شاه

شاہ کا اپنی بیوی فرح کے ساتھ فرار

امام خمینی (رح) نے شاہ محمد رضا کے فرار سے ایک دن قبل ایک خط میں 9/ مادہ حکومتی کونسل کے اراکین کے حوالہ کیا تھا تا کہ جتنا جلد ہوسکے استعفا دے دیں۔

40/ سال قبل اسی دن محمد رضا پہلوی نے 7/ ستمبر سن 1978ء کے خونین واقعات کے بعد ایران سے فرار کرکے مصر کے اسوان چلا گیا۔ شاہ نے ایرانی مہینہ 15/ دی کو بختیار کو وزیر اعظم بنایا اور اگلے دن کو ٹیلی فون پر گفتگو میں کہاتھا: ایران کی عزیز ملت کھلی سیاسی ماحول میں کہ دو سال پہلے سے تدریجا پیدا ہواہے؛ آپ ایرانی قوم ظلم و فساد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایران کے بادشاہ کے عنوان سے ایرانی انقلاب کی میں تائید نہیں کرسکتا۔ اسی طرح شاہ نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک تاریخی جملہ کہا: "میں نے بھی آپ ایرانی عوام کا پیغام سنا ہے" اس نے ملک سے نکلتے وقت بتایا تھا کہ میں کچھ دنوں کے لئے آرام کرنے کے لئے جارہا ہوں۔

شاہ کو کیونکہ امید تھی کہ بختیار کی دھوکہ دھڑی کے اقدامات سے امام خمینی (رح) سے صلح کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے فرار نے 2500/ سالہ شہنشاہی کے گرنے کو یقینی بنادیا۔ یہاں تک کہ ایک ماہ سے کم کے عرصہ میں ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا۔

7/ بجے شام کو ریڈیو نے شاہ کے ملک سے فرار کی خبر دی۔ شاہ کے فرار کی خبر سنتے ہی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور خوشیاں منانے لگے۔ اخبار نے اس دن کے بارے میں لکھا: عوام کبھی اس طرح شوق و ولولہ کے ساتھ نعرہ نہیں لگایا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سڑکیں لوگوں سے پھر گئیں۔ گاڑیاں سڑکوں پر اپنی بتی جلائے ہارن بجانے لگیں۔ پھول فروشی اور مٹھائیوں کی دوکانیں کھل گئیں اور خوب خوب فروخت ہوئی اور سب نے اپنی اجناس فروخت کیں۔ گویا ایران کے لئے ایک دوسرے دن کا آغاز ہوگیا ہے۔

امام خمینی (رح) نے شاہ محمد رضا کے فرار سے ایک دن قبل ایک خط میں 9/ مادہ حکومتی کونسل کے اراکین کے حوالہ کیا تھا تا کہ جتنا جلد ہوسکے استعفا دے دیں۔ اسی طرح امام (رح) نے اس پیغام میں پارلیمنٹ کے نمائندوں سے استعفی طلب کیا تا کہ مستعفی ہو کر قوم و ملت کے غیظ و غضب سے محفوظ رہیں۔

امام خمینی (رح) نے شاہ کے فرار کی مناسبت سے بیرونی نامہ نگاروں کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ کے نکلنے کے بعد انقلاب کے پروگرام کی تشریح کی اور فرماتے ہیں: شاہ کا فرار ہماری ملت کی کامیابی کا سب سے پہلا مرحلہ ہے اور ابھی ہمیں بہت ساری مشکلات دی پیش ہیں۔ ملت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ شاہ کا صرف فرار کر جانا کامیابی نہیں ہے بلکہ کامیابی کا مقدمہ ہے .... ہمیں ابھی بہت سارے مشکل مسائل کا سامنا ہے اور ہم لوگ ایک بکھری ہوئی حکومت کے وارث ہوئے ہیں جس کا ذمہ دار 50/ سالہ پہلوی حکومت اور 30/ سال سے زیادہ محمد رضا شاہ کی سلطنت ہے ان تمام برائیوں اور فسادات کی ذمہ دار یہ دونوں حکومتیں ہیں۔ لہذا اس میں تبدیلی لانے کے لئے قوم کی ہر فرد اور ہر طبقہ کو قیام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس راہ میں سب سے پہلا قدم خرابیوں کو دور کرنا ہے جو استعمار کے نوکر شاہ کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہر طبقہ قیام کرے گا۔

ای میل کریں