قیام امام حسین (ع) کی فکری و اعتقادی بنیادیں

قیام امام حسین (ع) کی فکری و اعتقادی بنیادیں

واقعۂ کربلا کے بارے میں مختلف آراء پیش کی جاتی رہی ہیں

تحریر: مہر عدنان حیدر

 

واقعۂ کربلا کے بارے میں مختلف آراء پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ایک گروہ کے نزدیک کربلا کی اصل وجہ کوفہ والوں کی بے وفائی تھی، جبکہ دوسرا گروہ مدینہ والوں کی خاموشی اور عدمِ مزاحمت کو اس سانحے کا سبب سمجھتا ہے۔ اگرچہ ان دونوں نقطۂ نظر کے حق میں دلائل بھی دیئے جاتے ہیں، لیکن کربلا کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس عظیم واقعے کو صرف انہی اسباب تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کربلا محض ایک سیاسی تنازع نہیں تھا اور نہ ہی کوئی وقتی سانحہ کہ یزید نے امام حسینؑ سے بیعت طلب کی اور امام حسینؑ نے بیعت سے انکار کر دیا اور یہی وجہ بنی کہ کربلا جیسا عظیم واقعہ رونما ہوگیا۔ یہ ایک ظاہری اور زمینی حقیقت تو ہوسکتی ہے، مگر اصل کربلا، جو امام حسینؑ کے پیشِ نظر تھی اور جس سے ہمیں امامؑ کے کلام کے ذریعے آگاہی حاصل ہوتی ہے، اس سے کہیں بلند تر حقیقت کی حامل ہے۔

کربلا حق اور باطل کے درمیان ایک الہیٰ معرکہ تھا۔ خداوندِ عالم ہر دور میں حق کی پہچان کے لیے اپنے نمائندے اور نشانیاں مقرر کرتا ہے۔ امام حسینؑ اپنے زمانے میں حق کی وہ عظیم علامت تھے، جن کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل واضح ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ امامِ زمانہؑ کے نائب علی بن محمد سمری سے کسی نے سوال کیا کہ اگر امام حسینؑ خدا کے دوست تھے تو پھر خدا نے اپنے دوست پر دشمن کو کیوں مسلط کیا اور دوست کا سر کٹ کر نیزے پر چڑھ گیا۔؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ خدا کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ ہر انسان پر براہِ راست حق و باطل واضح کر دے، بلکہ خدا ہر دور میں اپنے نمائندہ نمونے اور علامات مقرر کرتا ہے۔ امام حسینؑ اپنے عہد میں حق کے الہیٰ نمونے تھے اور خدا ہر دور میں لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء، صالحین اور شہداء کے عمل کو بطورِ نمونہ پیش کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کا قیام کسی وقتی ردِعمل یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں تھا، بلکہ دینِ اسلام کی حفاظت اور الہیٰ مشن کی تکمیل کے لیے تھا۔ اگرچہ کوفہ سے آپؑ کے پاس ہزاروں خطوط آئے اور لوگوں نے آپؑ کو مدد کے لیے بلایا، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ صرف انہی خطوط کی وجہ سے آپؑ نے اس سفر کا آغاز کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ امام حسینؑ اپنی شہادت اور کربلا کے واقعے سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ رسولِ اکرمﷺ نے آپؑ کی ولادت کے وقت ہی کربلا کی خبر دی تھی اور اس کا تذکرہ کتبِ اہلِ سنت میں بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ: "بی بی اُمِّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: آج میرے پاس ایک ایسا فرشتہ آیا، جو اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا قتل کر دیا جائے گا۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کے مقتل کی مٹی آپ کو دکھا دیتا ہوں۔ پھر اس نے سرخ مٹی نکال کر مجھے دکھائی۔"

اسی طرح حضرت علیؑ جب جنگِ صفین کے لیے جاتے ہوئے دریائے فرات کے کنارے سے گزرے تو اس سرزمین پر رک گئے اور فرمایا کہ ایک دن میرا بیٹا حسینؑ اسی مقام کے قریب پیاسا شہید کیا جائے گا۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ جب امام حسینؑ مدینہ سے روانہ ہونے لگے تو اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہؓ نے آپؑ کو سفر سے منع کیا اور فرمایا: "بیٹا! مجھے غمگین نہ کرو، میں نے تمہارے نانا رسولِ خداﷺ سے سنا ہے کہ میرا بیٹا حسینؑ عراق کی سرزمین کربلا میں شہید کیا جائے گا۔" امامؑ نے جواب دیا: "اماں جان! میں بھی جانتا ہوں کہ میں سرزمینِ عراق سے زندہ واپس نہیں آؤں گا۔" اسی طرح امامؑ کے بھائی محمد بن حنفیہ نے مشورہ دیا کہ آپؑ کوفہ کے بجائے یمن چلے جائیں، کیونکہ وہاں حالات نسبتاً بہتر ہیں۔ لیکن اگلی صبح ہی امامؑ نے کوفہ کا ارادہ ظاہر کیا۔

اس پر محمد بن حنفیہ دوڑ کر آئے اور عرض کیا: "بھائی! آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ اس معاملے پر غور کریں گے۔" امام حسینؑ نے فرمایا: "تمہارے جانے کے بعد میرے جد رسولِ اکرمﷺ تشریف لائے اور فرمایا: "حسین!  تمہاری شہادت کا مقام مقرر ہے۔ خدا کی مشیت یہی ہے کہ تم اس راہ میں شہید ہو۔" یہی وجہ ہے کہ کربلا کو صرف کوفہ والوں کی بے وفائی یا مدینہ والوں کی خاموشی کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ کربلا ایک الہیٰ مشن، ایک عظیم قربانی اور حق کی سربلندی کا عہد نامہ ہے۔ امام حسینؑ نے خدا کی رضا اور دینِ اسلام کی بقا کے لیے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتؑ اور اپنے اصحاب کی قربانی پیش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ امام حسینؑ نے اپنے خطبات میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ کربلا میں قیام کا مقصد صرف یہ ہے کہ یزید نے مجھ سے بیعت طلب کی ہے اور میں اس کے نتیجے میں قیام کر رہا ہوں۔

بلکہ مکہ سے روانگی کے دوران ہی امامؑ کو مسلم بن عقیلؑ کی شہادت کی خبر مل چکی تھی اور کوفہ کے حالات بھی آپؑ کے سامنے واضح تھے۔ یہاں تک کہ آپؑ کو بتایا گیا تھا کہ "کوفیوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں۔" وہ بنیادی مقصد جو امام حسین کے پیش نظر تھا، وہ دین کی سربلندی تھی، اسی لیے امام حسین نے مدینہ سے روانگی کے وقت ہی اپنے قیام کا مقصد واضح کر دیا تھا کہ "میں خود پسندی، فساد اور ناانصافی کرنے نہیں نکلا بلکہ میں اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے روکا نہیں جا رہا، میں اس حالت میں ظالمین کے ساتھ زندہ رہنے کو ذلّت مانتا ہوں۔"

ای میل کریں