آہ، شب ضربت، زمین و آسمان گریہ کناں

آہ، شب ضربت، زمین و آسمان گریہ کناں

جی ہاں! اسی رات یعنی 21 رمضان المبارک 40 ہجری قمری کو ایسا شخص شہید ہوا کہ دنیا میں دوست و دشمن، سب اس کی عظمت و کمال سے حیران رہ جاتے تھے۔

امام خمینی(رح): حضرت علی(ع) کی شہادت کے بعد سے ایسے افسوسناک مسائل شروع ہوگئے جن پر خون کے آنسو بہانا چاہئے۔

آج کی غم و اندوہ رات علی علیہ السلام سے جدائی کی رات ہے۔

امت اسلامیہ کے مہربان باپ کے فراق میں زمین و آسمان گریہ کناں ہیں۔

ایسا باپ جو یتیم بچوں کی آہ و بکا اور غموں میں شریک رہا ہے، لیکن کوئی علی علیہ السلام کی تنہائی اور ان کے اندرونی غم و غصّے سے آگاہی نہیں رکھتا تھا۔

علی، وہی بہادر انسان کہ جن کو پیغمبر اکرم نے کل ایمان قرار دیا۔

اس تمام تر تنہائی اور منافقوں کی دشمنی کے باوجود، علی علیہ السلام کے ایمان کی روشنی کبھی خاموش نہیں ہوئی اور اپنے اور پرائے سب نے اس سے فیض حاصل کیا۔ زہر میں ڈوبی ہوئي تلوار، دنیا کے شقی ترین فرد کے ہاتھ میں ہے اور محراب عبادت میں موجود عدل انصاف کے پیکر کے سر کو شگافتہ کر رہی ہے اور علی علیہ السلام کی "فزت و ربّ الکعبہ" کی آواز نے مومنوں کے دل سے ہمیشہ کا قرار و سکون چھین لیا۔

جی ہاں! اسی رات یعنی 21 رمضان المبارک 40 ہجری قمری کو ایسا شخص شہید ہوا کہ دنیا میں دوست و دشمن، سب اس کی عظمت و کمال سے حیران رہ جاتے تھے اور سب نے علی علیہ السلام کی عظمت و بزرگواری کا اعتراف کیا ہے۔

لبنان کے مشہور و معروف مصنف، جبران خلیل جبران کا کہنا ہےکہ حضرت علی ابن ابیطالب، اپنی عظمتوں اور فضائل کی بنا پر شہید کردیئے گئے۔

علی علیہ السلام کے سر پر ضربت ایسی حالت میں لگی کہ آپ نماز میں مشغول تھے اور اپنے پروردگار کے ساتھ راز و نیاز کر رہے تھے۔ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی عمر کے آخری لمحات تک دین مبین اسلام کی ترویج و نشر و اشاعت کے کاموں میں مصروف رہے۔ مولا علی علیہ السلام نے اپنی بابرکت عمر کے آخری گھنٹوں میں اپنے بیٹے حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کو وصیت فرمائی ہےکہ جو تاریخ میں ہمیشہ موجود رہےگی اور انسانوں کےلئے اچھی زندگی گزار کا عظیم درس دیتی ہے۔

مولا علی علیہ السلام نے اس وصیت میں فرمایا:

بیٹا حسن! تم اور میرے تمام بچوں اور اہل بیت اور ہر وہ شخص کہ جس تک میری یہ وصیّت پہنچے، سب کو ان امور کی نصیحت کرتا ہوں۔ تقوائے الہی کو ہرگز فراموش نہ کرو، کوشش کرو تا دم مرگ دین خدا پر باقی رہو۔ سب ملکر خدا کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہو اور ایمان و خدا شناسی کی بنیاد پر متحد اور تفرقے سے باز رہو۔

پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: لوگوں کے درمیان اصلاح کا عمل، دائمی نماز و روزہ سے افضل ہے اور وہ چیز کہ جو دین کو محو کرتی ہے، فساد و اختلاف ہے۔

اس کے بعد مولا علی علیہ السلام نے امور زندگی میں نظم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سے مراد سماجی، اقتصادی اور سیاسی سلامتی ہے۔ اس کے ساتھ عبادات، گھر کے امور اور تعلیم و تربیت میں نظم بھی شامل ہے۔ یہی نظم جو خداوند متعال نے مقرر فرمایا ہے، اس کے دائرے میں عالم ہستی قائم ہے۔ ایسے معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہےکہ جو نظم سے عاری ہو اور ہر وہ انسان کہ جو بے نظمی کا شکار رہے، کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتا، چاہیے اس میں کتنی ہی صلاحتیں موجود کیوں نہ ہوں۔

مولا علی علیہ السلام اپنے گرانقدر وصیّت نامے میں اجتماعی، عبادی اور اخلاقی مسائل کے بارے میں اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وصیّت کو اللہ اللہ کہہ کر شروع کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہےکہ ان امور پر نہایت ہی تاکید کی گئی ہے۔

مولا علی علیہ السلام نے وصیّت کا آغاز یتیموں کے امور سے کرتے ہوئے، فرمایا: خدا را! خدا را! یتیموں کے حقوق کا لحاظ رکھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کبھی بھوکے اور کبھی سیر ہوں اور تمہاری موجودگی میں ان کو کوئی نقصان پہچے۔

