حجاب کی اہمیت  اور قرآن میں اس کی قسمیں

حجاب کی اہمیت اور قرآن میں اس کی قسمیں

میں خود سے پوچھتی ہوں

حجاب کی اہمیت  اور قرآن میں اس کی قسمیں

میں خود سے پوچھتی ہوں

کیا میں با حجاب ہوں؟ کیا میں پاکدامن ہوں؟ مجھے باحجاب کیوں رہنا چاہئے؟ کیا میرا حجاب معاشرتی شان وحیثیت کا مخالف ہے؟ کیا میں حقیقی معنی میں اپنی چادر کی حفاظت کرتی ہوں ؟ (کہ وہ میرے سر سے نہ اتر جائے، میرا مقنعہ و روسری چادر سے باہر نہ نکلے ، ایک مرد استاد کے سامنے کہیں میری چادر ہٹ نہ جائے ، میرے کپڑے نمایاں نہ ہو جائیں وغیرہ وغیرہ)

کیا میری توجہ ہے کہ ہر نا محرم، نا محرم ہوتا ہے اور اس میں دکاندار، باغبان، گارڈ، استاد، قریبی رشتہ دارمرد، بہنوئی ، دیور وغیرہ میں کوئی فرق نہیں ہے؟

جب میں اپنے بالوں کا جوڑا باندھتی ہوں تو مجھے خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں میرے بالوں کی گدھی  ابھری ہوئی  تو نہیں ؟ مجھے کتناخیال رکھنا چاہئے کہ میری انگھوٹھی اور بڑے ہوئے ناخنوں پر نا محرم کی نظر نہ پڑے؟ کیا گھر سے باہر میرے لئے نا محرم کے سامنے ٹروزرپہننا میری شان کے خلاف تو نہیں؟ کیا میں خیال رکھتی ہوں کہ میری مسکراہٹ نامحرم نہ دیکھے اور میرے ہنسی اس کے کانوں تک نہ پہونچے؟ کیا میں خیال رکھتی ہوں کہ نامحرم کے ساتھ بات کرتے وقت میری آواز نازک و نرم نہ ہونے پائے؟

کیا مجھے جوتا،چپل  خریدتے وقت اس کے رنگ اور ایڑی (اونچی ایڑی، آواز وغیرہ) پر توجہ رکھنی چاہئے؟ کیا بیگ پیچھے لگا کر چلنا میری شان کے خلاف تو نہیں؟ چادر کے اوپر سے بیگ لگانا کیسا ہے؟ کیا ارادے کے بغیرنامحرم پر نگاہ پڑنے میں، میں اپنی نگاہوں پر کنٹرول کرتی ہوں یا نہیں ؟ اور اپنی نگاہیں نیچی کر لیتی ہوں یا نہیں؟ اسی طرح کے بہت سے سوال۔۔۔۔۔۔

   ہر معاشرہ میں ثقافتی نمونہ کی ایک قسم اس معاشرہ کے افراد کا لباس ہےجس میں ماحول و علاقہ کی تاثیر کے  علاوہ  معاشرہ کی اعتقادی و ثقافتی خصوصیات بھی اس میں مؤثر واقع ہوتی ہیں ، لہذا ہر شخص کے لباس کی نوعیت ، رنگ اور مختلف ماڈل کے تجزیہ سے اس کی شخصیت کی بعض خصوصیات ،اندرونی رجحانات،عقائد، ثقافتی حیثیت اور اس کی مورد توجہ اقدار تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

آج عالمی اسکتبار نے مادی دنیا  اور ظاہری خوبصورتی اور آراستگی میں اقدار کو منحصر قراردیتے ہوئے لباس کے ایسے نمونے پیش کئے ہیں جو بے پردگی، بناؤ سنگھار اور خدائی و اخروی اقدار کی نفی پر مبنی ہیں اور جس میں انسانی معیاروں پر ذرہ برابر بھی توجہ نہیں ہے جیسے حیا، پاکدامنی اور دوسرے معنوی معیار۔

