تحریر: سید اسد عباس
پچھلے کچھ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ نے عالمی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس جنگ کے آغاز سے ہی پاکستانی صحافت میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی گئی۔ وہ لکھاری جو شاید کبھی مسلکی بنیادوں پر سوچتے تھے، آج ایران کی استقامت، عوامی وحدت اور قیادت کی جانثاری کو دیکھ کر ان کے نظریات بدل چکے ہیں اور وہ کھل کر ایران کے حق میں لکھ رہے ہیں۔ 28 فروری 2026ء کو امریکی و اسرائیلی مشترکہ آپریشن "ایپک فیوری" کے دوران رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور پھر جولائی (4 تا 11 جولائی 2026ء) میں ہونے والی ان کی تاریخی تشییع جنازہ نے پاکستانی اخبارات کے ادارتی صفحات پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
انگریزی اور اردو صحافت کے کالم نگاروں اور اداریوں کا متفقہ بیانیہ یہ ہے کہ یہ جنازہ محض ایک سوگ نہیں تھا، بلکہ قومی مزاحمت، خود مختاری اور نظریاتی فتح کا استعارہ تھا۔ روزنامہ ڈیلی ٹائمز کے لکھاری سجاد احمد رستمانی نے اپنے کالم "Farewell, Khamenei" میں اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر نے اپنے اداریے "Iran’s resilience" میں یہ واضح کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کا یہ اندازہ مکمل طور پر غلط ثابت ہوا کہ اس حملے سے ایران میں رجیم چینج ہو جائے گا یا نظامِ حکومت منہدم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، تہران سے مشہد تک امڈنے والے لاکھوں کے مجمع نے ثابت کیا کہ ایران ایک ناقابلِ تسخیر نظریاتی تحریک بن چکا ہے۔ روزنامہ دی نیشن کے مدیر نے اپنے کالم "National Spirit" میں اسے بجا طور پر ویتنام اور فلسطین کی مزاحمت سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا کہ مادی طاقت انفراسٹرکچر کو تو تباہ کرسکتی ہے، مگر قوم کے نظریاتی جذبوں کو نہیں کچل سکتی۔
اس جنازے میں ابھرنے والی سفارتی اور علاقائی حرکیات بھی کالم نگاروں کی توجہ کا مرکز رہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے لکھاری سرور منیر راؤ نے اپنے کالم "ایران کے سپریم لیڈر کی تدفین، ایک جائزہ" میں اور روزنامہ نوائے وقت کے مدیر نے اپنے اداریئے "علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں پاکستانی قیادت کی شرکت" میں واضح کیا کہ تہران، قم، نجف، کربلا اور بالآخر 9 جولائی کو مشہد میں امام رضاؒ کے روضے پر تدفین تک جاری رہنے والی ان رسومات میں 100 سے علاقائی وفود (بشمول روس، چین اور سعودی عرب) کی شرکت نے ایران کو تنہاء کرنے کے مغربی خواب کو چکنا چور کر دیا۔ روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر نے اپنے اداریئے "شہید علی خامنہ ای کا سفر آخرت" میں لکھا کہ اس کٹھن وقت میں پاکستان کا کردار انتہائی نمایاں اور مخلصانہ رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت اور پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں دو ماہ کی عبوری جنگ بندی اور اسلام آباد میں متوقع تکنیکی مذاکرات نے خطے کو مزید تباہی سے بچایا۔
روزنامہ ایکسپریس کے کالم نویس تنویر قیصر شاہد نے اپنے کالم "الوداعی سلام، جذباتی مناظر اور ایران مخالف بھارتی عناد" میں بھارت کے معاندانہ اور منافقانہ رویئے کو بے نقاب کیا۔ نئی دہلی نے جنگ میں خاموشی اختیار کرکے دراصل حملہ آوروں کی بالواسطہ حمایت کی، ایک ایرانی بحری جہاز کی مخبری کرکے 80 سے زائد ایرانیوں کو شہید کروایا اور جنازے میں وزیراعظم مودی کے بجائے جونیئر حکام کو بھیج کر توہین کا ثبوت دیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا، جب حملے سے محض دو دن قبل مودی کا تل ابیب میں ہونا صہیونی و بھارتی گٹھ جوڑ کو واضح کرتا ہے۔ پاکستانی صحافیوں نے شہید رہبر کی بے مثال شجاعت کو بھی شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
