تحریر: سید طالب حیدر (قم المقدسہ)
امام حسین عليہ السلام نے اپنے بیٹے امام سجّاد عليہ السلام سے فرمایا يا وَلَدِي يا عَلِىُّ وَاللَّهِ لا يَسْكُنُ دَمِي حَتّى يَبْعَثَ اللَّهُ الْمَهْدِىَّ فَيَقْتُلَ عَلى دَمِي مِنَ الْمُنافِقِينَ الْكَفَرَةِ الْفَسَقَةِ سَبْعينَ أَلْفاً: اے میرے بیٹے! اے علی! خدا کی قسم میرے خون کی تاثیر ٹھنڈی نہیں پڑے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مہدی کو بھیج دے تو وہ میرے خون کے بدلے میں ستر ہزار فاسق منافقین کو قتل کرے گا۔ (مناقب ابن شہر آشوب: ج 4: ص 92، بحارالانوار، ج 45: ص 89)۔ اس روایت میں امام حسین علیہ السلام کا جو جملہ انتہائی قابل توجہ ہے وہ یہ ہے "لا يَسْكُنُ دَمِي" (میرے خون کی تاثیر ٹھنڈی نہیں پڑے گی) یعنی میرا خون جوش مارتا رہے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خون کے جوش مارنے کی کیا کیفیت ہوگی؟ اور کسی طرح عاشورہ کی فضا تسلسل برقرار رکھے گی؟ جو چیز واضح ہے وہ یہ ہے کہ جہاں بھی ظالم کے خلاف آواز اٹھے گی اور اس کے ظلم کو قبول نہیں کیا جائے گا، یہ سید الشہداء علیہ السلام کے تاریخی جملے "مثلی لا یبایع مثل یزید" (مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا) پر عمل ہوگا اور اس ناحق خون کی حرارت سے یہ تحریک جوش میں آئے گی اور یہ جوش در حقیقت سید الشہداء علیہ السلام کے خون کے جوش میں آنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے مظاہر طول تاریخ میں نظر آتے ہیں جہاں مظلوموں نے حسینی خون کی حرارت سے استفادہ کرتے ہوئے ظالم کے خلاف قیام کیا۔
انقلاب اسلامی ایران اس کی بہترین مثال ہے جس کیلئے امام خمینی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اسی محرم اور صفر سے ہے، ایک اور نکتہ جو آج تک سید الشہداء علیہ السلام کے پاکیزہ خون کی حرارت کا باعث ہے وہ ان کے مظلومانہ خون کا قصاص طلب کرنا ہے۔ یہ قصاص ہر دور کے ظالم سے اس کے ظلم کے خلاف قیام کرکے طلب کرنا ہے۔ امام باقر علیہ السلام سورہ اسراء کی آیت 33 (وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا) کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں کہ "ھو حسین بن علی قتل مظلوما و نحن اولیاوہ و القائم منا اذا قام طلب بثار الحسین" (یہاں منظور حسین بن علی (علیھما السلام) ہیں کہ جنہیں مظلومانہ قتل کیا گیا اور ہم ان کے خون کے وارث ہیں اور جب ہمارے قائم کا ظہور ہوگا تو وہ خون حسین کا انتقام لے گا) (تفسیر العیاشی، ج2, ص 290)۔
سوال انتہائی سادہ سا یہاں یہ ہے کہ کیا بقیہ آئمہ علیھم السلام کہ جو سید الشہداء علیہ السلام کے مظلومانہ خون کے وارث ہیں، انہوں نے اور ان کی پیروی میں ان کے سچے چاہنے والوں نے اس خون کے انتقام کیلئے کچھ کوششیں نہیں کی ہوں گی؟ جس طرح زمین سے پانی کا ابلنا اور سورج کی روشنی کا فطرت میں پھیلنا، سرسبز و پھلدار درختوں اور خوبصورت رنگ برنگے پھولوں اور نباتات کی نشوونما اور حیات کا سبب بنتا ہے، اسی طرح سید الشہداء علیہ السلام کے خون کی حرارت اور نور کی نورانیت، اخلاق مدار اور پاکیزہ فطرت انسانوں کی حیات طیبہ کا سبب بنتی رہے گی اور حسینی نور کی یہ شعاعیں، لاکھوں گمراہ انسانوں کو نجات کی کشتی تک پہنچا کر ان کی سعادت اور خوش بختی کو میسر کرتی رہیں گی۔