اسلام میں حجاب کو  فقہی، معاشرتی ، اخلاقی اور ثقافتی  مختلف پہلوؤں سے مورد توجہ قرار دیا گیاہےاور اسلام نے اسی لباس کی تائید کی ہے جو انسان کو متقی و پاکدامن بننے میں اس کی مدد کرے ۔روایات میں لباس کے ماڈل، جنس اور رنگ پر کافی توجہ دلائی گئی ہے اور ان میں اجنبیوں کے لباس کی تقلید اور کفارسے مشابہت سے منع کیا گیا ہے۔

خدا وندمتعال  قرآن میں پیغمبر اسلامؐ کو خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: يَأَيهُّا النَّبىِ‏ُّ قُل لّأَِزْوَاجِكَ وَ بَنَاتِكَ وَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيهِنَّ مِن جَلَبِيبِهنَّ  ذَالِكَ أَدْنىَ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ  وَ كاَنَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا۔(احزاب/۵۹)   اے پیغمبر آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں، اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادر کو اپنے اوپر لٹکائے رہا کریں کہ یہ طریقہ ان کی شناخت یا شرافت سے قریب تر ہے اور اس طرح ان کو اذیت نہ دی جائے گی اور خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔

سب سے پہلے صاحبان ایمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ مفسد افراد کوکسی قسم کے بہانے کا موقع نہ دیں اور اس کے بعد منافقین ومزاحمت ایجاد کرنے اور افواہیں پھیلانے والوں کو شدید دھمکایا ہے کہ جس کی مثال قرآنی آیات میں بہت کم ملتی ہے۔

پہلے حصہ میں ارشاد ہوتا ہے: اے پیغمبر آپ اپنی بیویوں، بیٹیوں، اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادر کو اپنے اوپر لٹکائے رہا کریں کہ یہ طریقہ ان کی شناخت یا شرافت سے قریب تر ہے یعنی اگر وہ با پردہ رہیں گی تو ان کی پہچان نہیں ہوپائے گی اور اس طریقہ سے انہیں کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، شناخت سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں مفسّرین کے نزدیک دو نظریہ پائے جاتےہیں اور دونوں میں اختلاف بھی نہیں ہے۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں یہ ہوتا تھا کہ کنیزیں سر و گردن کو ڈھانپنے کے بغیر گھر سے باہر آتی تھیں چونکہ اخلاقی اعتبار سے یہ چیز بری تھی لہذا بعض اوقات کچھ بدمعاش انہیں پریشان کرتے تھے اس آیت میں مسلمانوں کی آزاد عورتوں کو حکم دیا جا رہاہے کہ وہ اسلامی حجاب کی رعائت کریں تا کہ کنیزوں اور ان میں شناخت ہو سکے اور بد معاشوں کے لئے پریشان کرنے کا کوئی بہانہ ہاتھ نہ لگ جائے۔ واضح ہے کہ اس بات کا ہرگز مفہوم یہ نہیں کہ بدمعاشوں کو حق پہونچتا تھا کہ وہ کنیزوں کو پریشان کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفسد افرادکو کسی قسم کا بہانہ نہ دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کی خواتین حجاب پہننے میں سستی اور بے توجہی نہ کریں جس طرح بعض لا پرواہ عورتیں جو حجاب کے ہوتے ہوئے بھی اس طرح لاپرواہی سے کام لیتی ہیں کہ ان کے جسموں کا بعض حصہ نمایاں رہتا ہے اور یہی چیز بدمعاشوں کو ان کی جانب جذب کرتی ہے۔

آیت میں" جِلبَاب" سے مرادلمبا کپڑا ہے جو چادر کی طرح ہونہ صرف روسری اور مقنعہ۔ "یُدنینَ" (قریب کریں)سے مراد یہ ہے کہ عورتیں "جلباب" کو اپنے جسم کے قریب رکھیں تا کہ وہ صحیح طریقہ سے انہیں محفوظ رکھے نہ یہ کہ وہ اسے آزاد چھوڑ دیں کہ وہ بعض اوقات سامنے سے ہٹ جائے اور اس کے نتیجہ میں جسم نمایاں ہوجائےجسے ہم اپنے سادہ الفاظ کہتے ہیں کہ وہ اپنے لباس کا خیال رکھیں۔