اس کے بعد مولا پڑوسیوں کے بارے میں اس طرح فرمایا: خدا را! خدا را! اپنے پڑوسیوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آؤ، کیونکہ پیغمبر اکرم نے اس کی نصیحت فرمائی ہے۔

آپ مزید فرماتے ہیں: خدا را! خدا را! قرآن کے احکام پر عمل کو فراموش نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ دیگر لوگ قرآن میں عمل کے حوالے سے تم سے آگے نکل جائيں۔

مولا علی علیہ السلام نماز کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خدا را! خدا را! نماز کو قائم کرو، کیونکہ یہ دین کا ستون ہے۔

نماز انسان کو ہمیشہ خدا کے ساتھ منسلک اور فرد میں تقوی کی روح کو زندہ رکھتی ہے، لہذا انسان کو فحشا و منکر سے دور رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے اور اسی لئے دین کا خیمہ اسی کے ذریعے قائم ہے۔

امیر المومنین حج کے بارے میں وصیت فرماتے ہیں: خدا را! خدا را! کعبہ خانہ خدا ہے، ایسا نہ ہو کہ اس کو فراموش کردیا جائے۔ اگر حج کو چھوڑ دیا جائے تو مہلت نہیں دی جائےگی اور دوسرے تم کو اپنے جال میں پھسا لیں گے۔

نیز فرماتے ہیں: خدا را! خدا را! راہ خداوند متعال میں کئے جانے والے جہاد میں اپنے مال، اپنی جان اور زبان سے دریغ نہ کرو۔

جان کے ذریعے جہاد یعنی اسلام کی حفاظت کےلئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ مال کے ذریعے جہاد یعنی اسلام و مسلمانوں کے تحفظ کےلئے لشکر اسلام کے رضاکاروں کی مالی مدد کرنا ہے۔ اور زبان سے جہاد کے معنی ہیں، اسلام کی ترقی و پیشرفت کےلئے منطقی دفاع اور مسلسل تشہیراتی مہم کا حصہ بنا ہے۔

البتہ اس بات پر بھی توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہےکہ جہاد کے مقدس عنوان سے غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ افسوس کا مقام ہےکہ آج بعض دہشتگرد تکفیری گروہ، امت اسلامیہ میں تفرقہ پیدا کرنے اور مسلمانون کے قتل عام اور انسانیت سوز جرائم کے ارتکاب میں جہاد کے مقدس لفظ کو استعمال کر رہے ہیں اور تکفیری دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جہاد کا جو تصور پیش کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی تعلیمات اور احکام کے منافی ہے اور یہ فرق پیغمبر اکرم کے دور میں ہونے والے غزوؤں اور جنگوں پر معمولی توجہ ڈالنے سے معلوم ہوجائےگا۔

مولا علی علیہ السلام اس وصیّت نامے میں فرماتے ہیں: تم پر لازم ہےکہ محبت و دوستی کے رشتوں کو قوی کرو اور بخشش و مہربانی کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤ اور اسے فراموش نہ کرو، ایک دوسرے سے روابط کو منقطع نہ کرو اور آپس میں مل جل کر رہو۔

اسلام میں باہمی محبت و دوستی کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور نفرت اور کینہ اور جدائی کی مذمت کی گئی ہے۔ نواسہ رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ جس وقت دو مسلمان آپس میں لڑ جھگڑتے ہیں تو شیطان خوشی کے نقارے بجاتا ہے، لیکن جس وقت دو مسلمان آپس میں دوستی اور صلح کرتے ہیں تو شیطان اپنا سر پیٹ لیتا ہے۔

امیر المومنین علی علیہ السلام اپنے نورانی وصیّت نامے کے ایک اور حصے میں فرماتے ہیں: امر بہ معروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرنا اور اگر ایسا کیا تو شر پسند عناصر تم پر مسلط ہوجائیں گے اور اس وقت تم جو بھی دعا کروگے وہ مستجاب نہیں ہوگی۔

مولا علی علیہ السلام کے اس آخری کلام یا وصیت پر مسلمان اگر عمل اور اپنی زندگيوں میں اس کو رائج کرے تو یقینی طور پر دنیا و آخرت میں اسے سربلندی اور عزت و شرف حاصل ہوسکتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہےکہ علی کو نہیں پہنچانا گیا۔ علی مظلوم رہے اور مظلومانہ طریقے سے شہادت پائی اور مظلومانہ دفن ہوئے اور آپ کا حرم مطہر امام جعفر صادق(ع) کے زمانے تک پنہاں رہا۔

جی ہاں! علی علیہ السلام کی اعلی اقدار جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ، کتاب اللہ اور ذات خالق سبحانہ کی تعلیمات اور اقدار کا جلوہ نما تھی کی شناخت موجود زمینی کو حاصل ہوئے بغیر، آپ اس دنیا سے چلے گئے اور دنیا ابدی حسرت میں گرفتار ہوگئی۔

وسلام علیہ یوم ولد و یوم انتقل الی جوار رحمت ربـّہ و یوم یبعث حیّـــا

وآخر دعونا ان الحمدللہ رب العالمین

التماس دعــــا

http://urduold.ws.irib.ir/

ای میل کریں