عاشورا امام خمینی رہ کی نظر میں
عاشورا انسانی تاریخ کا ایک ایسا عظیم اور پرجوش واقعہ ہے جس نے لاکھوں انسانوں کے جذبات کو متاثر کیا ہے اور جغرافیائی و عقیدتی سرحدوں سے بالاتر ہو کر اپنی ایک منفرد پہچان قائم کی ہے۔ امام حسینؑ کی قربانی اور کربلا کا واقعہ نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی احترام اور عقیدت کا باعث رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس واقعے کی عظمت اور اثرات میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اسلامی انقلاب ایران کے بانی امام خمینیؒ نے بھی عاشورا اور کربلا کو اپنی فکری اور انقلابی تحریک کا بنیادی سرچشمہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک امام حسینؑ کا قیام ظلم کے خلاف حق کی جدوجہد کا عملی نمونہ تھا، جس نے ان کے انقلاب کو نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ وہ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے کہ “خون کی فتح تلوار پر” عاشورا کا بنیادی پیغام ہے۔
تاریخی طور پر ایران میں محرم اور عاشورا کے اجتماعات نے عوامی بیداری اور سیاسی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ 1979 کے انقلاب کے دوران بھی عوامی مظاہروں نے شاہی نظام کے خلاف فیصلہ کن اثر ڈالا، اور اس کے بعد بھی محرم کو انقلابی جذبے اور مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔
امام خمینیؒ کی تقاریر اور تحریروں میں بارہا یہ تصور ملتا ہے کہ انقلاب اسلامی دراصل عاشورائی فکر کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق امام حسینؑ کا مقصد معاشرے کی اصلاح، ظلم کے خاتمے اور عدل و انصاف کا قیام تھا، اور یہی اصول اسلامی انقلاب کی بنیاد بھی ہیں۔
اس فکری پس منظر میں عاشورا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مستقل نظریہ اور جدوجہد کی علامت بن چکا ہے جو ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان کشمکش کو واضح کرتا ہے۔