مرجعیت کیخلاف سازشیں اور ہماری ذمہ داری

مرجعیت کیخلاف سازشیں اور ہماری ذمہ داری

استعمار ہو یا طاغوت، اسلام سے ہمیشہ خائف رہے ہیں

مرجعیت کیخلاف سازشیں اور ہماری ذمہ داری

 

تحریر: تصور حسین شہزاد

 

استعمار ہو یا طاغوت، اسلام سے ہمیشہ خائف رہے ہیں۔ یہ خوف روزِ اول سے لاحق چلا آ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ختمی مرتبت (ص) کی ولادت ہوئی تو مکہ میں جاسوسوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کر دیا گیا اور خاتم المرسلین (ص) کی تلاش شروع کر دی گئی، کہ مقصد حضور اکرم (ص) کو قتل کرنا تھا۔ لیکن دفاع مضبوط ہونے کے باعث طاغوتی جاسوسوں کو کامیابی نہ ملی۔ حضرت علی (ع) حضور نبی کریم (ص) کیساتھ سایہ بن کر رہے اور اس مضبوط سکیورٹی کے باعث دشمن نبی کریم (ص) کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ رسالت کے بعد سلسلہ امامت شروع ہوا لیکن سازشوں کا سلسلہ بند نہ ہوا۔ غیروں کو تو دکھ تھا ہی، امامت کا تاج حضرت علی (ع) کے سر سجنے سے کچھ "اپنے" بھی مخالف ہو گئے اور دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ پھر تاریخ کی بوڑھی آنکھوں نے اسلام کو خلافت و امامت میں تقسیم ہوتا بھی دیکھا۔ خلافت بعد میں ملوکیت میں تبدیل ہو گئی جبکہ چشمہِ امامت سے نکلنے والا علم و نور کا پانی تاحال امت کو سیراب کر رہا ہے۔ امت مسلمہ آج بھی درِامامت سے اپنی علمی پیاس بجھا رہی ہے۔

 

مولا کا فرمان ہے کہ "ہم اپنے رب کی اس تقسیم پر راضی ہیں کہ اس نے ہمیں علم، اور ہمارے دشمنوں کو مال دیا، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے"۔ اسی علمی دولت نے بہت سے مواقعوں پر دشمن کے دانت کھٹے کئے اور بہت سوں کو کئی بار یہ کہنا پڑا کہ "اگر آج علی(ع) نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہو گئے ہوتے"، یعنی علی (ع) کے علم نے بہت سوں کو ہلاکت سے بچایا۔ آج 14 سو سال بعد بھی اگر دیکھیں تو اسلام پر جب بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے تو، اہلبیت (ع) کا علمی گھرانا ہی اسلام کا دفاع کرتا دکھائی دیتا ہے۔ غیبت امام زمانہ (ع) کے بعد علمی سلسلہ علماء کو منتقل ہوا۔ نائبین امام نے امت کی رہنمائی کا بِیڑہ اُٹھایا۔ اور یہ سلسلہ مرجع عظام کے ذریعے آج بھی تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہا ہے۔ موجودہ نظام ولایت فقیہہ، ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد مزید مضبوط ہو گیا۔ عام عوام کیلئے مراجع کی اہمیت و افادیت میں اضافہ ہوا۔ دنیا گلوبل ویلیج کے روپ میں آئی تو تشیع بھی سمٹ گئی۔ افریقہ کے پسماندہ ترین علاقوں سے پیرس و امریکہ تک کے اہل تشیع کیلئے مراجع کرام سے رابطہ آسان ہوگیا۔

 

سمارٹ فون کی ایجاد نے تو مجتہد و مقلد کے ایک کلک کے فاصلے پر لا کھڑا کیا۔ جدید ٹیکنالوجی سے جہاں فاصلوں میں کمی ہوئی، وہیں تشیع کے یہ مراکز بھی مضبوط ہوئے۔ علم و عمل کا مرکز قرار دی جانیوالی شخصیات (مراجع عظام) کا اثر و رسوخ دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ وہ طاغوت جس نے مکہ سے اپنا سفر شروع کیا تھا، اور اسلام کو اس کے آغاز سے پہلے ہی ختم کرنے کا پلان تیار کیا تھا، وہ آج بھی اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹا۔ وہ سازشیں جو پہلے نبی اکرم (ص) کیخلاف ہوتی تھیں، پھر ان سازشوں کا رخ حضرت علی(ع) کی طرف ہوگیا، وہاں سے ہوتا ہوا شہادت حضرت امام حسن (ع) تک پہنچا اور بعد میں کربلا برپا ہوئی۔ کربلا کے بعد بھی اس سلسلے میں تعطل نہیں آیا، بلکہ بیرونی دشمن کو اندرونی طور پر سازگار ماحول ملا اور بنو اُمیہ و بنو عباس کے ذریعے اسلامِ حقیقی کیخلاف محاذ کھولے گئے مگر کہتے ہیں مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے۔ اللہ نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا اور حق کا ہی بول بالا ہوا، اور حق ہی سرفراز ہو کامران ہوگا۔

