمیں لوٹنے کے لئے بنائے گئے موچوں میں کهوج لگانے جاتاتها ،(2) ایک اور جگہ پر آپ فرماتے ہیں: جس علاقے میں ہم رہتے تهے ، یعنی خمین میں ہم مورچہ بندی کرتے تهے ، میرے پاس بهی بندوق تهی لیکن میں بچہ تها، بچہ ہونے کے با وجود سولہ سترہ برس کی عمر میں ہمارے ہاتهوں میں بندوقیں ہوتی تهیں اور بندوق چلانے کی ٹریننگ لیتے اور دیتے تهے ۔۔ہم موچوں میں جاتے اور ان شر پسند افراد سے (مقابلہ کرتے تهے ) جو ہم پر حملہ کرنا چاہتے یا ہمیں پکڑنا چاہتے تهے اور پتانہیں کیا کیا کرنا چاہتے تهے ۔ افراتفری کا دور دورہ تها ، مرکزی حکومت میں کوئی طاقت نہیں تهی ، بے سر وسامانی کا عالم تها  ایک دفعہ خمین کے ایک محلے پر انہوں نے قبضہ کیا تو عوام نے ان سے مقابلہ کیلئے  بندوقیں اٹهائیں ، میں بهی ان میں شامل تها ۔(3)

4 مارچ ۱۹۲۱ ء  کو رضا خان پہلوی نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا ، نا قابل تردید تاریخی شواہد اور دستاویزات کی روسے یہ کودتا انگریزوں کی حمایت اور منصوبہ بندی سے کیا گیا تها جو قاجاری بادشاہت کے خاتمے پر منتج ہوا ، نیز یہ کسی حد تک سرداروں اور ( مختلف علاقوں میں ) پهیلے ہوئے شر پسند افراد کے ملوک الطوائفانہ اقتدار کو محدود کرنے کا باعث بهی بنا ، لیکن اس کے بدلے میں ایسی آمریت نے جنم لیا جس کی آڑ میں صرف ایک ہزار خاندان ایران کی مظلوم قوم کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹهے اورخود پہلوی خاندان گذشتہ دور کے سرداروں اور شر پسند عناصر کاکردار اداکرنے لگا ۔

رضا خان اپنی بیس سالہ بادشاہت کے دور میں ایران کی زرخیز اراضی کے آدهے حصّے پر قابض ہوا اور سرکاری طور پر ان زمینوں کے ملکیتی حقوق اپنے نام پر منتقل کئے ، نیز اس نے مخصوص شاہی املاک اور جائداد کی دیکه بهال کیلئے بڑے وزارتخانوں سے کئی گنا وسیع ادارہ قائم کرلیا ، اس سلسلے میں رضا خان نے انتہا کر دی اور انتقال اراضی حتی کہ موقوفہ املاک کی منتقلی کی قانونی رکا وٹوں کو دور کرنے کیلئے اپنی پٹهو اسمبلی سے بیسیوں بل اور قانونی دستا ویزات منظور کروا لیں ۔ رضا خان کی شاہی املاک کے علاوہ سونے جواہرات تجارتی اور صنعتی کمپنیوں اور مراکز کی ملکیت حاصل کرنے کا موضوع ، اسکی سوانح حیات کا اہم ترین جزوہے جنہیں رضا خان کے دوستوں یا دشمنوں نے سپرد قلم کیا۔

رضا خان پہلوی کی ملکی سیاست کے اصول ان تین بنیادوں پر استوار تهے : ‘‘پر تشدد فوجی اور پولیسی حکومت’’ ‘‘مذہب اور مذہبی رہنماوؤں کے ساته ہمہ گیر مقابلہ’’ اور ‘‘مغرب پرستی’’۔ ان اصول پر وہ اپنے دور بادشاہت میں مکمل طور پر کاروباربند رہا۔

ان حالات میں ایران کا طبقۂ علما ئے اسلام کے دفاع اور اپنے وجود کے تحفظ کی خاطر میدان عمل میں آیا جو نہضت مشروطہ (آئینی تحریک) کے واقعات کے بعد ایک طرف سے حکومت وقت اور انگریزی ایجنٹوں کے پے درپے حملوں اور دوسری جانب سے بظاہر روشن خیال اور مغرب کے شیفتہ و دلدادہ دانشوروں کی معاندانہ کاروائیوں کی زد میں تها ۔ آ یت اللہ العظمیٰ حائریؒ قم کے معاصر علماء کی دعوت پر اراک سے قم کی طرف روانہ ہوئے ، اس کے تهوڑے ہی عرصے کے بعد امام خمینیؒؒ بهی قم آئے جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بنا پر خمین اور اراک کے حوزہ ہائے علمیہ میں مقدماتی علوم اور سطحیات (متون) کی تعلیم مکمل کرلی تهی ، امام ؒ نے قم کی نوبنیاد درسگاہ کو استحکام بخشنے کے لئے فعال کردار دا کیا اور دیکهتے ہی دیکهتے آپ ؒ عرفان و سلوک ، فلسفہ ، فقہ اور اصول فقہ کے شعبوں میں اس حوزۂ علمیہ کے بلند پایہ فضلا میں شمار ہونے لگا ۔

چنانچہ اس سے پہلے کہاگیا علمائے کرام اور دینی مرجعیت کے    اعلیٰ مقاصد کا تحفظ ہی اس دور کی سب سے اہم ضرورت تهی ، جو رضاخان پہلوی اور اس کے بیٹے ( معزول شاہ ا یران ) کی علماء مخالف پالیسیوں اور دیگر مذموم عزائم کو ناکام بناسکتا تها ۔ اسی لئے روز مرہ حالات و واقعات سے نمٹنے کے سلسلے میں حوزہ ہائے علمیہ اور مرجع تقلید کے رویوں اور ان معاملات میں علمائے کرام کے کردار سے متعلق بعض امور میں آیۃ اللہ العظمیٰ حائری ؒ اور بعد میں آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردیؒ کے ساته اختلاف رائے رکهنے کے باوجود امام خمینیؒ ان دونوں بزرگوں کی قیادت کے دور میں مرجعیت کے شدید ترین حامی کی حیثیت سے ان کا ساته دیتے رہے ۔

امام ؒ کو سیاسی اور معاشرتی مسائل کے حل میں خاص دلچسپی تهی ۔ رضا خان نے اپنی بادشاہت کی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے بعد ابتدائی سالوں میں ہی ایرانی معاشرے سے اسلامی ثقافت کے اثرات کو مٹانے کیلئے وسیع منصوبہ بنائے ، علمائے کرام کو مختلف طریقوں سے بے جا تنگ کرنے کے ساته ساته سرکاری احکامات کے ذریعے مجالس عزاداری اور مذہبی تقریروں پر پابندی لگائی گئی مدرسوں میں قرآن مجید اور دینی مسائل و احکام کی تعیم اور نماز جماعت کو ممنوع قرار دیا گیا اور مسلمان ایرانی خواتین کے سروں سے پردہ ہٹانے کا راگ لا پا گیا ، لیکن اس سے پہلے کہ رضا خان پہلوی اپنے مذموم عزائم کو وسیع پیمانوں پر عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوجائے ایران کے ذمہ دار علماء وہ پہلا طبقہ تها جس نے ان عزائم کے پس پردہ مقاصد کو بهانپتے ہوئے مخالفت میں صدائے احتجاج بلند کی ۔اصفہان کے متعہد علماء آ یۃ اللہ حاج آقا نور اللہ اصفہانی کی قیادت میں ۱۹۲۷ کو احتجاجی طور پر اصفہان سے قم کی طرف ہجرت کرنے کے بعد یہاں دهرنا دے کر بیٹه گئے اور دوسرے شہروں کے علماء بهی اس مہم میں شریک ہوئے ، قم میں علمائے کرام کا دهرنا ۲۱ شہریور سے ۲۵ دسمبر ۱۹۲۷  تک ۱۰۵ دن جاری رہا جس کے نتیجے میں بظاہر رضاخان پسپا ہو گیا اور اس وقت کے وزیر اعظم (مخبر السلطنہ) نے دهرنا دینے وا لوں کے مطالبات کوپورا کرنے کی ذمہ داری لی ، رضاخان کے کارمندوں کے ہاتهوں دیماہ ۱۳۰۶ه ش میں اس تحریک کے قائد کی شہادت کے ساته عملی طور پر دهرنا دینے کی یہ مہم اختتام کو پہنچ گئی ۔

یہ روداد روح اللہ خمینیؒ نام کے جوان ، باصلاحیت اور مجاہدانہ جذبے کے حامل طالب علم کے لئے رضاخان پہلوی کے خلاف علمائے کرام کے مقابلہ و جہاد کے مسائل کی نوعیت سے آگاہی حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرنے میں مدد و معاون ثابت ہوئی۔ دوسری جانب اس روداد سے چند ماہ قبل نوروز ۲۱ مارچ  ۱۹۲۷ ء  کے دن قم میں رضا خان کے ساته آیۃ اللہ بافقیؒ کے تنازعہ واختلاف کا واقعہ پیش آیا تها ، جس کی وجہ سے فوج کے ذریعے قم شہر کا محا صرہ کیا گیا اور شاہ کے ہاتهوں اس عالم دین کی پٹائی کے بعد شہررے کی طرف ان کی شہر بدری عمل میں آئی تهی ۔

یہ سانحہ اور اس سے مشابہ دیگر حوادث ک ے علاوہ اس دور کی قانون ساز اسمبلی میں رونما ہونے والے حالات خاص طورپر نامور اور مجاہد عالم دین آیۃ اللہ سید حسن مدرس کی جد وجہد امام خمینیؒ کی حساس اور عزم و ولولے سے ما لامال روح پر اثر انداز ہوتی رہتی تهی۔

