امام خمینی نے جنگ کے پہلے ہفتے میں کیا کہا؟

امام خمینی نے جنگ کے پہلے ہفتے میں کیا کہا؟

امام خمینی، اللہ تعالی پر اعتماد کرتے ہوئے امت کو ساتھ لےکر، دشمن کے نقشہ بدل دیا۔

امام خمینی، اللہ تعالی پر اعتماد کرتے ہوئے امت کو ساتھ لےکر، دشمن کے نقشہ بدل دیا۔

۲۲ ستمبر  ۱۹۸۰ء کو صدامی بعثیوں کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ ایسے وقت میں مسلط کی گئی کہ اسلامی جمہوریہ ایران، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات سے نمٹ رہا تھا، ایسے میں مضبوط فوجی طاقت اور عالمی سامراج کی حمایت یافتہ حکومت  کے ساتھ نبرد آزمائی، انقلاب کے بعد رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات کو شعلہ ور کرنے کے ساتھ  انقلاب کی بنیادوں کےلئے خطرے کی گھنٹی بن سکتی تھی۔

بنیادی طور پر عراق کی بعثی انتظامیہ اور اس کے حامی ممالک اس جنگ میں کامیابی سے متعلق ایک فیصد بھی ناکامی کا احتمال دیتے تو ہرگز ایران کے خلاف حملہ کرنے کی جرئت نہ کرتے۔ لیکن وہ کونسا عامل تھا جس نے دشمن کے فوجی اور سیاسی تجزیئے کو غلط ثابت کرنے کے ساتھ بعثی جارحیت کے مقابلے کےلئے اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور انقلاب اسلامی کو  ثبات بخشنے کا موقع فراہم کیا؟

اس میں شک نہیں کہ دشمن کے نقشے کو بدلنے میں جس عامل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ خدا کی ذات پر انحصار کرنے والی قیادت یعنی امام خمینی کی ذات ہے۔

جنگ کے شروع میں عراقی حکومت اگرچہ، ایرانی فوج اور ہتھیاروں کے بارے میں اندازہ لگا چکی تھی تاہم وہ ایرانی با صلاحیت قیادت اور عوام کی ایمانی طاقت سے غافل تھی۔ یہی وجہ ہےکہ امام خمینی نے عراقی افواج کے نام اپنے پیغام میں ایران کے دفاع کا مقصد بیان کرنے کے ساتھ ایران کے خلاف جارحیت کے بارے میں ان سے سوال کرتے ہوئے، ایمان کی طاقت سے کفر کا مقابلہ کیا ہے اور بہترین انداز میں دشمن کے حملے کو ناکام  بنانے کے ساتھ ملک کو جنگ کے ابتدائی پر آشوب دنوں سے نجات دلایا ہے۔

امام خمینی، عراقی حکومت کے نام اپنے پہلے پیغام میں فرماتے ہیں:

" وقت کے تقاضوں کے ساتھ میں اپنا پیغام دیتا رہوں گا اور صدام اور صدام کی طرح دوسرے افراد پر یہ  ثابت کروں گا کہ ہماری نظر میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہماری کوشش ہےکہ اس جنگ میں اس طرح مقابلہ کیا جائے جو ان کی جارحیت کے جواب کے ساتھ، عراقی عوام کو کوئی صدمہ نہ پہنچے ... صدام ہے جس نے امریکہ کے اشارے پر ہمارے خلاف جارحیت کا آغاز کیا ہے، اس لئے ہماری جوابی کارروائی کا عراقی عوام جو ہمارے دینی بھائی ہیں، سے کوئی تعلق نہیں ...

عراقی افواج کے نام، اپنے پیغام میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عراقی افواج کس کے ساتھ نبرد آزما ہو رہی ہے؟

میں عراقی افواج پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ کفر کی حمایت میں اسلام کے خلاف جنگ ہے اور ایسی جنگ، خدا کی رضا کے خلاف ہے اور جو لوگ کفر کی حمایت میں، اسلام کے خلاف جنگ میں شامل ہوں گے، خدا انہیں کبھی معاف نہیں کرےگا اور شرعی احکام کے مطابق، صدام خود بھی کافر ہے اور کفر کی طرفداری بھی کر رہا ہے ...

میں عراقی عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ، اسلام کے خلاف جارحیت کی ابتداء کرنے والے شخص کے خلاف قیام کریں ...

جنگ کے تیسرے دن یعنی ۲۲ ستمبر ۱۹۸۰ کو امام خمینی نے عراقی افواج اور وہاں کی عوام کے نام اپنے پیغام میں عراق میں بعثی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر بغاوت کو ان کا شرعی، انسانی اور الہی وظیفہ قرار دیدیا"۔

صحیفه امام، ج‏13

امام خمینی کی مدبرانہ قیادت کا سلسلہ بدستور جاری رہا جو ایرانی عوام، مسلح افواج اور عوامی رضاکار فورس { بسیج } کے حوصلوں کی بلندی اور ان کے ارادوں میں استحکام کا باعث بنا جس کے نتیجے میں آخرکار وہ بعثی دشمن کو اپنی سرزمین سے نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

 

ماخذ: جماران خبررساں ویب سائٹ

ای میل کریں