 

دشمن کا ہدف اب مراجع ہیں۔ بہت سے محقیقین کو اس کام پر لگایا گیا کہ مراجع کے نظام کا مطالعہ کریں اور اس کی خوبیوں اور خامیوں کا چارٹ تیار کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے نظام ولایت فقہیہ کی مضبوطی اور خوبیوں سے دشمن دنگ رہ گیا۔ طاغوتی محقیقن نے جب نظام ولایت فقیہہ کا شجرہ دیکھا تو یہ سلسلہ امامت سے ہوتا ہوا، سلسلہ نبوت سے جا ملا۔ یہی وہ بات سے جس نے طاغوت کیلئے ہدف کی شناخت میں آسانی پیدا کر دی۔ اس دن سے لے کر آج تک طاغوت کا ہدف نظام ولایت فقیہہ ہے۔ طاغوت اپنا پورا زور اس بات پر لگا رہا ہے کہ کسی طرح مرجیعت کا نظام ناکام کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایسی زمینہ سازی کی جا رہی ہے کہ مراجع کو آپس میں لڑانے کیلئے ان کی قوت اور مقلدین کی تعداد بتا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ فلاں مجتہد بڑا ہے اور فلاں چھوٹا، فلاں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور فلاں کوئی جانتا ہی نہیں۔ یا دوسری جانب فلاں مجتہد ایرانی ہے اور فلاں عراقی ہے۔ فلاں کو زبردستی مجتہد بنایا گیا جبکہ فلاں حقیقی حقدار تھا اُسے نظرانداز کیا گیا۔

 

ایسی سوچ کو فروغ دینے کا صرف ایک مقصد ہے کہ ایک مجتہد کے پیروکار دوسرے مجتہد کیخلاف ہو جائیں۔ یہ بحث بھی شروع کروائی گئی کہ اب یہ نظام (مرجیعت) ختم ہو جائے گا، کیونکہ فلاں مجتہد چونکہ اب 80،90 سال کے ہوگئے ہیں، اب کی وفات کے بعد اس پائے کا تو کوئی اور بندہ موجود ہی نہیں، جو ان کا منصب سنبھال سکے۔ اگر کسی نے سنبھال بھی لیا تو اتنی مقبولیت نہیں حاصل کر سکے گا جتنی اس مجتہد کو حاصل ہے، اس لئے واضح لگ رہا ہے کہ اس مجتہد کے بعد یہ نظام قائم نہیں رہے گا، اور اگر قائم رہ بھی گیا تو اتنا فعال نہیں رہے گا جتنا اب ہے۔ اس سوچ کو فروغ دینے کا مقصد مقلدین میں مایوسی پھیلانا ہے۔ طاغوت جہاں ایسی سوچ کو فروغ دے رہا ہے، وہاں ایک اور محاذ پر بھی فعالیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وہ محاذ غیر مقلدین کی پروجیکشن ہے۔ بالخصوص پاکستان میں اس سوچ کو ایک منظم سازش کے تحت پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ تقلید صرف امام (ع) کی ہو سکتی ہے، کسی غیر معصوم کی نہیں، اس لئے یہ مجتہدین صرف علماء ہیں، قابل تقلید نہیں، اس سازش کیلئے باقاعدہ برطانوی پشت پناہی سے پاکستان میں ایک گروہ منظم ہو رہا ہے۔ جو خود کو دھڑلے سے "غیر مقلد" کہتا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو نظام ولایت فقیہہ سے الگ رکھتے ہیں۔

 

