ایران اور علم کا میدان

ایران اور علم کا میدان

سائنس و ٹیکنالوجی کا میدان ان شعبوں میں سے ایک ہے، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ 45 سالوں میں نمایاں ترقی کی ہے

تحریر: سید رضی عمادی

 

سائنس و ٹیکنالوجی کا میدان ان شعبوں میں سے ایک ہے، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ 45 سالوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس میدان میں کئی مثالوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پچھلی دو دہائیوں میں عالمی درجہ بندی کے نظام میں ایران کی چند یونیورسٹیاں تھیں، لیکن ممتاز بین الاقوامی سائنسی مراکز کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلی دہائی میں ایران کی جامعات کی ایک بڑی تعداد بین الاقوامی درجہ بندی میں موجود ہے۔ ٹائمز رینکنگ سسٹم میں،(جو کہ تعلیم، تحقیق، حوالہ جات، صنعتی آمدنی اور بین الاقوامی امیج کے پانچ اجزاء پر مبنی ہے،) جو درجہ بندی کی گئی ہے، اس کے مطابق 2022ء میں ایران کی 58 یونیورسٹیاں موثر ترین یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں شامل ہیں۔

 

ٹائمز رینکنگ ڈیٹا بیس میں 2012ء سے 2014ء تک ایران کی صرف ایک یونیورسٹی اس صف میں شامل تھی، لیکن 2022ء میں 99 ممالک کی 1600 بہترین یونیورسٹیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی 58 یونیورسٹییاں شامل ہیں۔ 2022ء کی ٹائمز رینکنگ میں 26 اسلامی ممالک ہیں، جن میں اعلیٰ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ ان ممالک میں یونیورسٹیوں کی تعداد کے لحاظ سے ایران میں 58 یونیورسٹیاں، ترکی میں 54 اور مصر میں 23 یونیورسٹیاں ہیں۔ ایران  اس وقت سائنس میں دنیا میں بارہویں نمبر پر ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ قابل اعتماد حوالہ ڈیٹا بیس (ISI) کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ممالک کی کل سائنسی و علمی پیداوار میں سے 22 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔ ایران کی سائنسی ترقی کی شرح عالمی اوسط سے گیارہ گنا زیادہ ہے۔

 

ان اشاریوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تعداد میں اضافے کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔ خواندگی کی سطح کی ترقی کے اشاریئے میں طالب علموں کی تعداد میں اضافہ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں شرح خواندگی کے بڑھنے کا رجحان کچھ اس طرح ہے۔ انقلاب کے آغاز میں خواندگی کی شرح 47% تھی، آج 95% تک پہنچ گئی ہے۔ اسلامی انقلاب کی فتح سے قبل اسکولی طلباء کی تعداد (تعلیمی سال 1979_1980ء) میں تقریباً 70 لاکھ 70 ہزار تھی، جبکہ وزارت تعلیم کے مرکز برائے منصوبہ بندی انسانی وسائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعداد و شمار کے مطابق 2020ء کے تعلیمی سال میں اسکولی طلباء کی تعداد، پورے ملک میں 15 ملین 50 ہزار سے زائد تھی۔

 

یونیورسٹی طلباء کی تعداد کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انقلاب کی کامیابی کے وقت ملک بھر میں یونیورسٹی طلباء کی کل تعداد صرف 157,672 تھی، 2013ء اور 2014ء میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں چار لاکھ 80 ہزار افراد زیر تعلیم تھے اور آج یہ تعداد 30 لاکھ 342 ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ ترقی سائنس  اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی نظر آتی ہے۔ ایران کی سائنسی ترقی کا ایک شعبہ ٹیکنالوجی کا میدان رہا ہے۔ ایران نے جدید ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں، جن میں یورینیم کی افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز کی نئی نسل کے ساتھ ساتھ میزائل سسٹم بھی شامل ہیں۔ کچھ تجزیہ کار ایران کی تکنیکی ترقی کی تعریف کرتے ہیں اور اسے عالمی سطح پر ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

 

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں، ہمارے ملک نے شمسی اور ہوا کی توانائی میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے اور قابل تجدید توانائی کو ذخیرہ کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز بھی تیار کی ہیں۔ ایران نے ایٹمی سائنس میں بھی نمایاں ترقی کی ہے۔ ایران یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا 14 واں اور 20 فیصد یورینیم پیدا کرنے والا آٹھواں ملک ہے۔ اسلامی جمہوریہ اب ایک ایٹمی ملک بن چکا ہے اور عملی طور پر دنیا کے ایٹمی کلب کا رکن ہے۔ تمام تر پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران نے اپنے جوانوں اور ماہرین کی کوششوں سے ایٹمی ایندھن (افزودگی) کا مکمل فیول سائیکل حاصل کر لیا ہے اور اس میدان میں سائنسی علم اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اسے دنیا میں ساتویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ ایران مشرق وسطیٰ کے خطے میں جوہری تحقیق کے میدان میں پہلے نمبر پر ہے۔

ای میل کریں