رضا خان پہلوی نے حوزہ علمیہ قم کے نظام کو درہم بر ہم کرنے کی غرض سے علمائے کرام سے سر کاری طوپر امتحان لینے کا فرمان جاری کیا! امام خمینیؒ اس حکم کی مخالفت کیلئے اٹه کهڑے ہوئے اور قم کے  بعض نامور علماء کو آپ نے اس منصوبے کے پس پردہ عزائم سے خبردار کیا جو سادہ اندیشی کی بنا پر اس کاروائی کو ایک اصلاحی قدم قرار دے رہے تهے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس دور میں ایران کے علمائے کرام ، سرکاری ذرائع ابلاغ کی وسیع پروپیگنڈہ مہم ، نا گفتہ بہ حالات ، آپس کے تفرقہ و انتشار اور آئینی تحریک کے بعد مذہبی رہنماؤں کے طبقے کو پہنچنے والے صدمات کی وجہ سے گوشہ نشین ہونے پر مجبور ہوگئے تهے ، یہاں تک کہ عرفان و سلوک اور فلسفہ جیسے علوم کی تدریس و تعلیم جو ضمیروں کو جهنجوڑ نے کے ساته روز مرہ مسائل اور عصری تقاضوں کو موضوع بحث بنانے کا ذریعہ سمجهی جاتی تهی ، بعض منحرف سوچ رکهنے والے ، آرام طلب اور نام نہاد شریف ( علماء ) کی طرف سے متروک و مطرود قرار دے دی گئی تهی ، ان حالات میں امام ؒ پر فلسفہ عرفان اور اخلاقیات کے درس بند کرنے کیلئے دباؤ بڑه گیا ، لیکن آپ اپنا درس ایک خفیہ مقام پر منتقل کرکے شاگردوں کی فکری تربیت پر توجہ دیتے رہے ان کو ششوں کا نتیجہ علامہ شہید آیۃ اللہ مطہریؒ جیسی شخصیات کی تربیت کی صورت میں ملا۔

ایرانی علمائے کرام اور عوام کی ثابت قدمی رنگ لائی ،رضا خان پہلوی اپنی پوری طاقت استعمال کرنے کے باوجود ، اسلام کی مکمل تباہی ، پردہ ہٹاؤ مہم (کشف حجاب) اور دینی مراسم پر پابندی لگا نے کے اپنے مذموم عزائم میں بڑی حد تک ناکامی سے دچار ہونے کے سبب بہت سے معاملات میں اپنے ارادوں سے منصرف ہوا ۔

۳۰ جنوری 1937 ء  کو آیۃ اللہ العظمیٰ حائریؒ رحلت کر گئے ، اس سانحے سے حوزۂ علمیہ قم ،بندش کے خطرے سے دچار ہوا لیکن فرض شناس علمائے کرام ، صورت حال کوسنبهالنے کے لئے آگے بڑهے اور آٹه سال تک اس بحرانی دورمیں حضرات آیات عظام سید محمد حجتؒ ، سید صدرالدین صدرؒ اور سید محمد تقی خوانساریؒ نے مشترکہ طور پر حوزۂ علمیہ قم کی سرپرستی کی ، اس دوران رضا خان پہلوی کو معزول کیا گیا تو مرجعیت اعلیٰ کے تعین کے لئے فضا ساز گار ہوئی ، آ یت اللہ العظمیٰ بروجردی ؒ اعلیٰ علمی شخصیت کے حامل ہونے کی وجہ سے آیت اللہ العظمیٰ حائری ؒ کے بہترین جانشین ثابت ہوسکتے تهے ۔ لہذا امام خمینیؒ سمیت آ یت اللہ حائری ؒ کے شاگردوں نے آیت اللہ بروجر دی ؒ کو حوزے کی قیادت کی بهاری ذمہ داری سنبهالنے پر آمادہ کرنے کے لئے تک ودو شروع کی ، امام خمینیؒ ؒ نے انہیں قم کی طرف ہجرت کی دعوت دینے میں سنجیدگی سے کوششیں مبذول کیں ۔ امام ؒ معاشرے کے حالات اور دینی درسگاہون کی صورتحال پر کڑی نگاہ رکهتے تهے ، آپ معاصر تاریخ کی کتب اور رسائل وجرائد کے مطالعے کے علاوہ تہران (۴) رفت و آمد کے ذریعے آیت اللہ مدرس جیسے اکابر کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی معلومات میں اضافہ فرماتے رہتے تهے ، لہذا آپ اس نتیجے پر پہنچے تهے کہ مشروطیت (آئینی تحریک) کی شکست اور بالخصوص رضا خان پہلوی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد رونما ہونے والے ذلت آمیز حالات کا ازالہ کرنے کی واحد راہ حل حوزۂ علمیہ کے علماء کی بیداری بلکہ اس سے قبل دینی درسگاہوں کی نشأۃ ثانیۃ اور علماء کرام کے ساته عوم کا روحانی رابطہ ہے۔

آ یت اللہ بروجردیؒ کی قم آمد کے بعد امام خمینیؒ نے جو خود اس وقت حوزۂ علمیہ قم کے نامور مجتہدین اور ا ساتذہ میں شمار ہوتے تهے آیت اللہ بروجردیؒ کی قیادت اور مرجعیت کو مستحکم کرنے کے لئے سعی بلیغ فرمائی ،چنانچہ امام ؒ کے شاگردوں کے مطابق اس مقصد کی تکمیل کے لئے آپؒ آ یت اللہ بروجردی ؒ کے درس فقہ اور اصول فقہ میں شرکت فرماتے تهے ۔

امام خمینیؒ نے اپنے گرانقدر اہداف کی تکمیل کی خاطر 1949 ء میں حوزہ ٔ علمیہ کو نئے خطوط پر منظم کرنے کےلئے  آیت اللہ مرتضیٰ حائری ؒ کے تعاون سے ایک جامع پروگرام بناکر آیت اللہ بروجردی کے سامنے پیش کیا ۔ امام ؒ کے شاگردوں کے علاوہ حوزہ کے روشن ضمیر طلبہ نے اس سے بہت سراہا ۔

اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کی صورت میں حوزہ علمیہ ایک ہمہ گیر علمی ادارے میں تبدیل ہو سکتا تها لیکن ایک بار پهر بظاہر شریف لیکن در اصل خناس ملاّ حرکت میں آگئے ، وہ اس پروگرام کو اپنی پر تعیش اور آرام دہ زندگی میں خلل سمجهتے تهے ۔ ان کی حد سے زیادہ مخالفت اور بغاوت کی وجہ سے آیت اللہ بروجردی ؒ کو دلی رضایت کے باوجود اپنی پہلی رائے تبدیل کرنی پڑی ۔ آیت اللہ زادہ ٔ حائری ؒ اس واقعے کے بعد دلبر داشتہ ہوکر ایک عرصے کے لئے مشہد ، ہجرت کر گئے لیکن امام خمینیؒ ؒ نے حالات کی نزاکت کو بهانپتے ہوئے اس واقعے کے علاوہ اسی طرح کے دیگر حوادث سے مایوس ہونے کے باوجود مستقبل میں حوزۂ علمیہ کی بیداری اور تحرک پر امید کی نگاہیں مرکوز کر رکهی تهیں ۔

اس سے آٹه سال پہلے شہریور ۱۹۴۱ ء  میں دوسری عالمی جنگ کے دوران ایران پر حلیف ممالک نے قبضہ کیا تها ۔ رضا خان پہلوی کی آمر حکومت نے بیس سال کے عرصے میں خطیر سرمایہ صرف کرکے فوج کو محض اس لئے مسلح کیا تها کہ اس کے ذریعے اپنے ملک کے عام کا گلہ دبائے ، لیکن یہ فوج قابض طاقتوں کی یلغار کے سامنے ہتهیار ڈالنے پر مجبور ہوگئی ۔ رضا خان کے بیٹے محمد رضا ( معزول شاہ ایران ) نے انکشاف کیا ہے کہ رضا خانی فوج کے سپاہی مشقی گولیاں چلاتے ہوئے جارح طاقتوں سے مقابلہ کرنے سے پہلے ہی محاذ جنگ سے فرار ہوگئے تهے (5) رضا خان پہلوی کو اپنی طاقت پر گهمنڈ تها لیکن ایسے تمام دعؤں کے باوجود اسے تخت سلطنت سے ذلت وخواری کے ساته اتار کر ملک بدر کردیا گیا ۔ ملک پر بیرونی طاقتوں کا قبضہ ایک قومی المیہ سے کم نہیں تها تا ہم ایک نظر سے ایسے آمر شخص کی معزولی عوام کیلئے نا قابل بیان خوشی کا باعث تهی جس کی صرف منقولہ جائداد کی مالیت معزولی تحت وقت ( اس دور میں!)۶۸ کروڑ ریال تهی (6)۔ یہ سرمایہ رضا خان پہلوی نے عوام کو غربت میں مبتلا کر کے قومی ذخائر کو ہڑپ کر کے جمع کیا تها ۔ ان دو بظاہر متضاد رودادوں میں عبرت کی بہت داستانیں چهپی ہوئی ہیں ،حلیف ممالک کے محاذ کے رکن ملک روس کی آشیر باد حاصل  ہونے کے بعد برطانوی سفارتخانے سے محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کا حکم صادر ہوا ۔

اس حکم کے ساته رنج و الم سے بهر پور ایک ۳۷ سالہ دور کا آ غاز ہوا جس میں ملک کی آزادی اور عزت و آبرو کو فروخت کر دیا گیا ۔ شاہ ایران کی متزلزل بادشاہت کے ابتدائی دو سالوں میں عوام کو سکه لی سانس لنے کا موقع فراہم ہوا ۔ (سیاسی) پارٹیاں اور سیاسی رہنما اپنے اغراض و مقاصد کا پر چار کرنے لگے کچه لوگوں نے نیشنلزم کو اپنا اوڑهنا بچهونا بنایا جو نوجوان بادشاہ کی امنگوں کے عین مطابق تها اور بعض لوگوں نے حکومتی اداروں میں اثر و رسوخ بڑهانے اور پاڑلمانی انتخابات میں حصّہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی آ یۃ اللہ مدرس جیسے مجاہد عالم دین اسے برسوں پہلے رضا خان کے کارندوں کے ہاتهوں شہید ہوچکے تهے جن کا وجود ان حالات میں عوامی تحریک کے خیمے کو سہارا دینے والا ستون بن سکتا تها ۔ کمیو نسٹ قوتیں اور غیر ممالک سے وابستہ دیگر سیاسی جماعتیں ماسکو وغیرہ سے ملنے والے پارٹی منشوروں کے مطابق اپنے موقف کا اعلان کرتی تهیں ۔

