شیخ شہاب الدین سہروردی

شیخ شہاب الدین سہروردی کے تجلیل مقام کی تاریخ

معصوم کی حدیث کی روشنی میں علم مومن کی گم شدہ دولت ہے ایسے جہاں ملے حاصل کرنا چاہیئے

شیخ شہاب الدین سہروردی کے تجلیل مقام کی تاریخ

 

ایران کی جنتری میں 29/ جولائی کی تاریخ شیخ شہاب الدین سہروردی کی یاد منانے کی تاریخ ہے۔ شہاب الدین سہروردی سن 549 ھ ق کو ایران کے زنجان صوبہ میں واقع خدابندہ قصبہ کے توابع میں سہرورد نامی مقام پر پیدا ہوئے۔ سہروردی نے ابتدائی تعلیم جو حکمت، منطق اوراصول و فقہ پر مشتمل تھی فخر رازی کے استاد مجد الدین جیلی کے پاس مراغہ نامی مقام پر حاصل کی اور فلسفہ وحکمت میں نامور شخصیت ہوگئے اور اپنی ذہانت، خیر اندیشی اور ایک طرف ذہن کو مرکوز کرنے کی وجہ سے بہت سارے علوم پر دسترس حاصل کرلی۔ اس کے بعد سہروردی اصفہان آئے جو اس زمانہ میں پورے ایران میں اہم ترین علمی اور فکری مرکز تھا۔ وہاں گئے اور ظہیر الدین قاری کی خدمت میں جا کر اپنی ظاہری تعلیمات کی تکمیل کی۔ ان کے ہم کلاس فخر الدین رازی فلسفہ کے سب سے بڑے مخالف تھے۔ جب سہروردی کی موت کے بعد ان کی کتاب تلویحات کا جب لوگوں نے انھیں ایک نسخہ دیا تو انہوں نے اسے چوما اور اپنے پرانے کلاس کے ساتھی کی یاد میں آنسو بہایا۔

سہروردی نے تعلیمات مکمل کرنے کے بعد ایران کے مختلف علاقوں کا سفر شروع کردیا اور بہت سارے مشائخ تصوف سے ملاقات کی۔ درحقیقت اسی دور میں سہروردی تصوف کے شیفتہ ہوئے اور اعتکاف، عبادت اور فکر میں طولانی زمانہ گذارا۔ یہ فلسفہ اور تصوف میں استاد ہوگئے اور اس درجہ ذہیں تھے کہ کوئی بھی ان سے بحث کرتا تو ہار جاتا تھا۔ یہ بات ان سے دشمنی کا سبب ہوئی۔ انہوں نے حکمة الاشراق شہر حلب میں لکھی ہے۔

ان کی بے باک گفتگو اور کھل کر اپنے باطنی عقائد کا اظہار کںے کی وجہ سے بے شمار دشمن بالخصوص علماء کے درمیان ہوگئے۔ آخر کار دربار سے وابستہ علماء اور درباری لوگوں نے ان کے باطنی عقائد اور بے باک بیان پر مشتمل دستاویز ملک ظاہر کے سامنے رکھ دیں اور اس حاکم سے ان کے قتل کا مطالبہ کیا اور جب اس بادشاہ نے ان لوگوں کی بات نہیں مانی تو پھر صلاح الدین ایوبی سے شکایت کی اور ان اندھے لوگوں نے سہروردی کو کفر و الحاد کا الزام لگایا اور حلب کے علماء نے ان کا خون مباح جانا۔ صلاح الدین نے تازہ تازہ شام کو صلیبیوں کے قبضہ سے نکالا تھا اور اسے اپنے اعتبار کو محفوظ رکھنے کے لئے علمائے دین کی ضرورت تھی لہذا وہ ان تعصب میں ڈوبے ہوئے علماء کی درخواست قبول کرنے پر مجبور ہوا اور اس نے اپنے بیٹے ملک ظاہر پر دباؤ بنایا تو اس نے مجبور ہو کر سہروردی کو 5/ رجب سن 587 ھ ق کو جیل میں ڈال دیا اور شیخ کا اسی جیل میں انتقال ہوگیا۔ موت کے وقت ان کی عمر 38/ سال تھی۔ ان کا مزار شہر حلت میں مسجد امام سہروردی میں ہے۔ سہروردی کے مرنے کی اصلی وجہ معلوم نہیں ہے لیکن مشہور یہی ہے کہ وہ قید خانہ میں بھوک سے مرگئے ہیں۔

معصوم کی حدیث کی روشنی میں علم مومن کی گم شدہ دولت ہے ایسے جہاں ملے حاصل کرنا چاہیئے۔ علم سے محرومی بد نصیبی اور ناکامی کی علامت ہے۔ انسان اپنی فکر کو صحیح سمت لگائے اور فکر کو بروئے کار لاکر انسانوں کی ہدایت اور ترقی کی راہ ہموار کرے۔

ای میل کریں