سپاہ اور ملکی فوج، انقلاب کا سرمایہ

سپاہ اور ملکی فوج، انقلاب کا سرمایہ

امام خمینی(رح) اور رہبر معظم کی ہمیشہ تاکید رہی ہےکہ عوام میں اختلافات زیادہ نہیں ہونے چاہئے، کیونکہ یہی چیز دشمن کو ہمارے خلاف اکساتی ہے۔

امام خمینی(رح) اور رہبر معظم کی ہمیشہ تاکید رہی ہےکہ عوام میں اختلافات زیادہ نہیں ہونے چاہئے، کیونکہ یہی چیز دشمن کو ہمارے خلاف اکساتی ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ دفاع مقدس کا ہفتہ، ملت ایران کی عزتمندی کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔ فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، انقلاب کے بنیادی سرمایہ شمار ہوتے ہیں۔

جماران کے مطابق، جناب علی لاریجانی نے صوبے قم میں اہالی جمکران کی جانب سے منعقد کردہ ایک نشست میں، ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے مبارک پیش کرنے کے بعد کہا: ہفتہ دفاع مقدس ملت ایران کی عزت و شرافت یاد دلاتا ہے اور یہی بلند ہمتیں ہیں جس نے اس بحرانی دور میں بھی ایران کو سربلند اور سرخ رو رکھا ہے۔

انھوں نے تصریح کی: جنگ کے دوران، ایران کے اندرونی حالات منتشر تھے اور چھوٹے چھوٹے گروہ ملک کے اندر وطن عزیز کے خلاف دشمنوں کو اکساتے تھے اور کیونکہ انقلاب اسلامی، تازہ کامیاب ہوچکا تھا، مسلح افواج بھی اتنی مضبوط نہیں تھیں اور دشمن نے محسوس کیا کہ ہم کمزور ہیں۔

لاریجانی نے مزید کہا: امام خمینی(رح) اور مقام معظم رہبری کی ہمیشہ تاکید رہی ہےکہ عوام میں اختلافات زیادہ نہیں ہونے چاہیئے، کیونکہ یہی چیز دشمن کو ہمارے خلاف اکساتی ہے، اسی بنیاد پر ملک کی اندرونی وحدت و یکجہتی کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے۔

مجلس شورائے اسلامی کے صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کی علمی، دفاعی، صنعتی اور سائنسی ٹیکنالوجی کی پیشرفت اور مشرق وسطی اور دنیا بھر میں ایران کے اثرگزار اور مضبوط کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہماری دفاعی صلاحیت بہت ہی مضبوط اور جدید ٹیکنولوجی پر قائم ہونی چاہیئے تاکہ دشمن ہم سے مایوس ہو اور وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت تک نہ کرے۔ البتہ تینوں مسلح افواج کے اعلی کمانڈر مقام معظم رہبری کی عنایت سے ملک کی نظامی اور عسکری افواج کی صورت حال بہت ہی مطلوب ہے اور ملکی فوج بنیاد سے بازسازی ہوئی ہے اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، انقلاب کے اصلی ڈھانچوں میں شمار ہوتا ہے اور ہمارے پاس بہت اچھی صلاحیت، توانائی اور ظرفیت ہے جس کا ہمیں پورے وجود سے پاسداری کرنی ہوگی۔

آخر میں لاریجانی صاحب نے اللہ تعالی کے خاص فضل و کرم اور امت کی وحدت کی قدردانی کرتے ہوئے اظہار کیا: علاقے کی بحرانی اور کشیدہ حالات کے پیش نظر، ملک اچھے امن و سکون میں ہے اور پر امن ملکوں میں شمار ہوتا ہے؛ والحمدللہ۔

 

ماخذ: جماران خبررساں ویب سائٹ

ای میل کریں