جس طرح آگے بیان کیا جاچکا ہے کہ ان دنوں حوزہ ہائے علمیہ رضا خان پہلوی کے حملوں کی زد میں آنے اور مصلحت اندیشانہ پالیسی پر گامزن ہونے کی وجہ سے گوشہ نشین ہو کر اپنی معاشرتی ذمہ داریاں نبهانے اورمیدان میں اتر کر حالات کا بهر پور مقا بلہ کرنے کی سکت نہیں رکهے تهے ، تاہم ان سخت ترین حالات میں بهی نواب صفوی جیسے جنگجومجاہد اور ان کے ساتهی اسلامی حکومت کی تشکیل کے نظریئے کے ساته آنے والے کڑے وقت کیلئے مسلح اور مصمم جہاد کی راہ کو مسائل کا حل سمجهتے تهے ۔

رضا خان پہلوی کے دور تشنج میں مجاہدوں کی بے سرو سامانی کی حالت زارامام خمینیؒ نے ان اشعار میں بیان فرمایا تها :

ازجو رضا شاہ کجا داد کنیم             زین دیو بر کہ نالہ بنیاد کنیم

آن آدم کہ نفس بودرہ نالہ بسبت              اکنون نفسی نیست کہ فریاد کنیم (۷)

ترجمہ

کس جگہ ظلم رضا شاہ پہ ایراد کریں             کس سے شیطان کے مقابل طلب داد کریں

               دم تها سینہ میں تو تهی بند رہ نالہ و آہ                  سانس بهی اب نہیں باقی ہے کہ فریاد کریں

امام خمینیؒ نے موقع سے بهر پور فائدہ اٹهاتے ہوئے 1943 ء  میں کتاب کشف الاسرار کی تصنیف و اشاعت کے ذریعے نہ صرف رضا خان پہلوی کی بادشاہت کے بیس سالہ دور میں رونما ہونے والے سانحوں کو بے نقاب کیا ، بلکہ اسلام اور علمائے کرام کا دفاع کرتے ہوئے منحرف عنا صر کے شکوک و شبہات اور طعن و تشنیع کا مدلل جواب دیا ۔ آپ ؒ نے اسی کتاب میں اسلامی حکومت کا تصور پیش کرتے ہوئے اس کی تشکیل کے لئے تحریک چلانے کی ضرورت پر زور دیا تها ۔

اگلے سال اردبیہشت مئی 1944ء  میں امام خمینیؒ کی زندگی کا پہلا سیاسی بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے علمائے اسلام اور اسلامی معاشرے سے کهل کر ایک ہمہ گیر تحریک چلانے کی اپیل کی تهی ۔ اس بیان کا لہجہ ، متن اور مخاطبین واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان افسوسناک حالات میں امام خمینیؒ کو حوزۂ ہائے علمیہ سے کسی بر وقت تحریک کی توقع نہیں تهی بلکہ بیان جاری کرنے کا مقصد خطرے کی گهنٹی بجانا اور نواجوان طالب علموں کو خواب غفلت سے جگانا تها اور جیساکہ توقع کی جاتی تهی ، حضرت امام خمینیؒ کی طرف سے تحریک چلانے کی اپیل پر کوئی خاطر خواہ رد عمل کا اظہار نہیں ہوا لیکن آپ کی شمع وجود کے اردگرد پروانہ وار حلقہ باندهنے والے طلبہ کے ضمیروں میں امید کی کرنیں پهو ٹتی نظر آ رہی تهیں جن کی نگاہوں میں امام ؒ کے حلقہ ہائے درس انس و حقیقت کی محفلیں تهیں ۔

اس کے بعد کی جانے والی جد وجہد سے امام خمینیؒ ؒ کی شخصیت اور سیاسی مواقف مزید وا ضح ہو کر سامنے آئے اور آہستہ آہستہ آپ ؒ کے شاگردوں میں ہم خیال دوستون کا ایک حلقہ قائم ہونے لگا ، جن میں سے اکثر یت ایسے لوگوں کی تهی جو بعد میں ۱۵جون ۱۹۶۳ء  کی تحریک میں اہم کردار اداکرنے کے علاوہ تشنج کے برسوں میں بهی جد وجہد سے باز نہ رہے اور جو لوگ قید وبند اور صعوبتوں سے جان بچانے میں کامیاب ہوئے وہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سخت ترین حالات میں نو بنیاد اسلامی حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز ہوکر بهر پور کردار ادا کرنے لگے ؛۔ حوزۂ علمیہ کی اصلاح کی فکر کو بهی اسی طبقے میں حمایت حاصل ہو رہی تهی لیکن بعض ایسی وجوہات کی بنا پرجن کا ہم نے پہلے ذکر کیا اسے عملی جامہ پہنایا جا سکا تها ۔

دستیاب تاریخی شواہد اور مختلف افراد کی طرف سے لکهی جانے والی یاد داشتوں کی بنا پر آیۃ اللہ بروجر دیؒ کی قیادت کے دوران دینی تعلیمی نظام کے مختلف شعبوں میں تحقیق و جستجو ، درس و تدریس اور بحث و تمحیص کے علاوہ امام خمینیؒ ایک طرف سے مرجعیت اور حو زۂ علمیہ کی با لا دستی کی حمایت کرتے رہے ، دوسری جانب روز مرہ مسائل کے بارے میں اپنے تجزیہ و تحلیل کے ذریعے ، سیاسی اور معاشرتی معلومات کوعام کرنے کے ساته ساته شاہی حکومت کے عزائم سے بروقت پردہ اٹهانے اور منحرف سوچ رکهنے والے آرام طلب عناصر کے نفوذ کو روکنے میں مصروف رہے ۔

درعین حال آپؒ نے تہران کے معتبر سیاسی عناصر اور آیت   اللہ کاشانی ؒ جیسی شخصیات سے بهی رابطہ برقرار رکها اور مختلف طریقوں بالخصوص مجلس شورائے ملی ( پارلیمنٹ) میں ہونے والی بحث و گفتگو کا مستقل جائزہ لیتے ہوئے اور اپنے دور کے مستند  رسائل و جرائد کے مطالعے کے ذریعے روز مرہ حالات پر سنجیدگی سے نظر رکها۔

1949ء  میں ملک کے بنیادی آئین میں تبدیلی اور شاہ کو مطلق العنان بنانے کے لئے مجلس مسؤسسان نامی کونسل کی تشکیل کا چرچاہوا۔ اس کے ساته یہ افواہ پهیلا ئی گئی کہ آیت اللہ العظمیٰ بروجردیؒ ان تبدیلیوں سے متفق ہیں اور بعض سر کاری حکام نے آپ ؒ سے ان امور کے بارے میں صلاح مشورے بهی کئے ہیں

امام خمینیؒ کو ان پروپیگنڈوں پر سخت غصہ آیا اور آیت اللہ بروجردیؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ نے ان سے شکایت کرنے کے علاوہ بعض مراجع اور علمائے کرام کے ہمراہ آیت اللہ بروجردی ؒ کے نام ایک کهلا خط بهی لکها جس میں آپ سے کہا گیا تها کہ اصل صورت حال سے آگاہ فرمائیں ، اس خط کے جواب میں آیت اللہ بروجردیؒ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس معاملے میں کسی قسم کی تردید کی ۔ اس کے ساته ہی آیۃاللہ کاشانی ؒنے بهی ایک بیان جاری کیا جو لبنان میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تهے ۔ آیت اللہ کاشانیؒ نے بیان میں عوام سے شاہ کے خلاف ڈٹ جانے پر زور دیاتها  ۔

پارلیمنٹ کے سولہویں انتخا بات میں آیت اللہ کاشانیؒ تہران   کے عوام کی طرف سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ۔ آیت اللہ کاشانیؒکی مجاہدعلماء کی جماعت کا جبہۂ ملی ( قومی محاذ) نامی پارٹی سے اتحاد ، تیل کی صنعت کو قومیانے کی تحریک کے حامیوں کا پلٹرہ بهاری بنانے اور شاہ کو سخت نقصان پہنچانے کا باعث بنا ۔ فدائیان اسلام گروپ نے جسے آیت اللہ کاشانیؒ کی حمایت حاصل تهی ، بعض کاروائیوں کے دوران شاہ کی پهٹو حکومت کے ڈهانچے پر کاری ضربیں لگائیں۔ قومی محاذ پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مصدق ان حمایتوں کی وجہ سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوا ۔

تہران میں ۱۲ جولائی 1952 ء  کی تحریک نے جنم لیا ، ایرانی قوم اپنی دیرینہ خواہش یعنی تیل کی صنعت کو قومیانے کی خوشیاں منارہی تهی لیکن نہایت قلیل مدت میں اتحاد میں دراڑیں پر گئیں ۔ فدائیان اسلام ،ا ٓیت اللہ کاشانی ؒ اور جبہۂ ملی کے قائدین کے اختلافات آپس میں دشمنی کی حد تک بڑه گئے ۔ مرحوم آیت اللہ کاشانیؒ تیل کی صنعت کو قومیانے کے بدلے ، بر طانیہ کو تاوان ادانہ کرنے کے اپنے فیصلے پر اڑے ہوئے تهے ۔ آپؒ کی رائے یہ تهی کہ ایران کی بجائے انگریزوں کو چاہیئے کہ وہ پچاس سال تک ایرانی تیل کو لوٹتے رہنے کے جرم میں ایران کو تاوان اداکریں ۔ آپ نے اس معاملے میں کسی قسم کی مصالحتی کوششوں اور مذاکرات کے خلاف ڈاکٹر مصدق کو سخت اور دهمکی آمیز وارننگ دی تهی ۔

آ یت اللہ کاشانیؒ اس بات کے بهی شدید مخالف تهے کہ تیل کی صنعت اور ملک کے دیگر اقتصادی میدانوں سے انگریزوں کو نکال کر امریکہ اور امریکی کمپنیوں کو لایا جائے ، جب ڈاکٹر مصدق کی حکومت میں کلیدی عہدوں پر فائز بہت سے افراد اس نظریئے کے کٹرحامی تهے ۔ تیل کو قومیانے کی تحریک میں غیر مذہبی عناصر کی شرکت اور کمیونسٹ تو دہ پارٹی پر اعتماد کا مسئلہ بهی اختلافی مسائل میں سے ایک تها ۔ وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ اور قومی حکومت میں مندر جہ بالا عنا صر کے اثر و رسوخ کے ساته ساته ایک سوچے سمجهے منصوبے کے تحت اسلام مخالف پروپیگنڈے بهی بڑه گئے تودوہ پارٹی کی غداریاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں اور تحریک کا مذہبی دهڑاپس منظر میں چلا گیا ۔ امریکہ نے اس موقع سے بهر پور فائدہ اٹهاتے ہوئے  ۱۹ ۱گست ۱۹۵۳ء  کو فوجی بغاوت کے ذریعے شاہ کی غیر متنازعہ بادشاہت کی ضمانت فراہم کی اور اس کے مخالفین کو کچل کر رکه دیا۔

