امام خمینی (رح)

خطا کا اعتراف کرنا انسان کی سربلندی کا باعث ہے

انسان کامل وہی ہے کہ اگر اس نے یہ سمجھا کہ اس کی بات حق ہے تو عقل ودلیل سے اسے بیان کرے اور اپنے مطالب کو دلیل وبرہان کے ذریعے دوسروں کو سمجھائے

خطا کا اعتراف کرنا انسان کی سربلندی کا باعث ہے

 

انسانی زندگی کو جاری رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان میں خود پسندی کی صفت رکھی ہے تاکہ حادثوں، اتفاقات اور نقصانات کے وقت انسان اس صفت کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کر سکے اور زندگی کے اسباب حاصل کر سکے۔ خود پسندی کی اسی صفت کی وجہ سے انسان ہر چیز سے زیادہ اپنے آپ سے محبت کرتا ہے اور اپنے لیے سب کچھ چاہتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو سب سے برتر اور بہتر تصور کرتا ہے۔ مجرم لوگ بھی یہ نہیں مانتے کہ وہ دوسروں سے بدتر ہے یا دوسرے اس سے بہتر ہیں، وہ بنیادی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ معاشرے میں حق ضائع ہو گیا ہے اور معاشرہ اس کی قدر نہیں کرتا۔

امام خمینی (رح) خودپسندی کے بارے میں فرماتے ہیں:

آپ اس بات کو اچھی طرح جاں  لیں  کہ اگر آپ نے اپنے نفس میں  موجود چیزوں اور صفات کو لگام نہیں  دی تو آپ دیکھیں گے کہ آپ میں  ایک استبدادی روح پرورش پا رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے آپ کو اتنی اہمیت دیں  کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں  وہی صحیح اور درست ہے اور آپ اپنی ذات کی زنجیروں میں اتنے جکڑے ہوئے ہوں  کہ اگر آپ اپنی غلطی کی طرف متوجہ بھی ہوئے ہیں  لیکن اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیں۔

انسان کامل وہی ہے کہ اگر اس نے یہ سمجھا کہ اس کی بات حق ہے تو عقل ودلیل سے اسے بیان کرے اور اپنے مطالب کو دلیل وبرہان کے ذریعے دوسروں  کو سمجھائے۔ یہ جو قرآن کہتا ہے کہ {لاٰ اِکْراہَ في الدِّین} تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں  پر عقائد کو تھونپا نہیں  جاسکتا۔ اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں  ہے کہ کوئی دوسرے پر عقائد کو تھونپ دے۔ اپنی بات کو کسی کے سر تھونپنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان کسی خراب چیز کو دوسرے کی نظروں  میں  اچھا بنا کر پیش کرے یا اگر وہ صحیح انسان ہو اور تربیت شدہ ہو تو اپنی بات کو دلیل وبرہان سے لوگوں  کو سمجھائے تاکہ ان کے سر پر تھونپ دے۔ اسے چاہیے کہ لوگوں  کو آگاہ اور با خبر کرے نہ یہ کہ لوگوں  کے سر پر ڈنڈا لے کر کھڑا ہوجائے کہ صرف فلاں  راستے پر قدم اٹھائیں ۔ آپ اس معنی کی طرف متوجہ رہیں  کہ اگر آپ ایک دن انشاء اﷲ کسی ادارے کے سربراہ یا عہدیدار بن گئے تو انسان کے اندر موجود اس صفت سے دور رہیں۔

آپ کو چاہیے کہ ابھی سے اس معنی کی طرف توجہ رکھیں کہ مبادا اس بڑی خود خواہی اور انانیت میں  مبتلا ہوجائیں کہ جو استبدادیت اور تمام برائیوں  کی جڑ ہے۔ اگر آپ مشاہدہ کریں کہ آپ نے کوئی غلط کام انجام دیا ہے تو اس کا اعتراف کریں۔ آپ کا یہ اعتراف کرنا آپ کو اقوام عالم کی نظروں میں بلند کرے گا نہ یہ کہ اپنی کوتاہی اور غلطی کا اعتراف آپ کو چھوٹا بنائے گا اور آپ کی تحقیر کا باعث ہوگا۔

 

(صحیفہ امام، ج ۱۴، ص ۹۲)

ای میل کریں