حاج آقا مصطفی خمینی (رح)

حاج آقا مصطفی خمینی (رح)

آبان کی پہلی تاریخ٬ امام خمینی(رح)کے فرزند آیت اللہ سید مصطفی خمینی(رح) کی برسی کی تاریخ ہے۔

شہید مصطفی خمینی(رح) ۲۱/ آذر ۱۳۰۹ ھ  ش مطابق ۲۱/رجب ۱۳۴۹ ھ  ق قم کے شہر الوندیہ محلہ میں ایک کرایہ کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ان کا بھی نام ان کے دادا ’’ سید مصطفی موسوی‘‘ کے نام پر مصطفی رکھا گیا٬ ان کی ماں خانم خدیجہ ثقفی اپنے بیٹے کے اس نام کے انتخاب کے سلسلہ میں کہتی ہیں:

’’ مجھے مصطفی نام بہت پسند تھا لیکن یہ نہیں معلوم کے آقا خمینی کو کیا پسند تھا ، لیکن میں نے آپ کو راضی کر کے آپ سے کہا:  چونکہ آپ کے والد کا نام مصطفی تھا۔ لہذا یہ نام بہت ہی مناسب ہے یہ سن کر آقا بھی راضی ہوگئے اور ان کا نام محمد اور لقب مصطفی رکھ دیا۔‘‘

وہ اپنی پرہیزگار ماں اور دانشور باپ کی آغوش میں پلے بڑے اور عرفان اور معنویت سے لبریز ماحول میں رشد و نمو ہوئی ۔ انہوں نے وہ خدا داد بے پناہ ہوش اور صلاحیت سے تیزی کے ساتھ اپنے علمی اور اخلاقی مرحلوں کو طے کر لیا ىہاں تک کہ  اسی جوانی کی ۲۷ سالہ عمر میں انتھک کوششوں سے اجتہاد کے درجہ پر فائز ہوئے۔

آیت اللہ سید مصطفی خمینی (رح) تقریباً ۱۳/ سال تک حوزہ علمیہ نجف اشرف میں تدریس، تألیف اور دینی علوم کے طلاب کی تربیت میں مشغول رہے اور اپنی علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان انقلابیوں سے بھی رابطہ میں رہے ، ان کا انقلابی جذبہ بہت سارے مجاہدین کو فوجی ٹرینگ کے لئے تشویق کرنے والا تھا، بہت ساری سرگرمیاں شاہی حکومت کے جاسوسوں کی نظر سے پوشیدہ نہ رہیں ، اسی وجہ سے اگر آپ کی شہادت ہو گئی تو ہمیں اس روحانی مجاہد کی داستان کو  ایک فطری  امر جاننا چاہئے۔ آپ کى مجاہدانہ شخصیت نے لوگوں کے ذہنوں  مىں شاہی حکومت کے ہاتھوں شہادت کے سوا کوئی اور نقش نہیں چھوڑا ، اگرچہ اس کے باقی بچے واقعات بھی آپ کی شہادت پر دلالت کر رہے ہیں ، حجۃ الاسلام سید محمد دعائی اس دن کے بارے میں کہتےہیں:

’’ افسوس کہ اسپتال میں کشیک ڈاکٹر نے پہلے معائنہ کے بعد تشخیص دیا کہ یہ رحلت کر چکے ہیں‘‘

ان علائم کی روشنی میں جو آپ کے جسم سے ظاہر ہو رہی تھی ، اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ آپ کی موت فطری نہیں ہے بلکہ ایک زہر کا اثر ہے۔

حاج مصطفی خمینی کی اہلیہ خانم معصومہ حائری یزدی بھی اس سلسلہ میں اس طرح کہتی ہیں:

’’اس رات جب آقا مصطفی کی یہ حالت ہوئی تو اس شب میرے گھر پر مہمان آنے والے تھے ۔ میں شدید بیمار تھی ۔ میرے پڑوسی آقا دعائی نے ڈاکٹر بلایا۔ دوسری طرف آقا مصطفی راتوں کو مطالعہ کرتے تھے، اس رات انہوں نے کہا اگر مہمان آگئے تو میں دروازہ کھول دوں گا تم لوگ سو جاؤ۔ پھر ہم یہ نہ جان سکے کہ مہمان کب آئے اور کب گئے اور کیا ہوا ، صبح سویرے جب میں ان کے لئے ناشتہ لے کر گئی تو دیکھتی ہوں کہ آقا مصطفی سر جھکائے بیٹھے ہوئے ہیں میں فوراً اوپر گئ تو دیکھا کہ آپ کا ہاتھ نىلا ہو رہا ہے اور  نىلے  رنگ کا ایک ٹکڑا ان کے سینہ پر بھی پڑا ہوا ہے ۔ آقا مصطفی کو فوراً اسپتال لے گئے ، جب ان لوگوں نے ان کا پوسٹ مارٹم کرنا چاہا تو امام نے اس کی اجازت نہ دی اور کہا کہ کچھ بے گناہ گرفتار ہو جائیں گے اور ان کی گرفتاری ہمارے لئے آقا مصطفی نہیں ہوگی اور عراق کی بعثی حکومت کی طرف سے بھی پر اظہار خىال کرنے  پر پابندی لگا دی گئی اور ڈاکٹر کو اپنا نظریہ دینے کی اجازت نہیں دی، چونکہ سو فیصد زہر دیا گیا تھا یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو دھمکی بھی دی گئى‘‘۔