( تیل کو قومیانے کی ) قومی تحریک کے متعلق امام خمینیؒ کی طرف سے بعد میں جاری ہونے وا لے پیغامات اور تقریروں کے مجموعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آپ ؒ کو ابتداسے ہی اس سیاسی اتحاد کی ناپائداری کاعلم تها۔ ( جو شاخ نازک پہ بنے گا آشیانہ وہ نا پائدار ہوگا ۔ )

قومی تحریک نے اپنے استعمار مخالف مقاصد کی تکمیل کی راہ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تهیں ، لیکن تیل کی صنعت کو قومیانے کا معاملہ حقیقت میں بعض محدود ، عارضی اور وقتی پہلوؤ ں کا حامل ہونے کی وجہ سے بذات خود طویل عرصے تک تحریک کو جاری رکهنے کی ضمانت نہیں دے سکتا تها ۔ تحریک کی نیشنلسٹ شاخ کا اس کے مذہبی دهڑے کے نعروں اور مقاصد پر عقیدہ و ایمان نہیں تها جن کو عام لوگوں کی حمایت حاصل تهی ۔ ایک متفقہ رہنما کا فقدان ، ناپسندیدہ عناصر کا نفوذ ، ایسے مشترکہ سیاسی اور ثقافتی مقاصد کا فقدان جو طویل مدت تک ایران کے مسلمان عوام کی مجموعی حمایت کی ضمانت فراہم کر سکیں یہ وہ اسباب تهے جو امریکہ کی شرارتوں اور غیر ملکی دباؤ سے قطع نظر تحریک کے دوام کو ناممکن بنارہے تهے ۔تیل کو قومیانے کی تحریک چهوٹے پیمانوں پر آئینی تحریک (مشروطیت) کے سیاسی اور معاشرتی حالات اور اس کے نقاط قوت اور کمزوریوں کی صدائے بازگشت تهی ۔ لہذا یہ تحریک بهی اسی انجام سے دچار ہوئی جس سے آئینی تحریک دچار ہوئی تهی ۔ مذہبی دهڑا بهی اتفاق رائے اور عوامی حمایت سے محروم تها ، فدائیان اسلام کی سرگرمیوں اور آیت اللہ کاشانی ؒ کی جد وجہد کو بعض وجوہات کی بناپر نہ صرف یہ کہ اس دور کے سب سے با اثر مرجع دین آیت اللہ العظمیٰ برجردیؒ کی حمایت حاصل نہیں تهی بلکہ ان کے درمیان سخت اختلافات بهی پائے  جاتے تهے ۔

اسی لئے قم میں آ یت اللہ العظمیٰ خوانساریؒ جیسے بزرگوں کی کهلم  کهلا حمایت اور امام خمینیؒؒ جیسی شخصیات کی جزوی حمایت حاصل ہونے کے باجود متحرک مذہبی عناصر حالات میں کسی قسم کی تبدیلی  نہ لاسکے ۔ 

بہر کیف تیل کو قومیانے کی تحریک کی کامیابی کا شیرین مزہ چکهنے سے پہلے ایرانی عوام کواس کے بعد پیدا ہونے والے اختلافات ، ناخوشگوار واقعات اور بالآخر ۱۹ ۱گست کی فوجی بغاوت کے نتائج کا کڑوا گهونٹ پینا پڑا ۔ فدا ئیان اسلام نے اپنی سر گرمیاں ترک نہیں کیں ، لیکن دو سال بعد  ۱۶ نومبر ۱۹۵۵ء  کو اس دور کے وزیر اعظم حسین علاء کے قتل میں ناکامی کے بعد اس تنظیم کے رہنما گرفتار کر لئے گئے ، اس وقت حسین علاء معاہدۂ بغداد( سنٹو) پر دستخط کے لئے بغداد روانہ ہو رہا تها ۔  دسمبر ۱۹۵۵ میں شاہ کی خفیہ عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے بعد فدائیان اسلام کے گرفتار شدہ رہنماؤں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ۔

ان کی پهانسی روکنے کیلئے کی جا نے والی امام خمینیؒ اور دیگر علماء کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوسکیں ۔ اگر چہ یہ ناخوشگوار واقعات    امام خمینیؒ کی حساس روح پر منفی اثرات مرتب کرتے رہے تا ہم یہ جہاد کے اگلے مراحل کیلئے قیمتی تجربے بهی ثابت ہوئے ۔

شاہ اور اس کے درباری فوجی بغاوت کے بعد پہلے سے مختلف حالات میں مکمل طورپر امریکہ کی گو د میں چلے گئے اور برطانوی حکومت نے اپنی جگہ امریکہ کے لئے چهوڑدی ۔ ۱۹۵۷  میں ساواک ( شاہ کی خفیہ پولیس) کا قیام عمل میں آیا، اس ادارے کا قیام ،نیز حکومت کی طرف سے شدت سے مخالفین کو کچلنے اور تشنج کی فضا کو وسعت دینے کا عمل تیزی کے ساته امریکی اصلاحات کے لئے معاشرتی حالات سازگار بنانے کیلئے کیا جارہا تها ۔ ۶۰ - ۱۹۵۰ء  کے دو عشروں میں گذشتہ برطانوی سامراج کی پوزیشنیں سنبهالنے کے لئے امریکی تجارتی کمپنیاں خلیج فارس کی طرف امڈآئیں ۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ اور رقابت کی وجہ خلیج فارس کے فوجی اہمیت کے حامل علاقے کی حساسیت میں اضافہ ہوا ۔ وہائٹ ہاؤس کی للچائی ہوئی نظریں ، ایران اور علاقے کے تیل کے ذخائر پر جمی ہوئی تهیں اسی لئے وہ خلیج فارس میں مغربی مفادات کے تحفظ کی خاطر پولیس میں کے فرائض سونپنے کیلئے علاقے کی دیگر حکومتوں پر شاہ ایران کی حکومت کو ترجیح دیتاتها شاہ کے ساته روابط بڑهانے اور اس کی حکومت کی پشت پناہی کرنے میں امریکہ کا ایک اورمقصد بهی شامل تها ۔ غاصب اسرائیل کے ساته اسلامی ممالک کا مقابلہ ایک ناقابل تردید حقیقت تهی لہذا پہلوی خاندان کی غدارانہ طبیعت اور شاہ کی ذاتی شخصیت ، عالم اسلام میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے مناسب تهی ، اس کے علاوہ تیل کو بهی اس معاملہ میں بنیادی اہمیت حاصل تهی ۔ تیل کے ذخائر سے مالا مال اسلامی ملکوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چهڑنے کی صورت میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتاتها جو مغربی ممالک کے لئے پریشانی کا باعث تها۔ ان حالات میں ایران کے اندر تیل کی تلاش اور تیل نکالنے کے عمل میں ترقی وپیشرفت کے علاوہ شاہی حکومت کا استحکام بحران کی شدت میں کمی کی ضمانت فراہم کر سکتا تها

زراعت کے ڈهانچے پر استوار ایران کا روایتی معاشرتی اور معاشی نظام ، ملک میں امریکی اصلاحات کے نفاذ کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ سمجها جاتا تها جس کی بناپر آنے والے وقت میں تیل کی آمدنی بڑهانے کے لئے ایران کما حقہ آمادہ نہیں ہو سکتا تها ، تاکہ اس آمدنی کوامریکی ساخت کے فوجی اسلحہ اور دیگر مصنوعات کی خریداری کیلئے استعمال کیا جاسکے ۔ لہذا ملکی حالات میں تبدیلی لانے کے لئے سینٹ اور مجلس کے دو ایوانوں کی طرف مختلف بلوں اور مجوزہ پروگراموں کا سیلاب بہایا گیا ، شاہی حکام کی طرف سے بعد میں کئے جانے والے کهلم کهلا اعترافات ،نیز ایران میں امریکہ کے جاسوسی اڈے ( سفارتخانے ) سے ملنے والی دستاویزات اور شواہد کے مطابق ان میں سے اکثر بلوں کے متن امریکہ یا ایران میں امریکی سفارتخانے میں تیار کئے جاتے تهے ۔

اصلاحات ارضی کا پروگرام شاہ کے انقلاب سفید کی منظوری کے لئے اٹها یا جانے والا آزمائشی قدم تها ، یقینا یہ پہلا قدم سوچے سمجهے منصوبے کے تحت اٹهایا گیا تها ۔ اصلاحات ارضی کے حق میں وسیع پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی جس میں سرداروں اور جاگیرداروں کی مخالفت ، غریب کسانوں میں زمینوں کی تقسیم اور زرعی پیداوار میں اضافہ جیسے جهوٹے نعرے شامل تهے ۔

اصلاحات ارضی کے پس پردہ عزائم کی مخالفت بڑے جاگیرداروں کی حمایت کے (بے بنیاد) الزام میں کچلی جاتی تهی ۔ ۱۹۶۱ میں شاہ اور امریکہ کی نئی شرارتوں کے ساته دو ناخوشگوار حادثات بهی رونما ہوئے ۔

