امام خمینی(رہ) نے سلمان رشدی کے قتل کا فتوٰی کیوں دیا؟

امام خمینی(رہ) نے سلمان رشدی کے قتل کا فتوٰی کیوں دیا؟

اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی رہ نے ایک تاریخی فتویٰ جاری کرتے ہوئے سلمان رشدی کو اُن کی متنازع کتاب آیات شیطانی کی تصنیف پر ارتداد کا مرتکب قرار دیا اور انہیں سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا۔

امام خمینی(رہ) نے سلمان رشدی کے قتل کا فتوٰی کیوں دیا؟

اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی رہ نے ایک تاریخی فتویٰ جاری کرتے ہوئے سلمان رشدی کو اُن کی متنازع کتاب آیات شیطانی کی تصنیف پر ارتداد کا مرتکب قرار دیا اور انہیں سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا۔

فتویٰ میں کہا گیا کہ مذکورہ کتاب میں اسلام، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ اور قرآن مجید کے خلاف توہین آمیز مواد شامل ہے، جس کے باعث یہ اقدام کیا گیا۔ امام خمینیؒ نے اپنے پیغام میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مصنف اور وہ ناشرین جو کتاب کے مندرجات سے آگاہ تھے، اسلامی قانون کے تحت قابلِ سزا ہیں۔

کتاب کی اشاعت کے بعد مختلف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بھارت، پاکستان اور برطانیہ سمیت کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ بعض ممالک نے کتاب کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی عائد کردی۔ ایران کی قیادت نے اس معاملے کو محض ادبی تنازع نہیں بلکہ اسلامی مقدسات کے خلاف ایک منظم اقدام قرار دیا۔

فتویٰ کے اجرا کے بعد ایران اور متعدد مغربی ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی اور عالمی سطح پر آزادیٔ اظہار اور مذہبی احترام کے حوالے سے بحث تیز ہوگئی۔ سلمان رشدی کئی برسوں تک سخت سیکیورٹی میں رہے۔

یہ واقعہ بیسویں صدی کے اہم اور متنازع مذہبی و سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک عالمی سیاست اور بین المذاہب مباحث میں محسوس کیے جاتے رہے۔

ای میل کریں