اربعین امام حسینؑ و شہدائے کربلا ایک عالمی تحریک کی صورت دنیا بھر کے صاحبان جستجوئے حق کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے، ہر سال اس میں نئے رنگ سامنے آتے ہیں، نئے زاویے نکلتے ہیں....
امام خمینی(رح) کی شخصیت اور افکار کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ انھیں اسلام کا بطلِ جلیل قرار دیا گیا ہے
انسان کو آزاد خلق کرکے عدل و انصاف سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدل و انصاف کا تقاضا انسان کی فطرت کا جزء لاینفک ہے
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی بعض کم فہم یا کج فکر افراد یہ بحث بھی چھیڑ دیتے ہیں کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کا طرز عمل مختلف تھا اور ایسا کیوں تھا
سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کیلئے ووٹنگ یا رائے شماری نہیں ہوئی بلکہ بحث و جدال کے عالم میں خلیفہ دوّم نے آگے بڑھ کر خلیفہ اوّل کے ہاتھ پر بیعت کی
امام عالی مقام حضرت امام حسینؑ کی زندگی انسانی معاشرے کے لئے ہر لحاظ سے نصیحت آموز اور نمونہ عمل ہے
واقعہ کربلاء کو تیرہ سو تراسی سال گزر چکے، خدا کی زمین پر حجت خدا، خدا کے نمائندے کے ساتھ ظلم کی یہ روش نہ تو پہلے کسی نے دیکھی تھی اور نہ ہی بعد میں دیکھی گئی
محرم الحرام ۱۴۴۴ ہجری کا عاشورا گزر گیا۔ عام طور پر اس برس یہ عشرہ ہم آہنگی، رواداری، محبت اور عقیدت کی فضا میں گزرا
اسلام کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اسلام کا بچپن جناب ابو طالب ؑ کی گود میں بہلتا نظر آئے گا
حافظ صفواں صاحب تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں، ان کے والد محترم بھی تبلیغی جماعت سے وابستہ تھے، بلکہ ان کے والد پروفیسر صدیق صاحب تو جماعت کے قائدین میں سے تھے