۳۰ مارچ ۱۹۶۱ء  کو آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی ؒ رحلت فرما گئے ۔ آپؒ کی گرانقدر خدمات اور علمی شخصیت ایرانی معاشرے میں مرجعیت حاصل کو سب سے زیادہ عوامی اعتماد کی حامل پناہگاہ کی حیثیت حاصل ہونے میں ممدو معاون ثابت ہوگئی تهی ۔ آپ کی یہی حیثیت بذات خود شاہی حکومت کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تهی ،لہذا آپ کی رحلت ایک ناقابل تلافی نقصان سمجهی جاتی تهی ؛ا سی سال ۱۹۶۲ ء کے اوائل میں مجاہد عالم دین آیۃ اللہ کاشانیؒ بهی دارفانی کو وداع کہہ گئے جن کا نام سن کر ایک زمانے میں شاہ یاران پر لرزہ طاری ہوتا تها ۔ امام خمینیؒ نے آیۃ اللہ بروجردیؒ کی وفات کے بعد حوزۂ علمیہ اور عوام کی طرف سے پذیرائی کے باوجود اپنی زندگی کے گذشتہ مراحل کی طرح مرجعیت کے حصول کیلئے کسی قسم کے اقدام سے گریز کیا ، نہ صرف یہ بلکہ اس معاملے میں آپؒ اپنے عقیدتمندوں کی تجویزات اور اقدامات کو سختی سے رد کرتے تهے ، در حالیکہ آپ نے آیت اللہ بروجردیؒ کی رحلت سے پانچ سال قبل فقہ کی مشہور کتاب عروۃ الوثقیٰ کے تمام ابواب پر شرح لکهنے کا کام مکمل کیا تها ، انہی برسوں میں آپ نے فقہی رسالہ عملیہ کے طورپر ( آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالحسن اصفہانی کی کتاب ) وسیلۃ النجاۃ پر بهی شرح لکهی تهی ۔ اور اس سے کئی سال قبل شرح چہل حدیث سر الصلاۃ اور آداب نماز جیسی کتابیں تصنیف کی تهیں جن میں دنیا کے بارے میں آپ کا زاہدانہ نقطہ نگاہ اور دنیوی اعتبار کے حامل منصب و مقامت کی تحقیر کے علاوہ گہرے اخلاقی اور عرفانی موضوعات پر بحث کی گئی ہے ۔ شاہی حکومت ، آیت اللہ بروجردی ؒ کی رحلت کے بعد امریکہ کی مدنظر اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تیزی سے سرگرم عمل ہوئی بلکہ اس نے مرجعیت کو ایران سے باہر منتقل کرنے کے لئے جدوجہد شروع کی ، لیکن اس کی کوششیں ناکام ہوگئیں ۔

۸ اکتوبر ۱۹۶۲ ء  کو امیر اسد اللہ علم کی کابینہ نے ایک بل کی منظوری دی جس کی روسے علاقائی اور صوبائی کونسلوں کے رائے دہندگان اور امیدواروں کے مسلمان ہونے ، قرآن مجید پر حلف اٹهانے کے علاوہ امیدواروں اور رائے دہندگان کے مرد ہونے کی شرائط حذف کر دی گئی تهیں ، نیز بعض دیگر عزائم پر ، پردہ ڈالنے کیلئے خواتین کو انتخابات میں حصّہ لینے کی آزادی دی گئی تهی ۔ مندرجہ بالا اول الذکر دو شرائط کا حذف اور ان میں تبدیلی براہ راست بہائی مذہب کے پیروکاروں کو کاروبار مملکت کے حساس معاملات میں حصّہ دار بنانے کی خاطر کی گئی تهی۔ اس سے پہلے اشارہ کیا جاچکاہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کافروغ اور شاہی حکومت کی طرف سے اسرائیل کی حمایت ، امریکہ کی جانب سے شاہ کی پشت پناہی کے ساته مشروط تهی ۔ ایران کے تینوں بنیادی ادروں میںاستعماری بہائی مذہب کے پیروکاروں کا اثر و رسوخ ان شرائط کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تها ۔ لہذا مذکورہ بالا بل کی منظوری کی اطلاع ملتے ہی امام خمینیؒ نے قم اور تہران کے دیگر اکابر علماء کے ساته اصلاح مشورے کے بعد بهرپور مخالفت کا اعلان کیا۔

شاہ ایران کے اصل عزائم کو بے نقاب کرنے کے علاوہ علما اور دینی مدارس کی بهاری ذمہ داری کا احساس دلانے میں امام خمینیؒ کا کردار بہت ہی اہم اور مؤثر تها ، اور اسد اللہ علم کے نام علماء کے کهلے احتجاجی خطوط سے عوام کے مختلف طبقات کی طرف سے علماء کی حمایت کی ایک لہر پیدا ہوئی ۔

شاہ اور وزیر اعظم کے خلاف امام خمینیؒ کے ٹیلگراموں کا لہجہ  بہت تیز اور دهمکی آمیز تها ۔ آپ کے ایک ٹیلگرام میں کہاگیا تها : ’’میںایک بار پهر تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ خداوند متعال اور آئین کی پیروی کے لئے اپنا سرخم کرو، قرآن مجید ، علمائے قوم اور مسلم عمائدین کے احکام کی خلاف ورزی کے سخت نتائج سے ڈرو، جان بوجه کر  کسی وجہ کے بغیر ملک کو خطرات سے دچار نہ کرو، ورنہ علمائے    اسلام تمہارے خلاف بولنے سے دریغ نہیں کریں گے (8) ‘‘ ۔

ابتدامیں شاہی حکومت نے علمائے کرام کو دهمکیاں دیں اور ان کے خلاف غلط پروپیگنڈے شروع کئے ۔اسد اللہ علم نے ریڈیو پر ایک انٹریو دیتے ہوئے کہا : ’’ حکومت اپنے مجوزہ اصلاحی پروگرام کو بند نہیں کرے گا ! ‘‘ لیکن اس کے باوجود عوامی تحریک روز بروز پکڑتی گئی ، تہران ، قم اور بعض دوسرے شہروں میں بازار بند کئے گئے اور عوام ، علماء کی حمایت میں مسجدوں میں جمع ہوئے اس واقعے کے ڈیڑه ماہ بعد حکومت کے موقف میں معمولی تبدیلیاں آئی ، شاہ اور وزیراعظم کے نام علماء کے خطوط کا جواب دیتے ہوئے ان کی ہمدردیاں اور توجہ حاصل کرنے کی سعی کی گئی ؛ شاہی حکومت امام خمینیؒ کی شخصیت اور ان کے غیر لچکدار روئیے کا علم تها ، اسی لئے جان بوجه کر آپ کے ٹیلگرام کا جواب نہیں دیا گیا۔ حوزۂ علمیہ کے بعض علماء نے حکومت کے اس موقف کو کافی قرار دے کر تحریک کے خاتمے کا عندیہ دیا لیکن امام نے اس کی سخت مخالفت کی ۔ آپ کی رائے یہ تهی کہ حکومت کو علاقائی اور صوبائی کونسلوں کا قانون سرکاری طورپر اور عملا منسوخ کرنے کا اعلان کرناچاہییٔ ۔

قم کے بعض کاروباری حضرات اور تاجروں کے سوال پر آپ نے ایک جوابی بیان جاری کی ا، اس بیان میں امام ؒ نے شاہی حکومت کی طرف سے پاس کئے جانے والے اس بل کے عزائم فاش کئے تهے ، جن کا مقصدسر کاری اداروں میں بہائی عناصر اور اسرائیلی جاسوسوں کا نفوذ تها ۔ امام ؒ نے کهل کر فرمایا تها : ’’ جب تک یہ خطرے ٹل نہیں   جاتے ہماری مسلمان قوم خاموش نہیں رہے گی اور اگر کوئی خاموش رہاتووہ اللہ تعالی کے سامنے جوابدہ اور اس دنیا میں بهی ذلیل ہو گا ۔ ‘‘ بیان میں امام ؒ نے حکومت کے تجویز کردہ بل کی منظوری دینے کے سلسلے میں سینٹ اور مجلس شورائے کے اراکین کو للکارتے ہوئے لکها تها : ’’ مسلمان قوم اور علماء اسلام زندہ جاوید ہیں وہ ہر اس غدار کا ہاته کاٹ پهینکیں گے جو اسلام کے اصول اور مسلمانوں کی عزت و آبرو کی طرف اپنا ہاته بڑهائے گا (9) ‘‘ ۔

بالآخر شاہی حکو مت نے شکست تسلیم کرلی اور ۲۸ نومبر1962 کو سرکاری طورپر حکومتی کابینہ نے منظور شدہ بل منسوخ کرکے اس کی اطلاع تہران اور قم میں علماء اور مراجع دین کو دے دی ۔ علمائے قم کے اجلاس میں امام خمینیؒ نے ایک بار پهر دو ٹوک الفاظ میں ، بند کمرے میں بیٹه کر بل کو منسوخ کرنے کے معاملے کی مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک بل کی منسوخی کی خبر ذرائع ابلاغ میں نشر نہیں کی جائے گی اس وقت تک تحریک جاری رہے گی ۔ اس کے دوسرے دن علاقائی اور صوبائی کونسلوں سے متعلق قانون کے بل کو منسوخ کرنے پر مبنی خبر سرکاری اخباروں میں شائع ہوئی اور عوام نے تیل کی صنعت کو قومیانے کی تحریک میں کامیابی کے بعد نصیب ہونے والی اس عظیم کامیابی کا جشن منایا ۔

خوشی ومسرت کے ان دنوں میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے امام نے فرمایا: ’’ ظاہری شکست کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، بلکہ اصل بات نفسیاتی شکست کی ہے ۔ جس کا رابطہ اللہ تعالی سے ہو وہ شکست سے دچار نہیں ہو سکتا ، شکست تو اس کی ہوتی ہے جس کی غرض و غایت دنیا ہو ۔ ۔۔ خدا شکست نہیں کها سکتا ۔’’ ولا تهنوا ولا تحزنوا۔‘‘ اس حادثے کے کے آ غاز سے لے کر آج تک گذشتہ دو مہینوں میں،بعض راتوں کو میں صرف دو گهنٹے سو سکا ہوں ۔۔۔۔۔۔ پهر بهی اگر ہمیں ملک کے باہر سے کوئی شیطان ہمارے ملک کی طرف ہاته بڑهاتے ہوئے نظر آئے تو یہ ہم ہیں اور وہ حکومت ۔۔۔۔۔ نصیحت کرنا فرض ہے ۔ ۔ ۔ ۔علماء کو چاہییٔ کہ شاہ سے لے کر ان لوگوں تک اور ملک کے آخری فرد تک سب کی نصیحت کریں (10) ‘‘۔

