شہداء کے افکار کا فروغ ملت کی وحدت کا باعث بن سکتا ہے، مقررین

شہداء کے افکار کا فروغ ملت کی وحدت کا باعث بن سکتا ہے، مقررین

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ادارہ فروغ آثار شہداء افکار اور خانوادہ شہید ذوالفقار حسین نقوی و شہید عمار حیدر نقوی سیمینار بعنوان "شہداء ملت، نقطہ وحدت و اشتراک ملت" کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری شیعہ علماء کونسل پاکستان سید مصور حسین نقوی، علامہ سید حسین نجفی، اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین سید منیر حسین گیلانی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، ایس یو یس پنجاب کے نائب صدر حافظ کاظم رضا نقوی، سابق چیئرمین آئی او پاکستان لعل مہدی خان، مرکزی نائب صدر آئی ایس او پاکستان حسن عارف، شہید ذوالفقار حسین کے فرزند شہباز حیدر، غضنفر علی رضوی، قاسم علی قاسمی سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض سید انجم رضا نے سرانجام دیئے۔

سیمینار سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ شہید عارف حسین الحسینی نے ملت کو سیاسی شعور بخشا، ملت میں بیداری پیدا کی اور انہیں سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرنے کی جانب راغب کیا۔ مقررین نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد ملت میں وحدت پیدا کرنا ہے، تاکہ بزرگ آئیں اور ہمیں راہ حل دیں اور قوم کو متحد کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار حسین نقوی ملت کو سیاسی طور پر مستحکم دیکھنا چاہتے تھے، انہوں نے اپنے ہمراہ اپنے جوان بیٹے کی قربانی دی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ امام حسینؑ کے حقیقی پیروکار تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ملت میں سیاسی شعور نہیں، جس کی وجہ سے ہماری ملت بہت پیچھے چلی گئی ہے، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح شیعہ تھے، پاکستان بنانے والے بھی اکثریت شیعہ تھے، اب تیس ہزار شہداء ہم نے پاکستان کی بقاء کیلئے دیئے ہیں، اس کے باوجود ہماری ملت میں سیاسی شعور نہیں آسکا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ملت جعفریہ سیاسی اعتبار سے مضبوط ہو جائے تو کوئی ہمارے حقوق نہیں چھین سکتا۔ قوم کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری علماء کی ہے کہ وہ قوم کو سیاسی شعور دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حقوق اسے ملے ہیں جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، پاکستان میں سیاست یہ ہے کہ جو طاقت رکھتا ہے، اس کی بات بھی سنی جاتی ہے، یا ووٹ ہو یا ڈنڈا ہو، تو بات سنی جاتی ہے، تو اپنے حقوق کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنے اندر سیاسی طاقت پیدا کریں، جس قوم کی سیاسی طاقت نہیں ہوتی، وہ قوم اپنے حقوق کی بھیک مانگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تیس ہزار جنازے اٹھائے، لیکن ہم نے کسی انسان کو قتل نہیں کیا، ہم نے ریاستی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے، ہم نے بنایا ہے اور ہم ہی اس کو بچا رہے ہیں، اس بات سے ادارے بھی آگاہ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے کہ شیعہ ایک پُرامن قوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی دہشتگرد شیعہ نہیں ملے گا، کوئی خودکش بمبار شیعہ نہیں ملے گا۔ ہم نے ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کی ہے۔ ملت جعفریہ کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ عزاداری ہمارا حق ہے، اگر ہم کمزور ہوگئے تو ہمیں اپنے حق کی بھی بھیک مانگنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ پاکستان میں تشیع مضبوط ہوئی ہے، تنظیموں کے درمیان بھی ہم آہنگی بڑھی ہے، آپس میں میل ملاپ ہے، میٹنگز ہوتی ہیں، مشترکہ قومی مفادات کے حوالے سے ملت کی تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں روشن مستقبل کی طرف دیکھنا ہے۔ شہداء کا تذکرہ جہاں ہوتا ہے، قوم متحد ہو جاتی ہے، شہداء کی وجہ سے ہی ہمارے جذبات جواں ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی استکبار چاہتا ہے کہ ملت جعفریہ کے عقائد کو بیان کرنے سے روکا جائے، اسی وجہ سے مجالس روکی جا رہی ہیں، ہمیں ہمارے مسلمہ عقائد بیان کرنے بھی روکا جا رہا ہے، جبکہ یہ ہمارا جمہوری، سیاسی اور اخلاقی حق ہے، اگر کوئی ہمیں اس سے روکے گا تو پھر یہ قانون سب کیلئے ہونا چاہیئے۔ مقررین نے کہا کہ ہم فرقہ واریت کو حرام سمجھتے ہیں۔ ہم فرقہ واریت کے حق میں ہیں، نہ اس کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایام فاطمیہ ہیں، اس میں ہم تاریخی واقعات بیان کرتے ہیں، لیکن ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ مختلف بہانوں سے مظاہرے ہو رہے ہیں، ملت جعفریہ سے گزارش ہے کہ بیدار ہوں اور اہلسنت برادران کیساتھ اچھے رابطے ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو موقع نہ دیں۔ عزاداری کے دفاع کیلئے ہمیں متحد ہونا ہوگا، اگر ہم متحد نہ ہوئے تو ہم اپنے حقوق سے بھی محروم کر دیئے جائیں گے۔

ای میل کریں