مستضعفین

انقلابی معاشرہ کے طبقے اور حکومت

انقلابی تبدیلی کے نتائج میں مستضعفین کا اہم کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے

اہم یہ ہے کہ انقلاب کے بعد مستضعفین کے حقوق کا ادا ہونا ہے۔ امام خمینی  (ره)نے کئی بار اس مطلب کو بیان کیا کہ ’’محروم طبقہ نے ہم پر احسان کیا انہوں  نے ہمیں مشکلات سے نکالا، انہوں  نے تکلیف اٹھائی، انہوں  نے یہ نظام بنایا، انہی لوگوں  نے ہی یہ کامیابی حاصل کی ہے، لذا یہی صاحب حق ہیں  اونچے طبقے والوں  کو حق حاصل نہیں  ہے جو فقط تماشائی بنے رہے یا جنہوں  نے عوام کا مقابلہ کیا ان کو حق حاصل نہیں  ہے‘‘۔

لذا حکومت مستضعفین سے تشکیل پانی چاہئے انہی کی فکر سے ہونی چاہئے تاکہ وہ میدان میں  ڈٹے رہیں  اور سیاسی اور معاشی امور میں  انہیں  شریک کیا جائے ایسی حکومت میں  محرومیت کو محسوس کرنا، محرومیت کو دور کرنا، لوگوں  کا خیال کرنا، علمی، ثقافتی اور معاشی ترقی کیلئے منصوبہ بندی ہونی چاہئے، دنیا کے مستضعفین کی مدد ان کے ساتھ تعاون بالخصوص دنیا کے مسلمانوں  کے ساتھ تعاون کیا جانا چاہئے تاکہ عالمی اسلامی حکومت قائم ہوسکے اور بڑی طاقتوں  کا کوئی خوف نہ ہو۔ چونکہ اسلام میں  عوام کی خدمت (احسان جتائے بغیر) ایک اہم عبادت ہے اور خوشحال طبقہ کو بھی اس امر میں  حکومت کی مدد کرنی چاہئے۔(صحیفہ امام، ج ۱۹، ص ۲۰۶)

دوسری طرف مستضعفین کو بھی متحد رہنا چاہئے، علم وتقویٰ سے آراستہ ہونا چاہئے اور اپنا حق لینے کیلئے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ مستضعفین کے اتحاد کو امام خمینی  (ره) اس درجہ اہمیت دیتے تھے کہ ’’حزب مستضعفین‘‘ بنانے کا مشورہ دیا تاکہ منظم طریقہ سے مستضعفین کے حقوق کا دفاع کیا جائے لیکن اس طبقہ کے ارکان بھی اگر کسی مقام اور عہدہ پر پہنچ جائیں  تو حد اعتدال سے خارج نہ ہوں ، نفس کے ساتھ جہاد کو فراموش نہ کریں  اور مستکبریں  کی عادتوں  میں  خود مبتلا نہ ہوجائیں ۔

امام خمینی  (ره) اپنے عرفانی کلام میں  فرماتے ہیں : ’’بعض اوقات ممکن ہے ایک تسبیح سے محبت بھی دنیا سے دل لگانے کا باعث بن جائے، منصب اور بڑا عہدہ تو دور کی بات ہے‘‘ نتیجہ یہ کہ امام خمینی  (ره) کی نگاہ میں  عادل اسلامی سماج وہ ہے جس میں  عوام کی اکثریت ایک متوسط معاشی حالت رکھتی ہو۔ سوشیالوجی کے لحاظ سے ایسے سماج کو مربع کی شکل جیسا ہونا چاہئے جس میں  کم آمدنی والے طبقے اور ہر طرح کے وسائل سے بہرہ مند طبقے کی تعداد ۲۰ فیصد سے زیادہ نہ ہونی چاہئے۔ استکباری نظام میں  معاشی وسائل کی تقسیم کے اعتبار سے عوام کی تقسیم ہرمی شکل میں  ہے، یعنی اقلیت ( ۳ سے ۱۰  فیصد) کے قبضے میں  (۵۰ سے ۸۰  فیصد) تک کے وسائل ہوتے ہیں ۔

البتہ امام خمینی  (ره) نے اس موضوع پر بھی توجہ کی تھی کہ جنگی حالات میں  اور تسلّط پسند طاقتوں  کے مقابلے کے دوران اس مقام تک پہنچنا مشکل ہے لیکن ذخیرہ اندوزوں ، خون چوسنے والے سرمایہ داروں  اور دیگر افراد کیلئے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ہاتھ نہ لگنے دینا چاہئے جو معاشی صورتحالی کی دگرگونی کی بنیاد پر یا اپنے رسوخ کی وجہ سے بڑا سرمایہ ہتھیالیں ۔ امام خمینی  (ره) کی نظر میں  چونکہ محروموں  کے مفادات کے تحفظ، جس میں  سب برابر سے شریک ہوں  میں  اضافہ دولت جمع کرنے والوں  کے ساتھ اسلام کا مقابلہ، فقر وتنگدستی کی قید میں  جکڑے ہوئے انسان کیلئے آزادی کی عظیم بشارت اور تحفہ ہے۔ لذا کوئی بھی پارٹی ہو جب اقتدار اس کے پاس آجائے تو اصول فراموش نہ کرے۔ ملک کی خودمختاری، ایسے افراد کے تسلّط کا خاتمہ جو حکومت میں  رہ کر یا سڑکوں پر یا بازار میں  عوام کا خون چوستے ہیں ۔ شریف ملازمین، مزدوروں ، دیندار کسانوں ، بازار میں  کام کرنے والے نیک لوگوں  کیلئے پاک وسالم زندگی فراہم کرنا معاشی نمو، ثقافتی اور علمی ترقی اسلامی حکومت کے اصول کا جزء ہے۔(صحیفہ امام، ج ۲۱، ص ۴۶)

ای میل کریں