علاقائی اور صوبائی کونسلوں کے قانون کا مسئلہ ایرانی عوام کے لئے ایک کامیاب اور بڑا تجربہ تها ، بالخصوص اس نقطہ نگاہ سے کہ اس مسئلے میں قوم کو ایسی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا علم ہوا جو ہر لحاظ سے امت مسلمہ کی قیادت کی شایستگی رکهتی ہے ؛۔اس مسئلے میں شاہ کی شکست کے باوجود اپنی من پسند اصلاحات کے نفاذ کے لئے امریکہ کا دباؤ بڑهتا گیا ۔ ۱۹۶۳ ء کی ابتدا ء میں شاہ نے اپنی اصلاحات کے چه اصولوں کی تشریح کرتے ہوئے اس پر ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر قوم پرست جماعتوں نے بهی یہ نعرہ لگاکر اس کو گرین سگنل دے دی کہ : ’’ اصلاحات ہاں۔ آمریت نہیں‘‘ کمیونسٹ عناصر نے ریڈیو ماسکو کے ہاں میں ہاں ملاکر انقلاب سفید کے اصول کو ترقی پسندانہ قرار دیتے ہوئے تجزیہ پیش کیا کہ شاہی اصلاحات منطقی طورپر جاگیردارانہ نظام کو صنعتی اور سرمایہ داری نظام میں تبدیل کرنے کے عمل میں تیزی پیدا کر سکتی ہیں ، چنانچہ انہی عناصر نے  ۵ جون ۱۹۶۳ء  کی تحریک رجعت پسندانہ اوع جاگیرداروں کے مفاد کے مطابق قرار دیا(۱1)

امام خمینیؒ نے قم کے علماء اور مراجع عظام کو نئی صورت حال سے نمٹنے کی خاطر ضروری اقدام پر غور و خوض کے لئے مل بیٹهنے کی دعوت دی ، لیکن تحریک چلانا ان لوگوں کو آنکه نہیں نبها تاتها جو مذہبی رہنماؤں کی طرف عوام کے دینی معاملات کے حل و فصل کے نرم زاوئے سے دیکهتے تهے ، اسلامی معاشروں کے مسائل و مشکلات کی نسبت ذمہ داریوں کے نطقہ نگاہ سے نہیں ۔ امام ؒ شاہی اصلاحات اور اس سے متعلق ریفرنڈم کے پیچهے چهپے ہوئے حقائق سے بخوبی آگاہ تهے اور آپ کی نظر میں ان سے مقابلہ کرنا ضروری تها ، تاہم اس نشست میں متفقہ طورپر یہ فیصلہ کیا گیا کہ شاہ کے ساته گفتگو کرکے اس کی رائے پوچهی جائے چنانچہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے مذاکرات کیلئے نمایندوں کے ذریعے کئی مرتبہ پیغامات کا تبادلہ ہوا ۔ شاہ نے آیۃ اللہ کمال وندؒ سے ملاقات کے دوران دهمکی دی تهی کہ اصلاحات کسی قیمت پر نافذ ہو کر رہیں گی چاہے اس کے لئے خون بہانا یامساجد کو ویران کرنا پڑے (۱2) ۔

علمائے قم کے اگلے اجلاس میں امام خمینیؒ نے شاہ کے مجوزہ ریفرنڈم کا علی الاعلان بائیکاٹ کرنے کی تجویز پیش کی ، لیکن اجلاس میں شریک مصلحت پسند لوگوں نے ایسے حالات میں مقابلہ کرنے کو چٹان سے سر ٹکرانے کے مترادف سمجهتے ہوئے اسے بے سود قرار دیا! آخر کار امام ؒ کے اصرار اور اپنے موقف پر ثابت قدم رہنے کیوجہ سے یہ طے پایا کہ مراجع عظام اور علماء کرام ریفرنڈم کی کهلم کهلا مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے اس میں حصّہ لینے کو حرام قراردیں گے ۔

امام خمینیؒ نے ۲۲جنوری ۱۹۶۳ ء  کوایک زوردار بیان جاری فرمایا (۱3) ۔ جس کے بعد تہران کا مرکزی بازار بند ہوا اور پولیس کے کارندوں نے عوام کے اجتماع پر حملہ کیا۔ جوں جوں زبردستی مسلط کیا جانے والا ریفرنڈم نزدیک ہوتا گیا توں توں عوام کی مخالفت بهی بڑهتی چلی گئی ، شاہ نے عوامی مخالفت کی لہر کو کم کرنے کے لئے ۴ بہمن (۲۴ جنوری) کو مجبورا قم کا دورہ کیا ۔ امام خمینیؒ نے پہلے ہی بعض علماء کی طرف سے شاہ کوخوش آمدید کہنے کی تجویز کی شدت سے مخالفت کی تهی ، نہ صرف یہ بلکہ آپ نے شاہ کی قم آمد کے دن عوام سے گهروں اور مدرسوں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کی تهی ۔ یہ بائیکاٹ اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ نہ صرف قم کے علماء اور عوام بلکہ آستانہ مقدسہ حضرت معصومہ ؑ کے متولی بهی جو شہر کے اعلیٰ ترین سرکاری عہدے دار سمجهے جاتے تهے شاہ کے استقبال کے لئے نہیں گئے اور اسی وجہ سے انہیں معزول کردیا گیا ۔

شاہ نے بعض حکومتی کارندوں اور تہران سے قم اپنے ساته لائے ہوئے پٹهوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام اور عوام کے خلاف نازیبا الفاظ میں اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ۔ا س کے دو دن بعد مجوزہ غیر قانونی ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں حکومتی ایجنٹوں کے سوا کسی نے حصّہ نہیں لیا ، حکومتی ذرائع ابلاغ امریکی حکام اور یورپی ممالک کی طرف سے مبارک باد کے پیغامات کو بار بار نشر کرکے ریفرنڈم میں عوام کی عدم شرکت کی خفت و رسوائی کو مٹانے کی ناکام کوشش کرتے رہے ، امام خمینیؒ نے تقریروں اور بیانات کے ذریعے (شاہی عزائم سے ) پردہ اٹها یا۔ آپ کاایک زردار بیان جومدلل طور لکها گیا تها نو دستخطوں والے بیان کے نام سے مشہور اور جاری ہوا (14) ۔ اس بیان میں شاہ ایران اور اس کی پٹهو حکومت کے بعض خلاف آئین اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیش گوئی کی گئی تهی کہ شاہی اصلاحات کے حتمی نتائج میں زراعت کی تباہی ، ملکی آزادی کی پامالی ، برائی اور فحاشی کا فروغ شامل ہو گا ۔

شاہی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امام خمینیؒ کے کہنے پر ۲۱ مارچ ۱۹۶۳ء  نوروز کے تاریخی تہوار کا بائکاٹ کیاگیا ۔ امام ؒ نے اپنے بیان میں شاہ کے انقلاب سفید کو انقلاب سیاہ سے تعبیر کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی مقاصد کی حمایت کا پردہ چاک کیا، آپؒ نے اعلان فرمایا تها : ’’ میری نظر میں اس کے سوا کوئی راہ حل نہیں ہے کہ یہ آمر حکومت اسلامی احکامات کی خلاف ورزی اور آئین کی پامالی کے جرم میں معزول ہوجائے اور اس کی جگہ ایسی حکومت کو برسر اقتدار آنا چاہییٔ جو اسلامی اصول کی پابند اور ایرانی قوم کی ہمدردہو ، خدا یا میں نے اس وقت اپنا فرض ادا کیا ہے ’’ اللّہمّ قد بلغت ‘‘ ( خدایا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے ) اور اگر میں زندہ رہا تو اللہ تعالی کی مشیت سے آئندہ بهی اپنی      ذمہ داریاں نبهاتا رہوں گا (15) ‘‘ اس قسم کے خیالات صر ف وہی لوگ سمجه سکتے ہیں جنہوں نے اس دور میں ایران کے خوفناک زندانوں اور گهٹن سے بهر پور فضا کا مشاہدہ کیا ہو کیونکہ اس دور میں معمولی تنقید کی وجہ سے اذیت و آزار ، قید و مشقت او رشہر بدری یاجلاوطنی کی سزائیں دی جاتی تهیں ۔

دوسری طرف شاہ ایران نے واشنگٹن کے حکام کو یقین دلایا تها کہ ایرانی معاشرہ امریکی اصلاحات کے نفاذ کیلئے آمادہ ہے اور اب اصلاحات کانام اس نے انقلاب سفید رکهاتها لہذا علماء کی مخالفت اس کیلئے سخت ناگوار گذرتی تهی ۔ اسی وجہ سے علمائے کرام اور     امام خمینیؒ کے خلاف وسیع پیمانوں پر غلط پروپیگنڈے ہونے لگے ۔ شاہ تحریک کو کچلنے کا ارادہ کر چکا تها ۔ ۲۲ مارچ ۱۹۶۳ کو جو یوم شہادت حضرت امام جعفر صادق  ؑ کے مطابق تها حکو مت کے مسلح  کارندوں نے سادہ لباس میں مدرسۂ فیضیہ میں گهس کر دینی علوم کے طلبہ کے اجتماع کو درہم برہم کیا ، جس کے بعد  پولیس کے اہلکاروں نے آتشین اسلحہ سے وحشیانہ اندز میں مدرسۂ فیضیہ پر حملہ کرکے طلبہ کو شہید یا زخمی کیا ۔ اسی دوران تبریز کے مدرسۂ طالبیہ پربهی سرکاری کارندوں نے حملہ کیا ۔ ان سانحوں کے بعدقم میں امام خمینیؒ کادولت کدہ انقلابی قوتوں اور پهرے ہوئے عوام کے اجتماع کامرکز بنا رہا جو علماء کے ساته اپنی ہمدردی اور حمایت کے اظہار کے علا وہ حکومتی جرائم کے اثرات کا مشاہدہ کرنے کے لئے روزانہ قم آتے تهے ۔

عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران امام خمینیؒ شاہ کی پرواکئے بغیر ، اسے اصل مجرم اور اسرائیل کا حلیف قرار دے کر عوم کو انقلاب کی دعوت دیتے تهے ۔  یکم اپریل ۱۹۶۳ کے دن اپنے خطاب میں امام ؒ نے شاہ کے تازہ ترین جرائم کے سامنے قم ، نجف اشرف اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء کی خاموشی پر شدت سے تنقید کرتے ہوئے فرمایا: ’’ آج خاموش رہنا جابر حکومت کی ہمنوائی کے مترادف ہے ۔ (16) ‘‘ اس کے دوسرے دن امام خمینیؒ نے اپنا مشہور بیان جاری کیا ، اس کا عنوان تها : ’’ شاہ نوازی کا دوسرا مطلب غارت گری ‘‘ یہ امام ؒ کے سب سے زیادہ شدید اور زوردار بیانات میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں آپ نے شاہی حکومت پر کڑی تنقید کرنے کے بعد آخرمیں تاکید کی تهی کہ ان حالات میں تقیہ کرنا حرام اور حقائق بیان کرنا فرض ہے ( و لوبلغ مابلغ ) اسی بیان میں امام نے شاہ اور اس کے کارندوں کو مخاطب کرکے لکها تها : ’’ اب میں نے اپنا سینہ تمہارے کارندوں کی سنگینوں کے سامنے تان لیاہے ،لیکن میں تمہاری زورآزمائی قبول کرنے اور تمہارے جبر و استحصال کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار ہوں (17) ۔