لغت میں "حجاب" کے معنی رکاوٹ، پردہ اور پہننے کے ہیں ، حجاب خواتین کے اسلامی پردے کے معنی میں دو مثبت اور منفی پہلوؤں  پر مشتمل ہے، مثبت  پہلو کا مطلب جسم چھپانے کا وجوب اور منفی پہلو کا مطلب یہ ہے کہ نامحرم کے سامنے اپنے جسم کو نمایاں کرناحرام ہےاور یہ دونوں پہلو ایک دوسرے کے ساتھ ہونے چاہئے تا کہ اسے اسلامی حجاب کہا جاسکے۔ بعض اوقات ممکن ہے ایک پہلو پایا جاتا ہو اور دوسرا نہ پایا جاتا ہوتو ایسی صورت میں اسے اسلامی حجاب نہیں کہا جاسکتا۔

اگر ہم ہر قسم کے پہننے اور گناہ سے دور رکھنے کے مانع کو حجاب کہیں تو ایسی صورت میں حجاب کی بہت سی قسمیں ہیں منجملہ ذہنی، فکری اور روحانی حجاب اس سے ہٹ کر قرآن میں حجاب کی دیگر اقسام کا نام بھی لیا گیا ہے جو انسان کی بیرونی چال و چلن میں تجلی پاتی ہیں جیسے نگاہ ڈالنے میں حجاب جس کی تاکید  نامحرم کا سامنا کرتے وقت مرد وعورتوں کو، کی گئی ہے۔

قرآن کی روشنی میں حجاب کی قسمیں

۱۔ دیداری حجاب: قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنْ أَبْصَارِهِم۔(نور/۳۰)  اور پیغمبرؐ آپ مومنین سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں۔  وَ قُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَرِهِن۔(نور/۳۱)  اورمومنات سے کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ غضّ البصرِ، "غَضّ و غَمض" لفظِ "یَغُضّوا" "غضّ" سے لیا گیا ہے۔ "غّض و غمض" لغت میں دونوں آنکھ کے سلسلہ میں استعمال ہوتے ہیں اور بعض افرادان دونوں میں غلطی کا شکار ہوجاتے ہیں ہمیں ان دونوں الفاظ کے معنی معین کرنا چاہئے " غمض" کے معنی پلک جھپکنے کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ " آنکھیں بند کرو"جو اس جانب اشارہ ہے کہ صرف نظر کرو۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ یہ لفظ ، لفظِ "عین" کے ساتھ استعمال ہوتا ہے نہ لفظِ "بصر" کے ساتھ۔ لیکن لفظِ "غض" کے بارے میں کہا جاتاہے"غضّ بصر"، غضّ نظر یا غضّ طرف۔ "غضّ" کے معنی کم کرنے کے ہیں اور "غضّ بصر" یعنی نظریں جھکانا۔اس طرح سے "غضّ البصر"عربی زبان کی اصطلاح ہے  اور لغت میں اس کے معنی نگاہیں جھکانے کے ہیں۔

مفسّرین لکھتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نگاہ کرتے وقت عام طور وسیع علاقہ کو مد نظر رکھتا ہے اور جب کوئی نا محرم انسان کی نگاہوں کے سامنے آجائے تو وہ اپنے نگاہوں کو اس طرح جھکا دے کہ وہ نامحرم اس کی سیدھی  اور گہری نگاہ سے خارج ہوجائے یعنی اسے ٹکٹکی نگاہ سے نہ دیکھے اور اپنا راستہ بھی صحیح طے کرے۔آنکھ خدا کی دی گئی نعمتوں میں سے ایک شریف ترین، فائدہ مند ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نعمت ہے کہ جسے اگر صحیح طریقہ سے استعمال کیا جائے تو ملکوت کا دروازہ بن جاتی ہے اور اگر اسے منحرف اور غلط راستہ میں استعمال کیا جائے تو شیطان کا جال ، گناہوں کا دروازہ اور فتنوں و لغزشوں کی بنیادقرار پاتی ہے۔جیسا کہ حدیث میں ذکر ہواہے: لَیسَ فِی البَدَنِ شَیء اقَلّ شُکراً مِنَ العَینِ فَلا تُعطوھَا سُولھا فتَشغَلَکُم عَن ذِکر اللہِ عَزّ و جَلّ۔ تمہارے پورے جسم میں آنکھ سے زیادہ ناشکرا کوئی عضو نہیں ہے لہذا وہ جو چاہتی ہے ہرگز اس کا جواب نہ دینا کیونکہ وہ تمہیں خدا کی یاد سے دور کردے گی۔ (بحار الانوار، ج۱۰۱، ص۱۰۶)