روزنامہ پاکستان کے کالم نویس محمد افضل عاجز نے اپنے کالم "الوداع اے مرد میدان" میں، روزنامہ پاکستان کی لکھاری ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے اپنے کالم "شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے" میں اور روزنامہ نوائے وقت کے لکھاری مطوب وڑائچ نے اپنے کالم "خامنہ ای: جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا" میں یہ بات نمایاں کی کہ 86 سالہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے 36 سالہ دورِ قیادت میں ولایتِ فقیہ کو مضبوط کیا اور ایران کو میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے خطے کی ایک مضبوط طاقت بنایا۔ روزنامہ پاکستان آبزرور کے لکھاری طارق عاقل نے اپنے کالم "The Legacy of Ayatollah Ali Khameni" میں لکھا کہ حملوں کے خطرے کے باوجود انھوں نے اور ان کے مشیر علی لاریجانی شہید نے محفوظ بنکرز میں چھپنے کی تجویز کو مسترد کر دیا اور عوام کے ساتھ کھلے آسمان تلے جینے مرنے کو ترجیح دی، جو ان کے سچے حسینی کردار کی عکاس ہے۔
اس سوگوار مگر پرجوش فضا کے جذباتی مناظر کو روزنامہ جنگ کے لکھاری ڈاکٹر زاہد منیر عامر (جو ایران مقیم ہیں) انہوں نے اپنے کالم "شہید رہبر کے جنازے کا آنکھوں دیکھا حال" میں تہران سے قلمبند کیا۔ انھوں نے لکھا کہ شدید گرمی اور حملوں کے خطرے کے باوجود لاکھوں سوگوار، خصوصاً پرجوش خواتین اور نوجوان، امریکہ و اسرائیل کے خلاف انتقام کے نعرے لگاتے رہے۔ اس مجمع میں "خیابانِ پاکستان" کی تختیوں اور اردو بینرز نے پاک ایران عوامی محبت کی گواہی دی۔ روزنامہ دنیا کے لکھاری رشید صافی نے اپنے مضمون "ایران کی نظریاتی فتح اور مشرق وسطی کا مستقبل" میں اور روزنامہ پاکستان کے لکھاری ڈاکٹر سرور حسین نے اپنے کالم "شہید کا جنازہ، قرآنی سفارتکاری اور جنگ کا آغاز نو" میں تحریر کیا کہ مجمع میں حزب اللہ کے پیلے پرچموں کی لہراتی بہار اور غیر ملکی وفود کے لیے چنیدہ قرآنی آیات کا استعمال ایران کی بہترین "قرآنی سفارت کاری" اور اس بات کا ثبوت تھا کہ ایران کا علاقائی دفاعی نیٹ ورک مکمل طور پر مستحکم ہے۔
نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی طرف اقتدار کی پرامن منتقلی اور ایرانی قیادت کے متوازن بیانیے نے واضح کر دیا ہے کہ ایران اندھے جذبات کے بجائے حکمت سے چل رہا ہے۔ روزنامہ ایکسپریس کے مدیر نے اپنے اداریئے "عظیم رہبر کا جنازہ" میں اور روزنامہ دی نیوز کے ایڈیٹر نے اپنے اداریئے "Message From Tehran" میں واضح کیا کہ ایک طرف آبنائے ہرمز پر جہازوں پر سروس فیس عائد کرکے اپنی جغرافیائی اہمیت کا لوہا منوایا جا رہا ہے اور دشمن سے سخت انتقام (آپریشن وعدہ صادق 4) کا عزم دہرایا جا رہا ہے تو دوسری جانب قومی مفاد کے لیے دانشمندانہ سفارت کاری کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے ہیں۔ روزنامہ ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر نے اپنے اداریئے "Khamenei’s Funeral" میں بھی اسی سفارتی لچک اور تزویراتی توازن کی تصدیق کی۔
روزنامہ ایکسپریس کی مقتدر لکھاری زاہدہ حنا نے اپنے مضمون "جنازے بھی تاریخ لکھتے ہیں" میں جو الفاظ تحریر کیے، وہ آج کے حالات کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں کہ "جنازے بھی تاریخ لکھتے ہیں۔" ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے اپنی جگہ، لیکن رہبرِ انقلاب کا یہ جنازہ اور عوام کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر دنیا کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ حکمران کی اصل میراث محلات یا دولت نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں وہ جگہ ہے، جو استقامت، اصولی جدوجہد اور بے لوث قربانیوں سے کمائی جاتی ہے۔ شہید کی جو موت ہے، واقعی وہ قوم کی حیات ہے۔