کشمیر

تہران میں 'یوم سیاہ کشمیر' کی تقریب کا انعقاد؛ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

27 اکتوبر 1947 جنوبی ایشیا کی تاریخ کا المناک دن ہے، بھارت نے اس روز جموں و کشمیر میں فوجیں اتاریں

ارنا- ایرانی دارلحکومت تہران میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں بروز ہفتہ، کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے، یوم سیاہ کشمیر کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے منعقد کی جانی والی اس یومِ سیاہ کی تقریب میں ایران میں مقیم بڑی تعداد میں پاکستانی باشندوں کے علاوہ ایرانی باشندوں نے بھی شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور اس کے ترجمے سے ہوا۔اس موقع پر، اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے وزیر اعظم 'عمران خان' اور پاکستانی صدر 'عارف علوی' کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947جنوبی ایشیا کی تاریخ کا المناک دن ہے، بھارت نے اس روز جموں وکشمیر میں فوجیں اتاریں۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کوحق رائے دہی دے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اوراخلاقی حمایت جاری رکھے گا ۔کشمیریوں کے یوم سیاہ کے موقع پر جاری پیغام میں پاکستان کے صدر مملکت نے بھی کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق رائے دہی کو عملی جامہ پہنانے تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق کشمیریوں کے حق رائے دہی کی مکمل حمایت کرتاہے۔

اس موقع پر تہران میں تعینات پاکستانی خاتون سفیر 'رفعت مسعود' نے خطاب کرتے ہوئے سب کو کشمیری لوگوں کی زندگی سے متعلق ایرانی ہدایتکار کی بنائی گئی دستاویزی فلم دیکھنے کی دعوت دی۔پاکستانی سفیر نے کہا یہ فلم جو آپ دیکھ رہے ہیں یہ سب کچھ بیان کرے گی جو میں اپنےالفاظ میں بیان کرنا چاہتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم فلم ہے جو کشمیر کی مظلومیت اور کشمیریوں پر جو تکلیفیں ہور رہی ہے ان سب کی عکاسی کی ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ جو مرثیہ لوگ اپنے تقریروں میں کرتے ہیں جو اس وقت کشمیر میں ہور رہا ہے وہ ہمیں بھول نہیں سکتے۔انہون نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف پاکستانیوں اور کشمیریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ سب مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔رفعت مسعود نے کہا یہاں ہم ان مظلوم لوگوں کے لئے جمع ہوگئے ہیں جو اپنا حق مانگتے ہیں اور ہمیں ان کو نہیں بھولنا چاہیے۔

انہون نے کہا کہ اس فلم دیکھنے کے بعد جب آپ واپس جائیں گے صرف ان کشمیریوں کے بارے میں سوچیں جو نوجوانی میں شہادت پالیتے ہیں اور ان عورتوں کا سوچیں جو اپنے کھوئے ہوئے بچوں کےلئے تڑپ رہی ہیں۔پاکستانی سفیر کے بیانات کے بعد ایرانی ہدایتکار 'محسن برہمانی' کی بنائی گئی دستاویزی فلم 'look beyond the canvas ' بھی پیش کی گئی۔

یہ فلم کشمیری خواتین کی تین نسلوں کی کہانیوں کو بتاتی ہے جن میں سے دو کی کہانیاں انتہائی المناک ہے۔ دو خواتین جن کے عزیزوں کو اغوا کیا گیا ہے۔اس فلم میں ساتھ ساتھ ایک فنکار اور مصور' مسعود حسین' کی کہانی کو بھی پیش کی جاتی ہے جو اپنے فن میں کشمیریوں کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ مصور ان خواتین میں سے 'مغلی' نامی خاتون کی تصویر کوپینٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اپنے کھوئے ہوئے بیٹے کی واپسی کے انتظار میں زندگی گزار کے کشمیر میں مزاحمت کی ایک علامت بن گئی ہے اور لوگ اسے 'کشمیر کی اکیلی ماں' بلاتے ہیں۔لیکن اسے پانے کیلئے بہت جد و جہد کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی واپسی کیلئے طویل انتظار کے بعد وفات پا چکی ہے۔

ای میل کریں