ایک مشہور حدیث میں پیغمبرؐ سے منقول ہوا ہے:  النَّظرُ سَھم مَسمُوم مِن سِھام ابِلیس"  (بحار الانوار، ج۱۰۴، ص۳۸) (نامحرم پر)نگاہ شیطانی تیروں میں سے ایک زہر آلود تیر ہے۔اسی طرح آپؐ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے: کُلّ عَین باکیۃ یَوم القیامۃ  الّا ثَلاثۃُ اَعیُن: عَین بَکت مِن خَشیۃ اللہِ وَ عَین غَضت عَن محارمِ اللہِ وَعَین بَاتت سَاھرۃ فِی سبیل اللہِ۔(بحار الانوار، ج۱۰۱، ص۳۵)  صرف تین آنکھوں کو چھوڑ کر ہر آنکھ قیامت کے دن رو رہی ہوگی: ایک وہ آنکھ جو خدا کے ڈر سے روئے، دوسری وہ آنکھ جو نامحرم پر نظر پڑتے جھک جائے اور تیسری وہ آنکھ جو راہ خدا ( اور اسلامی اقدار کی پاسداری )میں راتوں جاگتی رہے۔   بابا طاہر ہمدانی نے بھی آنکھ اور اس کے اثرات کے بارے میں دو شعرکہے ہیں:

ز دست دیدہ و دل ھر دو فریاد        کہ ھرچہ دیدہ بیند دل کند یاد

بسازم خنجری نیشش ز فولاد        زنم بر دیدہ تا دل گردد آزاد

ابتدائی نظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بابا طاہر کی شکایت آنکھ و دل دونوں کے بارے میں ہے لیکن تھوڑی سی توجہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر انہوں نے دل کے بارے میں شکایت کی ہے تو ان کی مراد وہ دل ہے جو آنکھ کی بے شرمیوں اور بدکاریوں کا شکار ہو گیا ہےاور حقیقت میں یہ نگاہ ہے جس نے دل پر برا اثر ڈال دیا ہے اسی وجہ سے وہ خنجر کو آنکھ میں مارنا چاہتے ہیں دل پر نہیں ۔ بابا طاہر کی نظر میں یہ خنجر بھی خود انسانی ارادہ سے بنایا گیا ہو نہ کہ کسی دوسرے نے اسے بنایاہو۔اسی وجہ سے انہوں نے کہا ہے: میں ایک ایسا خنجر بناؤں ۔۔۔۔ اور اس کی ضمیر کو اپنی جانب نسبت دی ہے۔ البتہ امام صادق علیہ السلام کی جانب سے منقولہ ایک حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ کوئی بھی آنکھ خدائی حرام شدہ اشیاء کے سامنے بند نہیں ہوپاتی جب تک پہلے سے خدا کی عظمت اس کے دل میں موجود نہ ہو۔شائد اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس خنجر کے بارے میں بابا طاہر گفتگو کررہے ہیں وہ دل کی مشینری میں بنایا گیا ہو اور اس کے ذرّات بھی عظمت و جلال الہی کی جنس سے ہوں تا کہ اس سے مستفید ہوتے ہوئے دل کو آزادی ملے اور یہ ہرگز نہیں ہوسکتا قول ِ پیغمبرؐ کے مطابق جب تک بے ہودہ و بے فائدہ نگاہوں سے پرہیز نہ کیا جائے کہ اس طرح کی نگاہیں دلی سکون  ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے غفلت کا شکار بھی بنادیتی ہیں۔