اس غیر مقلد گروہ کی بنیاد گذشتہ برس لاہور میں رکھی گئی تھی۔ اس گروہ کے کرتا دھرتا چند افراد ہیں، جن کے اپنے بچے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ وہیں سے "احکامات" وصول کرکے ان تک پہنچاتے ہیں اور یہاں اس فکر کو فروغ دیا جاتا ہے۔ بعض ناقدین اس گروہ کو برطانوی خفیہ ایجنسی "ایم آئی 6" کا ہی شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر مقلدین ایم آئی 6 کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان میں ایک اور صورتحال بہت تشویشناک ہے، وہ یہ کہ جہاں یہ چند افراد نظام ولایت فقہیہ کیخلاف سرگرم ہیں، وہاں ولایت فقیہہ کے پیروگار بھی متعدد گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ان کی تقسیم سے ہی ان غیر مقلدین کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اگر پیروانِ ولایت فقیہہ ہی متحد ہو جائیں تو یہ برساتی مینڈک خود بخود غائب ہو جائیں گے۔ ان کا مقابلہ باہمی اتحاد سے ہی ممکن ہے، بصورت دیگر ان کے عزائم انتہائی خطرناک دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ مخصوص ذاکرین کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں اور دشمن کو اس کے ہدف میں کامیابی مل رہی ہے۔

 

تشیع کے پاس موثر اور مضبوط ترین ذریعہ ابلاغ "سٹیج حسینی" ہے، مگر دشمن نے اپنی ناپاک سازش سے اس سٹیج کو بھی متنازع بنا دیا ہے۔ وہ سٹیج جو تبلیغ دین کا بہترین ذریعہ ہے، اس پر اب تبلیغ کی بجائے تنقید ہوتی ہے، مخالفین پر طعن و تشنیع کی جاتی ہے۔ ذکرِاہلبیت کی بجائے علماء کی توہین کیلئے اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دشمن ایک تیر سے دو شکار کر رہا ہے، ایک تو نظام مرجیعت کیخلاف ذہن سازی کر رہا ہے، اور دوسرا اس سٹیج کی افادیت کو ختم کر رہا ہے۔ ملت تشیع صرف انہی اختلافات کے باعث سٹیج حسینی سے دُور ہو رہی ہے۔ ایک طبقہ مجلس میں اس لئے نہیں جاتا کہ صرف ذاکرین کو دعوت دی گئی ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس لئے نہیں آتا کہ ذاکرین کو تو بلایا نہیں گیا، ہم علماء کو سننے کیوں جائیں، یوں ملت دو طبقوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ اور اس تقسیم نے مجلس کی شرکت کو متاثر کیا ہے۔ جہاں ایک مجلس میں 2 ہزار افراد شریک ہوتے تھے وہاں ایک ہزار عزادار ہی شریک ہوتے ہیں۔

 

یہ سازشی سلسلہ وہی ہے جس نے پہلے نبوت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، پھر امامت کے پیچھے پڑا رہا اور آج نائب امام کیخلاف سرگرم ہے۔ اس سازش کو یہیں نہ روکا گیا تو اس کے اثرات اور نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔ اس کیلئے پیروانِ ولایت فقیہہ کو کم از کم متحد ہونا ہوگا، اپنے اپنے تنظیمی بت کو توڑنا ہوگا اور اگر یہ اس بت کو توڑ نہیں سکتے تو کم ازکم ایک کاز کیلئے ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ تو سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ اسلام کی بقاء کو معاملہ ہے۔ وہی اسلام آج خطرے میں ہے جس کیلئے امام حسین (ع) نے میدان کربلا میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا، کیا ہم اُس اسلام کیلئے تھوڑا سا وقت بھی نہیں قربان کر سکتے؟ ہم ٹیلی ویژن کے سامنے  چار چار گھنٹے بیٹھ کر وقت ضائع کر دیتے ہیں، کیا ہم اسلام کی حیات کیلئے ایک گھنٹہ بھی نہیں نکال سکتے؟ ہمیں اُٹھنا ہوگا اور خود بارش کا پہلا قطرہ بننا ہوگا، آج کا حسینؑ کربلائے عصر میں ہمیں پُکار رہا ہے۔ ھَل مِن نَاصرُ یَنصُرنَا کی صدا مسلسل آ رہی ہے۔ ہے کوئی جو صدائے حسین (ع) پر لبیک کہے؟؟

ای میل کریں