امام ؒ نے انتہائی غور وخوض کے بعد اپنا راستہ منتخب کیا تها ، آپ تلخ وشیرین سیاسی تجربوں اور جہاد کا بهاری بوجه پشت پر اٹهاکر ہولناک حوادث کی خطرناک راہ پر چل نکلے تهے ۔ آپ ماضی کے فیصلے کے تابع تهے اور نہ مستقبل کے حکم کاانتظار کرتے تهے بلکہ اپنی شرعی ذمہ داری کے پابند تهے ، آپؒ  کا نصب العین فرض کی ادائیگی ’’ ولوبلغ مابلغ ‘‘ ( جتنا ہوسکے پیغام پہنچا نا ) تها ۔ امام خمینیؒ کی منطق میں ’’شکست اور فتح ‘‘ کے معنی اس مفہوم کے بر عکس تهے جو پیشہ ور سیاستداوں کے ہاں پایا جاتا ہے ، دنیا کے اکثر نامور مجاہد ، رہنما اور سیاسی شخصیات ابتدا میں کسی نہ کسی طریقے سے معرکہ کارزار میں قدم رکهتے ہیں ، اس کے بعد اپنے گریبان کے اندر جهانک کر اپنے کردار پر توجہ دیتے ہیں ، اور اس طرح کی کش مکش میں ان کی شخصیت تشکیل پاتی ہے ، لیکن اس کے برخلاف ، جب ۱۹۶۳ء  میں امام خمینیؒ انقلاب اسلامی کی قیادت کا کردار ادا کرنے لگے تو اس سے کئی سال پہلے آپ تزکیہ نفس اور جہاد اکبر کے مراحل سے گذر کر اعلیٰ پیمانوں پر روحانی فضائل اور حقیقی معارف حاصل کر چکے تهے ۔ امام ؒ  تعمیر ذات اور باطنی جہاد کو بیرونی جہاد پر مقدم سمجهتے تهے ، بلکہ آپؒ کا کہنا تها کہ علم توحید سمیت مختلف علوم کا حصول بهی اگر تزکیہ نفس کے ہمراہ نہ ہو توایک حجاب کے علاوہ کچه بهی نہیں اور اس کے ذریعے حقیقت تک رسائی حاصل نہیں  ہوسکتی ہے ۔ 

۲ اپریل 1963 ء کے بیان میں پائے جانے والے امام خمینیؒ کے شدید اورسخت فقرے اور اسی طرح کے دیگر جملات جو امام کی تصانیف میں ملتے ہیں وہ ایسے سیاسی فقرے نہیں ہیں جو اپنے حریف کو میدان سے بهگانے کیلئے کسے  گئے ہوں بلکہ وہ ایک ایسی شخصیت کے وجود کی گہرائیوں سے اٹهنے والے حقائق ہیں جو دنیا کو خداوند عالم کا محضر سمجهتی تهی ۔ امام ؒ کی نہ شاہ ایران سے کوئی ذاتی دشمنی تهی اور نہ ہی صدام ، کارٹر ، ریگن یادوسرے لوگوں سے جن کے ساته تحریک کے دوران آپؒ کا آمناسامنا ہوا تها امام خمینیؒ ، انسانی معاشرے کی اصلاح ، شیطان کے چیلوں کے چنگل سے بنی نوع انسان کی نجات اور انسانیّت کی اپنے فطری تشخص کی طرف واپسی کو بارے میں سوچتے تهے جو الٰہی اوررحمانی تشخص ہے ۔ آپ جہاد کی طرف بهی اسی زاوئے سے دیکهتے اور اسے پہلے کہ دوسروں کو ان اصولوں کی طرف دعوت دیں خود ان پر یقین حاصل کرنے کے بعد عمل پیرا ہوتے تهے ۔

امام خمینیؒ کی کامیابیوں کا راز، نفسانی خواہشات کے ساته آپ کے مقابلہ اور حقیقی شہودی معرفت حاصل کرنے کے لئے کی جانے والی انتهک جد وجہد میں مضمر ہے ، امام ؒ کی شخصیت کے نفسیاتی ، روحانی اور علمی پہلوں کے تکمیلی مراحل کا جائزہ لئے بغیر آپؒ کی سیاسی جد وجہد کے اہداف اور محرکات کو سمجهنا ناممکن ہے ۔

چشم فلک نے بہت سے بلند مرتبہ مجاہدوں اور انقلابیوں کو دیکها ہے لیکن جو عنصر امام کے کارنامے کو عظمت بخشتا اور آپؒ کے  انقلاب کو دوسرے انقلابوں سے جداکرکے اسے انبیاء ؑ کی تحریک سے ملا تاہے وہ یہ ہے کہ آپؒ ایسی شخصیت کے مالک تهے جس نے بیسیوں صدی میں اسلامی انقلاب برپا کیا اور ان تمام لوگوں کے بقول جو ہمیشہ آپؒ کے ساته رہتے تهے ، حد بلوغ کو پہنچنے کے بعد سے تحریک کے آغاز تک اور اس وقت سے لے کر دنیائے فانی سے کوچ کرجانے تک عمر کے کسی بهی مرحلے پر آپ نے واجبات اور دینی فرائض کی ادائیگی تو درکنار ایک رات بهی نماز تہجد اور رات کی عبادتیں نہیں چهوڑی تهیں ، پیرس کے مضافاتی مقام نوفل لوشاتو میں قیام کے اخری دنوں میں نماز کا وقت ہونے پر مامؒ فرانس میں اپنی آخری پریس کانفرنس کو ادهورا چهوڑ کر نماز پڑهنے کیلئے اٹه کر چلے گئے جب تک اس پریس کانفرنس کی کوریج کے لئے دنیا بهر کے سینکڑوں نامہ نگار اور کیمرہ مین جمع ہوگئے تهے اور آپؒ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صرف چند منٹ گذر گئے تهے ۔

مخاطبین میں امام خمینیؒ کے پیغامات اور اقوال کی حیران کن  تاثیر جان نثاری کی حد تک پہنچتی تهی ، اس کاراز آپ کی بنیادی فکر، قوت فیصلہ اور عوام کے ساته آپؒ کے بے لوث خلوص میں  مضمرہے ۔

جہاد کے دوران پالیسی اصول کا اعلان ، واضح اور دو ٹوک مواقف کا اظہار ، ان مواقف سے عدم انحراف اور اغراض و مقاصد کے حصول کی راہ میں مصمم عزم و ارادہ ، امام خمینیؒ کے انقلاب کی وہ نمایاں خصو صیات ہیں جن کا اعتراف دوست اور دشمن دونوں کرتے ہیں ۔ شاہ اور امریکہ سے مقابلے کے تمام عرصے میں امام کے بیانات اور سیاسی مواقف کے جائزہ اور دیگر مذہبی اور سیاسی رہنماؤں ، جماعتوں اور گروہوں سے ان کے موازنے سے یہ حقیقت کهل کر سامنے آتی ہے کہ اغراض و مقاصد کوعملی جامہ پہنانے کیلئے ثابت قدمی اور تحریک کو جاری رکهنے میںعزم و حوصلے کے بارے میں دوسرے لوگوں کے ساته آپؒ کا نمایاں فرق پایا جاتا ہے

تاریخی شواہد اور دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ انقلاب کے آغاز میں ۶۳۔۱۹۶۱ م  کے دوران بہت سی جماعتیں اور بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی رہنما میدان کارزار میں کودپڑے تهے جنہوں نے بعض مراحل پر سخت ترین مواقف کا اظہار بهی کیا تها، لیکن شاہی حکومت کے پہلے حملے میں ہی وہ پیچهے ہٹ گئے ، ان میں سے کچه افراد گوشہ نشین ہوکر طویل خاموشی اختیار کرتے ہوئے ۱۹۷۹م  میں انقلاب کے عروج کے دنوں تک اسی حالت میں قائم رہے اور بعض افراد فورا انقلاب کی قیادت کے مواقف سے اختلاف رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایران میں امریکی مداخلت پر مبنی استعماری پالیسیوں اور ملک میں اغیار کی بالا دستی قائم کرنے والے ایجنٹ کی حیثیت سے بادشاہت کے اصول اور شاہی حکومت کی مخالفت کرنے کی بجائے فروعی مسائل کو اچهالنے کے علاوہ ’’آزادانتخابات اور ’’ آئینی بادشاہت کے نفاذ ‘‘ کی راگ الاپتے رہے،معاصر ایرانی تاریخ سے واقفیّت رکهنے والوں پر یہ بات کوئی ڈهکی چهپی نہیں ہے کہ اس مرحلے پر ایرانی معاشرے میں ایسے نعرے لگانے کا نتیجہ لوگوں کو بنیادی عناصر کے خلاف مقابلے کی عوامی تحریک کی راہ سے منحرف کرنے کے سوا کچه بهی نہیں نکلتا تها ، اسی لئے شاہ کی ساواک فورس اس طرح معاملات کی حوصلہ افزائی کرتی تهی۔

امامؒ اور آپؒ کے پیروکار ہی جہاد کی تمام مدت میں اپنے بنیادی مواقف سے سرمو منحرف ہوئے بغیر ہر قسم کی سختیوں اور فراز و نشیب کے باوجود اپنا ان اہداف کے حصول کی راہ میں استقامت اور جاں  فشانی کا مظاہرہ کرتے رہے جن کا اعلان انہوں نے اپنی تحریک کے آغاز میں کیا تها ، جبکہ ان کی راہ میں حائل ہونے والی الجهنوں میں سے ہرایک الجهن مواقف میں تبدیلی ، خاموشی اختیار کرنے یا ساز باز قبول کرنے کا سبب بن سکتی تهی، روز مرہ سیاسی اور معاشرتی حالات کے تقاضوں سے ہٹ کر بنیادی اصول اور روشن حقائق پر یقین رکهے بغیر اس طرح کی پائداری اور استقامت حاصل نہیں ہوسکتی ہے ۔