آیۃ اللہ مصطفی خمینی(رح) کا جنازہ /۱۰ بجے صبح نجف سے کربلا لے جایا گیا اور آب فرات میں غسل دیا اور  عظیم الشان تشییع کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے مزار کے سنہرے ایوان میں سپرد لحد کر دیا گیا۔ نقل کرتے ہیں کہ امام خمینی(رح)  نے ان کی شہادت کے بعد ان کی زوجہ سے کہا:

’’پرورگار نے ہمیں ایک امانت دی تھی اور اب واپس لے لی میں صبر کر رہا ہوں تم بھی  صبر سے کام لو اور تمہارا صبر بھی خدا کے لئے ہو‘‘۔

 

حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمود دعائی ان کے بارے میں کہتے ہیں:

’’مرحوم حاج آقا مصطفی امام کے پروردہ اور آپ کی امید تھے کہ امام خمینی(رح) کے تلاطم خیز سیاسی ایام اور امام خمینی(رح) کی علمی تجلی نیز آپ کى سیاسی مجاہدتوں سے مربوط دور مىں  پروان چڑھے تھے اور  کمال اور بلند مقام کے مالک ہوئے اور آخر کار آبرومندی اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ جو خبر مسلم ہے وہ یہ کہ ان کی ایک صلاحیت زبردست نمایاں تھی وہ یہ کہ آپ کا حافظ بہت قوی، بلا کے ذہین اور آزاد ماحول کے پروردہ تھےمعدود سے چند افراد ہی ایسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اسی لئے آپ نے اپنے علمی مراحل کو بڑی تیزی کے ساتھ طے کر لیا اور تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔آپ ایک لائق اورفائق مدرس اور معلم بھی تھے نىز  کامیاب استاد٬ بہترین اور ممتاز طالب علم بھی ۔

 

البتہ اس کے ساتھ ساتھ تہذیب نفس ، معنوی تربیت اور کمال کے مرحلوں کی جانب یھی توجہ رکھتے تھے آپ اىک  کوشش کرنے والے انسان تھے نیز آپ نے اپنی حیثیت ، مقام اور فطرت و سرشت میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں سے بہتر انداز میں استفادہ کیا، حوزہ علمیہ کی ایک امانت اور ان سب سے اہم آپ کا ایک ممتاز شخصیت اور مایہ ناز گھرانے سے تعلق تھا یعنی اپنے والد گرامی امام خمینی(رح) سے منسوب تھے ۔آقا بروجردی کی رحلت کے بعد امام خمینی(رح) کی مجاہدانہ تحریک کے آغاز اور /۱۵ خرداد کے المناک واقعات کےبعد آقا مصطفی خمینی(رح) مجاہدانہ مشن کے لیڈر بن گئے اور اپنے باپ کے ایک مضبوط بازو کے عنوان سے کردار ادا کرتے رہے اور شائستگی کے ساتھ اپنے والد کی راہ کا ادراک کیا اور ایک جانثار سپاہی اور آمادہ فوج کے عنوان سے اپنے باپ کے ساتھ ساتھ اپنی رسالت اور ذمہ داری ادا کرتے رہے۔

حاج آقا مصطفی (رح) کا اپنے باپ کے ساتھ ایک استفادہ اور ان کے وجود کا ایک اثر وہ حادثہ تھا جو رونما ہوا اور یہ نوشتہ تھا کہ خداوند عالم امام خمینی(رح) سے ان کو چھین لے٬ اس ناگوار اور تلخ واقعہ کے بعد ( اور بعد معلوم ہوا کہ تعیین کرنے والا تھا) امام خمینی(رح) کے عرفانی اور روحانی شخصیت کا ایک پہلو نمایاں ہوا اور وہ مسئلہ عظیم مصیبت کا مقابلہ کرنا تھا ایک درد ناک امر کے سامنے تسلیم ہونا، میرے خیال میں اگر یہ حادثہ رونما نہ ہوتا تو ہم اللہ کی مشیت کے سامنے امام خمینی(رح) کےمقام صبر و رضا، تسلیم اور آپ کی روحانی عظمت کے اندازہ نہیں لگا سکتے تھے اس درد اور حادثہ کی سنگینی اور اس کا غم آقا مصطفی (رح) کے امام خمینی(رح) کےہمراہ رہنے سے  تعیین کرنے والی عظمت کا پتہ دیتا ہے ۔

ای میل کریں