اسلامی انقلاب نے عوام کو استکباری سازشوں سے آگاہ کیا

اسلامی انقلاب نے عوام کو استکباری سازشوں سے آگاہ کیا

تمہیں وہ دن مبارک ہو جس دن تم نے جوانوں کی شہادت اور طاقت فرسا مصیبتوں کے بعد، دیو صفت دشمن اور فرعون وقت کو زمیں بوس کردیا۔

ہر انقلاب کی ماہیت اور روش کا اندازہ اس کے نعروں سے ہوتا ہے اور ایرانی عوام کے نعرے، خلاصہ ہوتے ہیں:
بلاتردید ظالم شاہی حکومت کے خلاف ہوئے مقابلوں میں لوگوں کا سب سے بنیادی نعرہ استقلال طلبی تها۔

شاہ کے زمانے کا ایران علاقہ میں محافظ دستہ کے حکم میں امریکا اور مغرب کےلئے کام کرتا تها۔ شاہ کی فوج، مکمل طورپر امریکی جنرل کے اختیار میں تهی اور اس کا اپنا کوئی ارادہ نہ تها۔ استقلال اور آزادی، ایرانی عوام کےلئے انقلاب اسلامی کا بہت بڑا تحفہ تهی اور آج بلا مبالغہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایران، آزادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے اچها ملک شمار ہوتا ہے۔

 

آخری دو صدیوں میں عوامی مطالبات کے زمرے میں ہمیشہ انقلابوں اور تحریکوں کے اہداف و مقاصد میں سرفہرست، ایران کی استقلال طلبی اور آزادی خواہی رہی ہے۔

ظالم اور ڈکٹیٹر شاہ پہلوی نے اضطراب اور گهٹن کا ماحول بنا کر ایرانی قوم کو معمولی آزادی سے بهی محروم کردیا تها اور اس جگہ پر قید خانے راہ حق میں جہاد کرنے والوں سے بهرے ہوئے تهے، ایسے گهٹن کے ماحول میں ایرانی عوام نے جمہوری اسلامی کے ہمراہ آزادی اور "استقلال" کا نعرہ بلند کیا۔

جمہوری اسلامی نے ۹۸فیصد سے زیادہ ایرانی عوام کے ووٹ سے شاہی سلطنت کی جگہ لی۔ امام خمینی[رح] نے اس دن کو عید کا دن اعلان کیا اور اپنے پیغام میں فرمایا:

تمہیں وہ دن مبارک ہو جس دن تم نے جوانوں کی شہادت اور طاقت فرسا مصیبتوں کے بعد، دیو صفت دشمن اور فرعون وقت کو زمیں بوس کردیا اور اس کو ایران سے فرار کرنے پر مجبور کردیا اور اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے بهاری اکثریت سے شاہی سلطنت کی جگہ، جمہوری اسلامی کو بٹها کر حکومت عدل الہی کا اعلان کیا، ایسی حکومت جس میں سب کو ایک ہی نظر سے دیکها جائے گا اور عدل الہی کا سورج سب پر یکساں نور افشانی کرےگا اور قرآن و سنت کی باران رحمت سب پر یکساں نازل ہوگی۔

صحیفہ امام، ج۶، ص۴۵۳

 

"نہ شرقی نہ غربی، جمہوری اسلامی" اور "ہر طرح کی تسلط جوئی اور تسلط پذیری کی نفی"

خارجہ پالیسی کے اصول میں سرفہرست،

ہمہ جانبہ استقلال اور ملک کی سرزمین اور سرحدوں کی حفاظت،

تمام مسلمانوں کے حقوق کا دفاع،

سامراجی اغیار سے کوئی عہد و پیمان نہ کرنے کا عہد،

جنگ نہ کرنے والی حکومتوں سے صلح آمیز روابط،

ہر اس معاہدہ پر پابندی جو اغیار کے تسلط کا موجب ہو اور دنیا کے کسی بهی گوشہ و کنار میں موجود مستکبرین عالم کے مقابلے میں مستضعفین عالم کے حق طلب مقابلہ کی حمایت۔

 

ماخذ: تبیان

ای میل کریں