۲۔  گفتاری حجاب: حجاب اور قرآنی پردے کی دوسری قسم نامحرم کے سامنے عورتوں کا گفتاری حجاب ہے۔ " فَلَا تخَضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِى فىِ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا۔( احزاب /۳۲)  لہٰذا کسی آدمی سے لگی لپٹی بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو اسے لالچ پیدا ہوجائے اور ہمیشہ نیک باتیں کیا کرو۔اس مقام پر خضوع کے معنی یہ ہیں کہ عورتیں مردوں کے سامنے بات کرتے وقت لگی لپٹی باتیں نہ کریں تا کہ اس طریقہ سے جن کے دلوں میں بیماری ہو وہ فساد و شیطانی خیالات کا شکار نہ بن جائیں  اور ان نفسانی خواہشات بھڑ ک اٹھیں، دل کی بیماری سے مراد ایمانی طاقت کا نہ پایا جانا ہےوہ طاقت جو انسان کو نفسانی خواہشات کی جانب مائل ہونے سے روکتی ہے  اور " قَوْلًا مَّعْرُوفًا" یعنی معمولی اور سیدھی باتیں کہیں جن میں ناز و نخرہ نہ پایا جاتا ہو اور شریعت و اسلامی عرف بھی اسے پسندیدہ قرار دے،  یہ آیت گفتگو کی کیفیت اور اس کے مضمون اور ناز و نخرہ سے گفتگو کرنے کی حرمت کی جانب اشارہ کررہی ہے  نیز نامحرم کے ساتھ گفتگو کرنے میں پاکدامنی کو مد نظر رکھا جائے اور اس میں لگی لپٹی باتوں سے پرہیز کیا جائے اسی طرح یہ آیت ہر قسم کی بے ہودہ و غیر ضروری اور نفسانی خواہشات پر مشتمل گفتگو سے دوری اختیار پر تاکید کرتی ہے  اور اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اس امر کی رعائت نہ کرنے کی صورت میں ممکن ہے عورتوں کی خود نمائی و ہوس آلود باتوں کے نتیجہ میں وہ افراد جو دلی و نفسیاتی سلامتی نیز نفسیاتی اعتدال( کہ جو ایمانی کمزوری اور اس کے فقدان کے نتیجہ میں ہے) کے حامل نہیں ہیں گناہ و برائیوں کی فکر میں لگ جائیں اور معاشرہ کا امن و سکون خطرہ میں پڑ جائے۔

۳۔ رفتاری حجاب: حجاب  اور قرآنی پردے کی ایک قسم نا محرموں کے سامنے عورتوں کا رفتاری حجاب ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس طرح ہرگز راستہ نہ چلیں کہ اپنی زینت کو نمایاں کرتے ہوئے نامحرموں کی توجہ کا سبب بن جائیں۔" وَ لَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يخُفِينَ مِن زِينَتِهِن۔(نور/۳۱)  اور خبردار اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے ہوئے ہیں اس کا اظہار ہوجائے۔ بعض افراد نے اس آیت کا مصداق اونچی ایڑی والے جوتے و چپل کو قرار دیا ہے) اس بنا پر عورت کا حجاب و پردہ نامحرموں کے سامنے ایک مانع و رکاوٹ کی طرح ہے جو دوسروں کی عزت میں ہاتھ ڈالناچاہتے ہیں ۔

قرآن میں حضرت موسی اور حضرت شعیب علیھما السلام کی بیٹیوں  کی داستان میں یوں ذکر ہوا ہے:  وَ لَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَ وَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَينْ‏ِ تَذُودَانِ  قَالَ مَا خَطْبُكُمَا  قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتىَ‏ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ  وَ أَبُونَا شَيْخٌ كَبِير"۔ (قصص/۲۳)  اور جب مدین کے چشمہ پروارد ہوئے تو لوگوں کی ایک جماعت کو دیکھا جو جانوروں کو پانی پلارہی تھی اور ان سے الگ دو عورتیں تھیں جو جانوروں کو روکے کھڑی تھیں .موسٰی نے پوچھا کہ تم لوگوں کا کیا مسئلہ ہے ان دونوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک پانی نہیں پلاتے ہیں جب تک ساری قوم ہٹ نہ جائے اور ہمارے بابا ایک ضعیف العمر آدمی ہیں۔

