اس بار کا محرم: عزاداری سے مزاحمت تک

اس بار کا محرم: عزاداری سے مزاحمت تک

محرم الحرام ہر سال امتِ مسلمہ کو واقعۂ کربلا کی یاد دلاتا ہے مگر تاریخ کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں

تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

 

محرم الحرام ہر سال امتِ مسلمہ کو واقعۂ کربلا کی یاد دلاتا ہے مگر تاریخ کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جب محرم صرف ایک مذہبی یادگار نہیں رہتا بلکہ اپنے عہد کے سیاسی، اجتماعی اور تہذیبی حالات کے ساتھ ایک زندہ اور متحرک پیغام بن جاتا ہے۔ محرم 1448ھ (2026ء) بھی انہی غیر معمولی محرموں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ برسوں کے محرم اور اس سال کے محرم کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اس مرتبہ دنیا ایک ایسی جنگ کے اثرات سے گزر رہی ہے جس نے پورے مغربی ایشیا کی سیاسی صورتِ حال کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

 فروری 2026ء سے شروع ہونے والی ایران، امریکہ اور اسرائیل کی کشمکش کئی مہینوں تک جاری رہی جس میں براہِ راست فوجی حملے، میزائل کارروائیاں، آبنائے ہرمز کا بحران اور خطے بھر میں کشیدگی شامل رہی۔ بعد ازاں ایک عارضی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت سامنے آئی تاہم خطہ ابھی تک مکمل طور پر امن کی طرف واپس نہیں لوٹ سکا۔ گزشتہ برسوں میں محرم زیادہ تر ایک مذہبی اور روحانی فضا میں منایا جاتا تھا۔ اگرچہ عالم اسلام مختلف بحرانوں سے دوچار تھا لیکن براہِ راست ایسی بڑی جنگ موجود نہ تھی جس میں ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت اور دوسری طرف اسلامی انقلاب کا مرکز کھڑا ہو۔

 اس سے پہلے مجالس میں کربلا کے تاریخی پہلو، اخلاقی اسباق، اصلاحِ امت اور انفرادی تربیت پر زیادہ گفتگو ہوتی تھی۔ عزاداری کا محور زیادہ تر ماضی کی یاد اور دینی شعور کی تجدید تھا۔ اس مرتبہ صورتِ حال مختلف ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں اور خطے میں پھیلی بے یقینی نے کربلا کے کئی تصورات کو نئی معنویت عطا کر دی ہے۔ مزاحمت، استقامت، ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانا، شہادت اور حق کی سربلندی جیسے موضوعات اب صرف تاریخی واقعات نہیں رہے بلکہ موجودہ سیاسی مباحث کا حصہ بن چکے ہیں۔

 بہت سے لوگوں کے نزدیک ایران کا موقف ایک سیاسی موقف سے بڑھ کر "مزاحمت" کی علامت بن گیا ہے جبکہ مخالف نقطۂ نظر رکھنے والے اسے علاقائی طاقت کی کشمکش قرار دیتے ہیں۔ تاہم دونوں صورتوں میں کربلا کی اصطلاحات اور استعارے پہلے سے کہیں زیادہ استعمال ہو رہے ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے یزیدی اقتدار کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا تھا۔ کربلا کا بنیادی درس یہ ہے کہ حق اور باطل کی جنگ میں عددی قوت فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ اصول اور موقف فیصلہ کن ہوتے ہیں۔

 اسی وجہ سے جب بھی کوئی قوم خود کو بڑی طاقتوں کے مقابلے میں کھڑا دیکھتی ہے تو کربلا اس کے لیے فکری اور جذباتی سرمایہ بن جاتی ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے کربلا کو ایک انقلابی اور مزاحمتی فکر کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ کے دوران بھی ایرانی قیادت، ذرائع ابلاغ اور عوامی حلقوں میں عاشورا اور کربلا کے استعارے نمایاں رہے ہیں۔

 اس سال کی مجالس میں شاید سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا سوال یہ ہو کہ کیا کربلا صرف گریہ کا نام ہے یا ظلم کے خلاف عملی موقف کا بھی نام ہے؟ یہ سوال پہلے بھی موجود تھا مگر جنگی حالات نے اسے زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ عزاداری کا روایتی پہلو اپنی جگہ اہم ہے لیکن نوجوان نسل اب یہ جاننا چاہتی ہے کہ امام حسین (ع) کا پیغام آج کی عالمی سیاست، استکبار، سامراج اور امتِ مسلمہ کے مسائل سے کس طرح متعلق ہے۔

 اس محرم کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ طاقت اور حق ایک ہی چیز نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یزید کے پاس اقتدار تھا مگر حق حسین (ع) کے ساتھ تھا۔ آج بھی قوموں کی عزت صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر استقامت سے قائم ہوتی ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی حمایت تعداد سے مشروط نہیں، ظلم کے خلاف خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ ایک موقف ہے، شہادت شکست نہیں بلکہ مقصد کی بقا کا ذریعہ بن سکتی ہے اور عزت کی زندگی ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

 شہادتوں سے کبھی راہ بر نہیں مرتے

لہو چراغ بنے تو سفر نہیں مرتے

ای میل کریں