سید علی خمینی: مذاکرات کرنے والے سفارتی محاذ کے مجاہد ہیں، نظام کی تبدیلی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بس کی بات نہیں

سید علی خمینی: مذاکرات کرنے والے سفارتی محاذ کے مجاہد ہیں، نظام کی تبدیلی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بس کی بات نہیں

امام خمینیؒ کے پوتے سید علی خمینی نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو سفارت کاری کے میدان کے مجاہد سمجھا جانا چاہیے جو سپاہ کے مجاہدین کے شانہ بشانہ ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوری نظام کو گرانے کی بات ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے رہنماؤں کے قد سے بڑی ہے۔

سید علی خمینی: مذاکرات کرنے والے سفارتی محاذ کے مجاہد ہیں، نظام کی تبدیلی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بس کی بات نہیں

امام خمینیؒ کے پوتے سید علی خمینی نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو سفارت کاری کے میدان کے مجاہد سمجھا جانا چاہیے جو سپاہ کے مجاہدین کے شانہ بشانہ ملک کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوری نظام کو گرانے کی بات ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے رہنماؤں کے قد سے بڑی ہے۔

جماران کی رپورٹ کے مطابق، انقلاب اسلامی کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید علی خمینی نے کہا کہ 22 بہمن انقلاب کے اصولوں—آزادی، خودمختاری اور جمہوریت—کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قوم کو استقلال اور آزادی کی قدر نئی نسل تک منتقل کرنی چاہیے تاکہ معاشرہ دوبارہ مشرق یا مغرب کی وابستگی کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب عوام کی رائے کی بالادستی ہے اور عدل و انصاف انقلاب کا بنیادی ہدف ہے، لہٰذا بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول عوام نظام کی کامیابیوں کو دیکھتے ہیں، اگر پیش رفت نہ ہوتی تو آج اسلامی جمہوریہ قائم نہ رہتا، تاہم خامیوں اور بدانتظامی کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔

سید علی خمینی نے کہا کہ دشمن ایران کے خلاف مختلف حربے آزما چکا ہے، جنگ کی دھمکیاں بھی دی گئیں، مگر قوم اور مسلح افواج نے ثابت قدمی دکھائی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی قوتیں اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر خانہ جنگی کی فضا پیدا کرنا چاہتی ہیں، اس لیے سیاسی و سماجی خلیج کو کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امریکہ سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ عمل کمزوری نہیں بلکہ جدوجہد کی ایک اور شکل ہے۔ ان کے مطابق ایران کے مذاکرات کار سفارتی محاذ پر مجاہد ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ای میل کریں