جناب شعیبؑ کی بیٹیوں کا الگ کھڑے ہونے کو شرم،حیا،عفت اور پاکدامنی کے علاوہ کچھ اور تصور نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے اپنے بابا کی ضعیف العمری کا تذکرہ کیا تو وہ اس بات کا جواب ہے کہ وہ  دونوں بیٹیاں بھیڑ ،بکریوں  کو پانی پلانے کیوں آئی ہیں؟ جب کہ اس زمانے کی ثقافت و سنت کے مطابق بھیڑ ، بکریوں کو پانی پلانا مردوں کا کام تھا، جب جناب موسی علیہ السلا م کو (سورۂ قصص ۲۴ویں آیت کے مطابق ) داستان معلوم ہوئی تو انہوں نے مدین کے چشمہ سے ان کے لئے پانی بھرا اور اس کے بعد وہ ایک درخت کے زیرِ سایہ چلے گئے  اور بارگاہ ِ خداوندی میں دعا کے لئے ہاتھوں کو بلند کیا " رَبّ‏ِ إِنىّ‏ِ لِمَا أَنزَلْتَ إِلىَ‏َّ مِنْ خَيرٍْ فَقِير" پروردگار یقینا میں اس خیر کا محتاج ہوں جو تو میری طرف بھیج دے۔ ابھی وہ دعا میں مصروف تھے کہ " فجَاءَتْهُ إِحْدَئهُمَا تَمْشىِ عَلىَ اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبىِ يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا" ( قصص/۲۵) اتنے میں دونوں میں سے ایک لڑکی نہایت شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اور اس نے کہا کہ میرے بابا آپ کو بلارہے ہیں کہ آپ کے پانی پلانے کی اجرت دے دیں۔

ان آیات کا مفہوم فطری شرم ،حیا اور حجاب و پردہ کو دلپذیر شکل میں واضح کرتا ہے کیونکہ ایک جانب سے جناب شعیب  کی بیٹی نہایت وقار و حیا کے ساتھ جناب موسیؑ کے پاس آئیں اور انہوں نے اپنے بابا کی جانب سے انہیں مدعو کیا،دوسری جانب سے جناب موسیؑ  نے جناب شعیبؑ کی دعوت پر لبیک کہنے کا ارادہ کر لیا لہذا انہوں نے جناب شعیبؑ کی بیٹی کے پیچھے چلنا پسند نہیں کیابلکہ تفسیر میں پڑھتے ہیں کہ  جناب شعیبؑ کی بیٹی ان کی رہنمائی کے لئے آگے آگے چل رہی تھی اور جناب موسیؑ ان کے پیچھے ، ہوا چل رہی تھی اور ممکن تھا کہ ہوا کے ذریعہ ان کا لباس ہٹ جائے لیکن جناب موسیؑ کی حیاو عفت نے ایسا ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ انہوں نے بیٹی سے کہا: میں آگے چلنا چاہتا ہوں اور دوراہوں و چوراہوں پر میری رہنمائی کرنا۔

جناب شعیبؑ کی بیٹیوں کا مردوں سے الگ ہونا، حضرت موسیؑ کے پاس لوٹتے وقت ان میں سے ایک کا نہایت اچھے انداز و حجاب میں آنا ، راستہ چلتے وقت جناب موسیؑ کے ساتھ ان کا برتاؤ اور آخر کار اپنے بابا کے پاس جا کر ان کی تعریف و غیرہ یہ سب امور ایسے دقیق و لطیف نکات ہیں جو جناب موسیؑ کے زمانہ میں عورت کی ممتاز حیثیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ حیا و عفت  اور اس کے نتیجہ میں فطری طور پر حجاب و پردہ کو ہمیشہ اس کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے سراہا گیا ہے۔

ای میل کریں