نیتن یاہو

غاصب یہودی ریاست تشویش میں مبتلا، حماس اور حزب اللہ کے نام پیغامات!

نیتن یاہو کی نئی کابینہ نے اپنے متنازعہ پالیسیوں اور اقدامات عمل میں لا کر اندرونی اور بیرونی رد عمل کو ہوا دی ہے

ابنا۔ مقبوضہ فلسطین میں بعض اخباری ذرائع کے مطابق صہیونی کابینہ کی طرف سے خبریں شائع کی گئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کو سیاسی اور سیکورٹی اضطراب اور پریشانی کا سامنا ہے۔

 

نیتن یاہو کی نئی کابینہ نے اپنے متنازعہ پالیسیوں اور اقدامات عمل میں لا کر اندرونی اور بیرونی رد عمل کو ہوا دی ہے اور "بیرونی دشمن" جیسے تصورات کو بڑھا چڑھا کر اندرونی بدنظمی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ غاصب ریاست کے ٹی وی چینل آئی-12 نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ نیتن یاہو کابینہ اور صہیونی فوج نے کسی بھی قسم کی بدامنی سے نمٹنے کے لئے متعدد خفیہ اجلاس منعقد کئے ہیں۔ اب تک ان خفیہ اجلاسوں کی تعداد پانچ تک پہنچی ہے اور ان کا نتیجہ - جو تیاری کی سطح میں اضافے سے متعلق منعقد ہوئے ہیں - کی رپورٹ امریکہ اور فرانس تک پہنچا دی گئی ہے۔ ان اجلاسوں میں صہیونی انٹیلیجنس کے وزیر، فوج کے چیف آف جوائنٹ اسٹافث مواد کے سربراہ، قومی سلامتی کے مشیر، ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ، آپریشنل شعبوں کے کمانڈروں وغیرہ نے شرکت کی ہے۔

 

صہیونی ٹیلی وژن نے دعویٰ کیا کہ ان اجلاسوں میں ایران کے خلاف کاروائی کے لئے تیاری کی سطح پر تبادلہ خیال ہؤا ہے کیونکہ ایران نے یورینئیم کی افزودگی 84 فیصد تک پہنچائی ہے اور 90 فیصد افزودگی غاصب ریاست کے لئے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے!! چنانچہ اگلے کچھ مہینے "بہت پیچیدہ اور حساس" اور "اسرائیل تمام ممکنہ حالات کے لئے تیاری کر رہا ہے"۔

 

صہیونیوں کی معمول کی شیخیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے، اور وہ حساس اندرونی مسائل پر پردہ ڈالنے کے لئے ایران کے خلاف بھی بولنے لگے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مورخہ 28 جنوری 2023ع‍ کو انھوں نے اصفہان میں وزارت دفاع کے ورکشاپوں کے ایک مجموعے پر ناکام ڈرون حملہ کیا، اور معلوم ہؤا کہ اس حملے کے پیچھے صہیونیوں کا ہاتھ تھا تو انھوں نے ایران کے رد عمل کے خوف سے اپنی تیاری کی سطح میں اضافہ کیا اور ایران کے انتقام سے خوف کو، حملے کے لئے تیاری کا نام دیا، جو کافی حد تک مضحکہ خیز تھا۔

 

مذکورہ صہیونی چینل کے مطابق، نیتن یاہو نے مذکورہ اجلاسوں کی رپورٹ امریکی وزیر خارجہ، وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے قومی سلامتی اور فرانسیسی صدر تک پہنچائی ہے؛ اور ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر امریکہ اور فرانس ایران کے ساتھ تعامل میں، تل ابیب کی مرضی کے مطابق رد عمل نہ دکھائیں تو اسرائیلی ریاست اقدام کرنے پر مجبور ہوگی!!!"

 

یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی صورت حال نیتن یاہو کی کابینہ کے لئے خوشایند نہیں ہے اور وہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور اس سے کہیں زیادہ مسائل میں گھرا ہؤا ہے کہ علاقے کے کسی ملک کے خلاف کاروائی کے بارے میں سوچ سکے، چنانچہ ذرائع کی مختلف رپورٹوں اور تجزیہ کاروں کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو افسوسناک اندرونی صورت حال اور وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہروں پر پردہ ڈالنے کے لئے بیرونی دشمن کا مسئلہ چھیڑ رہا ہے یہاں تک کہ صہیونی چینل 12 نے ہی رپورٹ دی ہے کہ نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں فلسطینی مقاومتی تحریک "حماس" اور لبنانی مقاومتی تحریک "حزب اللہ" کو پیغامات بھیجے ہیں اور پھر بھی ڈینگ ماری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ان سے کہا ہے کہ "اندرونی بدامنی اور بدنظمی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسرائیل غزہ یا لبنان پر حملہ کرنے اور ایٹم بم کے استعمال کے لئے تیار نہیں ہے!!! اور وہ ان دو مقاومتی تحریکوں کی طرف کے کسی بھی اقدام کا جواب دے گا"۔

 

عالمی سیاست اور تزویراتی حکمت عملیوں کے حروف تہجی سے واقف کوئی بھی شخص اس حقیقت میں شک نہیں رکھتا ہے کہ تل ابیب کا یہ پیغام صہیونی ریاست کی آشفتہ حالی اور پریشان کن صورت حال کی عکاسی کرتا ہے؛ اور نیتن یاہو ایسے حال میں اپنی فوج کے سہارے دھمکیاں دے رہا ہے کہ فوجی حکام اور موجودہ اور سابقہ فوجی جرنیلوں نے ابتدائے جنوری سے نیتن یاہو اور اس کی کابینہ کے خلاف ایک متحدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے اور اس سیاسی جنگ میں نیتن یاہو اور اس کی دائیں بازو کی تشدد پسند کابینہ کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کئے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو نہ صرف بیرونی جنگ کے آغاز سے عاجز ہے بلکہ صہیونی حکام اور تبصرہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی ریاست کو اگلے ہفتوں اور مہینوں میں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے!

ای میل کریں