آیت الله اعرافی

فرانسیسی صدر امت مسلمہ سے معافی مانگے، آیت الله اعرافی

امام جمعہ قم نے مزید کہا کہ فرانسیسی صدر کا یہ جاہلانہ اور احمقانہ اقدام کسی بھی اصول ، منطق اور انسانی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا

فرانسیسی صدر امت مسلمہ سے معافی مانگے، آیت الله اعرافی

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، قم میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران ،حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایام آغازِ امامت امام زمان عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف اور ولادت پیغمبرِ اِسلام اور امام صادق علیہم السلام کی مناسبت سے تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر امت مسلمہ سے معافی طلب کریں۔

انہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں ، پیغمبرِ اِسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں توہین کیے جانے کے فرانسیسی صدر کے حالیہ مجرمانہ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون کے طرز تفکر قابل مذمت ہے ، یہ مذمتی بیان حوزہ علمیہ ایران شعبہ طلبہ و طالبات سمیت بین الاقوامی سطح پر دینی مدارس اور حوزہ علمیہ کے مراجع عظام تقلید کا متفقہ بیان ہے۔

امام جمعہ قم نے مزید کہا کہ فرانسیسی صدر کا یہ جاہلانہ اور احمقانہ اقدام کسی بھی اصول ، منطق اور انسانی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا،کیونکہ یہ وہی میکرون ہے کہ جس پر  ایک سادہ سی تنقید کے خلاف جابرانہ اور ناراضگی کا اظہار کرتا ہے  ، لیکن پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین اور خدا کے ناموں اور صفات الہی کے مظہر مقدس وجود اور نورانی چہرے کے خلاف گستاخانہ خاکوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور حمایت بھی کرتا ہے ، یہ اس کے اعمال میں واضح تضاد اور دوغلی پالیسی کی دلیل ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ فرانسیسی صدر میکرون کا یہ کام داعش کے مقابلے میں بدتر ہے،اگر کوئی نادانی کے عالم میں کسی استاد پر حملہ کرتا ہے تو ہمیں اس کا یہ کام پسند نہیں ہے ، لیکن میکرون اور اس جیسے اس شخص سے بھی کہیں بدتر ہیں جو جان بوجھ کر تقریباً2 بلین افراد کے مقدسات کی توہین کرتا ہے ، ہم امید کرتے ہیں کہ میکرون اور اس کے کارندے ان مجرمانہ کارروائیوں سے باز رہیں گے اور امت اسلامیہ سے معافی مانگیں گے ۔

آخر میں حوزہ علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر امت مسلمہ متحد ہوتی اور کچھ حکمران دشمنوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے تو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی شان میں جسارت کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔

ای میل کریں