عید قربان اسلامی ہمدردی کا پیغام

عید قربان اسلامی ہمدردی کا پیغام

دنیا بھر میں عید قربان پر کروڑوں جانوروں کی قربانی اور پاکستان میں لاکھوں جانوروں کی قربانی کا پس منظر اور فلسفہ کیا ہے

تحریر: علامہ عبدالخالق فریدی

 

لفظ قربانی کا مصدر قرب ہے جس کا معنی ہے کسی بھی نیک عمل کی ادائیگی کرکے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنا۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے سب سے پہلے مسجد میں آیا اسے اونٹ کی قربانی کا ثواب ملے گا، دوسرے نمبر پر آنے والے کو گائے تیسرے نمبر پر آنے والے کو مینڈھے چوتھے نمبر پر آنے والے کو مرغے اور پانچویں نمبر پر آنے والے کو انڈے کی قربانی کا ثواب ملے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ نفلی عمل ہے جس میں مرغے اور انڈے کا ذکر ہے، البتہ ان دونوں کی قربانی عید قربان پر اس لئے نہیں ہوسکتی کہ قربانی کے جانور کا دو دانت ہونا شرط ہے، صحابہ کرام کے ایک سوال کے جواب میں رسول اکرمؐ نے فرمایا قربانی ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے جسم پر موجود بالوں میں سے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی اور قیامت کے روز اس کے تمام جسمانی اعضاء کو میزان میں تول کر قربانی کرنے والے کو ثواب عطا کیا جائے گا۔

 

دنیا بھر میں عید قربان پر کروڑوں جانوروں کی قربانی اور پاکستان میں لاکھوں جانوروں کی قربانی کا پس منظر اور فلسفہ کیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے ''اور قربانی کے اونٹ تمہارے لئے اللہ کی نشانیاں ہیں اور ان میں تہمارے لئے بھلائی ہے انہیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو جب کروٹ کے بل گرجائیں تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ اور مانگنے والے نہ مانگنے والے سب کو دو ہم نے انہیں تمہارے ماتحت کیا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو اللہ کو ہرگز نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور نہ ہی خون لیکن اسے تقویٰ  پہنچتا ہے تمہاری طرف سے ہم نے انہیں تمہارے ماتحت کیا تاکہ اللہ کی کبریائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور احسان کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے'' (سورة 36-37)۔ ان آیات سے ثابت ہوا قربانی کا اصل فلسفہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا اور دوسرا فلسفہ ضرورت مند غرباء کو قربانی کا گوشت دینا ہے چاہے وہ اس کا سوال کریں یا نہ کریں۔

 

آج کل بعض لوگوں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ قربانی صدقہ ہے تو جانور کے بدلے کوئی اور چیز صدقہ کردی جائے تو اس کا جواب حضرت عائشہؓ کی بیان کردہ ایک حدیث میں موجود ہے، یوم النحر کے دن اللہ کو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اس کی راہ میں جانور کا خون بہانا ہے اور وہ زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اللہ کی بارگاہ میں درجہ قبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ اسی حدیث مبارکہ کی روشنی میں محدثین کرام اور فقہاء امت نے صاحب نصاب و استطاعت پر قربانی کو واجب قرار دیا۔ رسول اکرمؐ مدنی زندگی کے دس سال ہجرت کے آغاز سے لے کر اپنی رحلت تک مسلسل قربانی کرتے رہے، اکثر اوقات آپ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور حجة الوداع میں 100 اونٹوں کی جن میں سے 65 آپؐ نے اپنے دست مبارکہ سے نحر کئے اور باقی حضرت علی علیہ السلام نے نحر کئے۔ صحابہ کرامؓ بھی تسلسل کے ساتھ ہر سال قربانی کیا کرتے تھے اور یہ عمل ساڑھے چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی پوری دنیا کے مسلمانوں میں جاری و ساری ہے۔

 

قربانی کا گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا حکم قرآن مجید میں ہے۔ رسول اکرمؐ نے بھی اپنی مختلف احادیث مبارکہ میں صحابہؓ کو اس کا حکم دیا کہ کسی بھی ضرورت مند کی بھوک کو مٹانے میں مدد کرنا چاہیئے، چاہے وہ قربانی کے گوشت کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں، یہ بہت بڑی نیکی اور جنت میں داخلے کا ٹکٹ ہے۔ رسول اکرمؐ جب مدینہ طیبہ ہجرت کرکے آئے تو پہلا فرمان جاری فرمایا ''اے لوگو اسلام کو پھیلاؤ اور غریبوں کو کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، لوگ جب راتوں کو سورہے ہو تو جاگ کر نماز تہجد ادا کرو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے جنت میں داخلے کا ایک بڑا سبب بھی ضرورتمندوں کو کھانا کھلانا بتایا ہے، سورة الدھر میں ارشاد ربانی ہے وہ (اہل جنت) مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو اللہ کی محبت میں کھانا کھلاتے تھے اور کہتے تھے ہم تمہیں اللہ کی رضا کیلئے کھلا رہے ہیں، ہم کوئی بدلہ اور شکر گزاری نہیں چاہتے، ہم اس دن سے ڈرتے ہیں اپنے رب سے جو بہت ترش اور سخت ہوگا۔

 

سورة الدھر میں مزید ارشاد ہوا کہ اللہ ان کو اسی دن کے شر سے بچائے گا اور انہیں تازگی اور شادمانی عطا فرمائے گا اور صبر کے عوض ان کو جنت اور ریشمی لباس دے گا، وہ مسہریوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور سخت دھوپ اور شدید سردی سے بھی محفوظ ہوںگے (آیت 8تا 12)۔ حدیث قدسی میں ضرورت مند بھوکے کو کھانا کھلانے اور لباس پہنانے کی بڑی فضیلت ہے۔ عید قربان ایک ایسا موقع ہے کہ غریب اور مساکین صاحب قربانی سے گوشت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ عام دنوں میں گوشت کی بڑھتی قیمتوں اور آمدنی کے محدودو ناپید ذرائع کی وجہ سے وہ گوشت نہیں کھا سکتے، اس لئے موجودہ حالات میں ہمیں ضرورت مندوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنی چاہیئے اور ایسے سفید پوش رشتے دار یا عام لوگ جو مانگنے کیلئے کسی کے دروازے پر نہیں جاتے از خود ان کا پتہ لگا کر ان کی مدد ان کے گھر جاکر کرنی چاہیئے۔ رسول اکرمؐ نے یتیم کی مدد و سرپرستی کرنے والے اس کی خبر گیری کرنے والے کو جنت میں اپنا ساتھی قرار دیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ضرورت مند غریب مسلمانوں کی مدد نفلی عبادات میں سب سے اہم اور بڑی عبادت ہے۔

 

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں

کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

ای میل کریں