۱۹۶۳م کا آغاز عید نوروز کی تقریبات کے بائیکاٹ اور مدرسۂ فیضیہ کے مظلوموں کے لہو رنگ سانحے سے ہوا، شاہ امریکہ کی من پسند اصلاحات کے نفاذ پرمصر تها ۔امام خمینیؒ عوام کو آگاہ کرتے ہوئے امریکی مداخلتوں اور شاہ کی غداریوں کے خلاف تحریک چلانے پر ڈٹے ہوئے تهے ۔ ۳اپریل ۱۹۶۳م  کے دن آیۃاللہ العظمیٰ حکیمؒ نے ایران کے علماء اور مراجع عظام کو ٹیلگراموں کے ذریعے نجف اشرف کی طرف اجتماعی ہجرت کی دعوت دی ۔ یہ تجویز علماء کی جان کی حفاظت اور حوزہ ہائے علمیہ کے اعلیٰ مقاصد کے تحفظ کی خاطر دی گئی تهی ۔ شاہی حکومت نے کچه کاروائیوں کے ذریعے آیۃاللہ حکیمؒ اور علمائے کربلا و نجف کی طرف سے ایرانی علماء کی حمایت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے  آیۃ اللہ حکیمؒ کے ٹیلگرام کو جواب دینے سے علمائے کرام کو روکنے کے لئے قم کی طرف فوج بهیجی ۔ اس کے ساته مراجع عظام کے گهروں میں نمایندے بهیج کر شاہ کا دهمکی آمز پیغام پہنچایا گیا ۔   امام خمینیؒ نے حکومتی نمایندوں کو گهر میں داخل ہونے سے منع فرمایا اس کے بعد ۲ / ۵ / ۱۹۶۳ ء  کے دن اپنی تقریر میں شاہ کو مردک ( پست آدمی) کا خطاب دیتے ہوئے اس مسئلے کی طرف یوں اشارہ فرمایا: ’’ وہ پست آدمی پولیس کے سربراہ کو ، اس خبیث حکومت کے سربراہ کو بهیجتا ہے ، حضرات(مراجع) کے گهروں میں ان کو بهیجتا ہے ، میں نے ان کوگهر میں آنے نہیں دیا ۔ کاش میں اس دن ان لوگوں کو آنے دیتا اور ان کا منہ توڑ کر رکه دیتا ، وہ حضرات ( مراجع) کے گهر کہلا بهیجتے ہیں کہ اگر فلاں مسئلے کے متعلق تمہارا منہ کهل گیا ، اعلیٰ حضرت ( شاہ) ! نے فرمایا ہے کہ اگر تمہاری زبان کهل گئی تو (کارندے) بهیج کر تمہاری خواتین کی بے حرمتی کریں گے!!

امام خمینیؒ نے ان دهمکیوں کی پروا کئے بغیر آیت اللہ العظمیٰ حکیمؒ کے ٹیلگرام کا جواب دیا ۔ اس میں آپؒ نے کهل کر لکها تها کہ علماء کی اجتماعی ہجرت اور حوزہ علمیہ قم کو خالی کرنا مصلحت کے مطابق نہیں ہے ۔ ٹیلگرام میں آگے چل کر آپؒ نے فرمایا تها : ’’ ہم انشاء اللہ اپنا الٰہی فریضہ انجام دیں گے اور احدی الحسنین کو حاصل کرکے رہیں گے ’’ اسلام اور قرآن مجید سے غداروں کے ہاته کاٹنا یا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمکنار ہونا ‘‘انی لا اری الموت الا السعادۃ ولا الحیوٰۃ مع الظالمین الا برماً ’’ (میں موت کو سعادت کے سوا کچه نہیں سمجهتا اور ظالموں کے ساته زندگی کو ننگ و عار سمجهتا ہوں) (18)

 

فٹ نوٹس:

1/ ۔ صحیفہ امامؒ ، ١٢ ،ص ٣٧٤ ۔
2/ ۔ مندرجہ بالا مأ خذ ، ج ١١ ،ص ١٢۔ ١٣ ۔
3/ ۔ مندرجہ بالا مأخذ ، ج ٦ ،ص ٢٩٩ ۔
+ / ۔ امام خمینیؒ نے ١٣٠٨ ه ش ( ١٩٢٩ ء ) میں آیت اللہ میرزا محمد ثقفی تہرانی ؒ کی دانشمند بیٹی ( خدیجہ ثقفی ) سے شادی کی تهی ۔
4/ ۔ امام خمینیؒ نے اپنے خطابات میں اس بات کی طرف اشارہ کیاہے کہ آپؒ ؒ نے رضاخان( پہلو) دور کی مجلس شورائے ملی کے بعد بعض اجلاسوں کو نزدیک سے دیکها ہے اور اس زمانے کی سیاسی محاذ آرائیوں بالخصوص مجلس (پارلیمنٹ) کے صحن میں رضاخان کے خلاف عظیم مجاہدآیت اللہ مدرس کی جو وجہد کا مشاہدہ فرمایا ہے ۔
5/ ۔ دیکهئے : '' مأموریت برائے وطنم '' ص ، ٨٨۔ ٨٩ شرکت سہامی کتباہاے جیبی ( جیبی کتب کی لمیٹڈ کمپنی ) تیسری اشاعت ، ١٣٥٠ ه ش (١٩٧١ء ) ۔
6 / ۔ دیکهے : '' کوثر . . . انقلاب اسلامی کے واقعات کی تفصیل '' ج ٣ ، ص ٦٩۔
7/ ۔ دیوان امام خمینی ؒ ، تسری اشاعت ، حصہئ ضمیمہ ۔
8 / ۔ صحیفہ امام ؒ '' ج ١ ،ص ١٢۔١٣ ۔
9 / ۔ مندرجہ بالا مأخذ ، ج١، ص ٩٠ ۔
10 / ۔مندرجہ بالا مأخذ ، ص ١١٠ ۔
١1 / ۔ ریڈیو ماسکو نے ١٦ خرداد ( ٦ جون) کی رات کو ١٥ خرداد کی قومی اسلامی تحریک پر اس طرح تبصرہ کیاہے : '' ایران کے رجعت پسند عناصر نے جو اس ملک کی اصلاحات بالخصوص اصلاحات ارضی سے ناراض ہونے کے ساته ساته معاشرتی حقوق میں اضافہ اور ایرانی خواتین کی آزادی میں پیشرفت کو اپنی خواہشات کے منافی سمجهتے ہیں ، آج تہران ، قم اور مشہد کی سڑکوں پر جلوس نکالا ، ایک گروہ کی طرف سے ہنگامہ کیا گیا جس کامقصد ان اصلاحات کی مخالفت تهی جو حکومت ایران کی طرف سے نافذ کی جارہی یا انکے پروگرام مرتب کئے جارہے ہیں اس گروہ کے قائدین اور اصل محرکین بعض مذہبی رہنما اور جعت پسند عناصر ہیں ، انہوں نے بازاروں میں آگ لگا دی اور بعض دکانوں پر دها وابول کر ان کے سامان لوٹ لئے گئے ،کاروں اور بسوں کو نقصان پہنچایا گیااور بعض سرکاری اداروں پر بهی حملہ کیا گیا ۔
سوویت یونین کے ترجمان اخبار '' ایزو و ستیا'' نے ١٧ خرداد ١٣٤٢ ه ش (١٧جون ١٩٦٣ء ) کی اشاعت میں لکها : '' .... تہران مشہد ، قم اور رے میں بعض رجعت پسند مسلمان علماء کی شہ پر ہنگامے اور فسادات ہوئے ، فسادی عناصر نے ایک روایتی عزاداری کی تقریب سے فائدہ اٹهاتے ہوئے حکومت کی ارضی اصلاحات کے خلاف مظاہرہ کیا، اس دوران کچه متعصب اور پسماندہ ذہن نوجوانوں نے بعض دکانوں پرحملہ کیا اور چندکاروں کو الٹادیا '' ۔
سوویت یونین سے شائع ہونے والے جریدہ '' عصر جدید '' نے بهی لکها: '' خمینی ؒ اوراس کے حامیوں نے مؤمنوں کو حکومت کے خلاف ورغلا کر عورتوں کے مساوی حقوق کو خوب اچهالا ، ان کے پروپیگنڈوں سے متأثر ہو کر افراد جو تعصب کی وجہ سے اندهے ہوگئے ہیں سڑکوں پر نکل آئے اور ہنگامہ و فساد کرنے لگے '' !!
مأخذ : بررسی و تحلیل از نہضت امام خمینیؒ ، ج ١ ص ٥١٥۔
١2 / ۔ مذکورہ مأخذ ، ص ٢٢٣۔
١3 / ۔ '' صحیفہ امام ؒ'' ج ١، ص ١١١ ۔
١4 / ۔ اس بیان کے نیچے مندرجہ ذیل مجتہدین کے نام نظر آتے ہیں :
'' مرتضی حسینی لنگرودی ، احمد حسینی تہرانی ، محمد حسین طباطبائی ، محمد موسوی یزدی ، محمد رضا موسوی گلپائیگانی ، سید کاظم شریعتمداری ، روح اللہ موسوی خمینیؒ ، ہاشم آملی اور ،مرتضی حائری '' اس بیان کا مکمل متن کتاب بررسی و تحلیل از نہضت امام خمینیؒ ، ج ١ ص ٢٩٤ ۔ ٣٠٢ میں دیا گیا ہے ۔
١5 / ۔ '' صحیفہ امام ؒ '' ج ١ ،ص ١٣٥۔١٣٧ ۔
١6 / ۔ '' کوثر '۔ انقلاب اسلامی کے واقعات کی تفصیل '' ج ١ ص ٦٧ ۔
17 / ۔ '' صحیفہ امام ؒ '' ج ١ ، ص ١٥٤ ۔
18 / ۔ ٹیلگراف کامتن اور واقعے کی تفصیل کتاب '' بررسی و تحلیلی از نہضت امام خمینیؒ ، صحیفہ امام ؒ ،ج٢ ١ ص ٢١٣۔

 

ای میل کریں