ایران کے ہاتھوں امریکہ کو 3 شدید جھٹکے

ایران کے ہاتھوں امریکہ کو 3 شدید جھٹکے

ستمبر 2018ء میں ایرانی فوجی پریڈ پر دہشتگردوں کے حملے کے جواب میں پاسداران انقلاب نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر میزائل داغے

ایران کے ہاتھوں امریکہ کو 3 شدید جھٹکے

تحریر: ایل اے انجم


ویسے تو انقلاب اسلامی ایران دنیا بھر کی طاغوتی قوتوں کیلئے صدی کا شدید ترین جھٹکا تھا، لیکن آج کل کے حالات کے تناظر میں ہم یہاں گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران ایران کے ہاتھوں امریکہ کو پہنچنے والے تین شدید جھٹکوں کا ذکر کر رہے ہیں، ان آٹھ سالوں کے دوران تین مواقع پر ہونے والے الگ الگ واقعات نہ صرف امریکہ بلکہ صیہونی ریاست کیلئے بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے، امریکہ کی طاقت ٹیکنالوجی اور معیشت پر منحصر ہے، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سائنس کی دنیا میں امریکہ کو دنیا بھر میں بے تاج بادشاہ کی حیثیت حاصل ہے، مثال کے طور پر دنیا کی سب سے بہترین یونیورسٹی ہاورڈ یونیورسٹی ہے، جس کا بجٹ پاکستان کے ایف بی آر کے مجموعی محصولات سے زیادہ ہے، یعنی 35 ارب ڈالر سے زیادہ (5495 ارب پاکستانی روپے) اس کے باؤجود ایران کے ہاتھوں پہنچنے والے یہ تین جھٹکے امریکہ کیلئے کسی سانحے سے کم نہیں۔

 

پہلا جھٹکا، 2011ء

1979ء میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے امریکہ نے ایران کیخلاف سیاسی، معاشی، عسکری اور ثقافتی دہشتگردی شروع کر رکھی ہے ،ساتھ سائبر اور ہائبرڈ وار بھی جاری ہے۔ 2009ء میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایرانی ایٹمی پروگرام پر طاقتور سائبر حملہ کیا تھا، جس کے بعد واضح ہوا کہ ''ٹیکنالوجیکل وارفیئر'' بھی اپنی شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اسی دوران 2011ء میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے وہ کارنامہ سر انجام دیا، جس نے امریکہ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، 2011ء میں جب ایرانی ایٹمی سرگرمیوں کی جاسوسی کرنے والے امریکہ کے جدید ترین سٹیلتھ (ریڈار پر نظر نہ آنے والے) ڈرون طیارے RQ-170 کو ہیک کرکے ایران نے بحفاظت اپنے قبضے میں لے لیا، یہ ڈرون افغانستان سے ایران کی فضا میں داخل ہوا تھا، جہاں وہ ایٹمی سرگرمیوں کی جاسوسی مشن پر تھا، ایران نے ڈرون کے کنٹرول سسٹم کو امریکہ کے کنٹرول سے خارج کرکے اپنے قبضے میں لیا، جس کے بعد اسے بحفاظت اتار لیا گیا۔

اس واقعے نے پنٹاگون کو سکتے میں مبتلا کر دیا، بعد میں میڈیا رپورٹوں میں انکشاف ہوا کہ ڈرون کی اس طرح کی جدید ترین نسل تیار کرنے پر امریکہ نے 70 ارب ڈالر خرچ کیے تھے، طیارے کی خاص بات یہ تھی کہ اگر یہ مرکزی کنٹرول سسٹم سے خارج ہو جاتا یا کوئی اسے گرا لیتا ہے تو یہ دھماکے سے پھٹ جاتا ہے یا کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں وہ خودکار طریقے سے وہ واپس بیس کیمپ پر اتر جاتا ہے، لیکن ایران نے اس سسٹم کو بھی ہیک کر لیا، پہلے پہل تو امریکہ نے اس واقعے پر ہی پردہ ڈالنے کی کوشش کی، بعد میں طیارہ فنی خرابی سے گرنے کا شوشہ چھوڑا گیا، لیکن جب ایرانی ٹی وی پر براہ راست فوٹیج دکھائی گئی تو امریکہ کے پاس اعتراف کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا۔

بعد میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ڈرون کے کھو جانے کے بعد امریکہ نے سرجیکل سٹرائیک کے ذریعے ڈرون کو واپس لینے کا منصوبہ بھی بنایا تھا، لیکن ردعمل کے خوف سے اس پر عملدرآمد روک دیا گیا۔ ایران کے ہاتھوں جدید ترین ڈرون پکڑے جانے کے واقعے کے بعد دو اہم پہلو نمایاں ہوئے، پہلا ایران کی عسکری طاقت کے بارے میں لگائے جانے والے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے، اور دوسرا جدید ترین ٹیکنالوجی ایران کے ہاتھ لگ گئی۔ RQ-170 سینٹیل کو ایف 35 اور ایف 22 کی طرح پنٹاگون کی تاریخ کے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے ہیں، لیکن یہ منصوبہ آسانی کے ساتھ تیار شدہ ایران کے ہاتھ لگ گیا۔


دوسرا جھٹکا، 2018ء

ستمبر 2018ء میں ایرانی فوجی پریڈ پر دہشتگردوں کے حملے کے جواب میں پاسداران انقلاب نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر میزائل داغے تو یہ امریکی اور اسرائیلی ایوانوں میں کسی زلزلے سے کم نہ تھا، کیونکہ موجودہ حالات کے تناظر میں میزائل حملے کا اسٹریٹجک پہلو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کئی سو کلومیٹر دور سرحد پار کسی ٹھکانے پر کامیاب میزائل حملہ کئی معنی رکھتا ہے۔ اس کامیاب میزائل حملے کی گونج اسرائیل میں زیادہ سنی گئی، کیونکہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں اپنے میزائل پروگرام کو خاص بنیادوں پر استوار کر رکھا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایران کے شہر کرمانشاہ سے شام کے شہر بوکمال میں داعش کے ٹھکانے پر ذوالفقار بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اہم کمانڈر سمیت کئی دہشتگرد ہلاک ہوئے تھے۔ ذوالفقار درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے، جو ساڑھے سات سو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایرانی میزائلوں نے 570 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے شام  میں دہشتگردوں کے کیمپ کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

اس کارروائی میں اہم کمانڈر سمیت کئی دہشتگرد ہلاک اور بوکمال شہر میں داعش کا سب سے بڑا اسلحہ ڈپو تباہ ہوا، اس آپریشن میں میزائل کے ساتھ ڈرون طیاروں نے بھی حصہ لیا، یہ ڈرون ایرانی ساخت کے RQ-170 تھے، یہ وہی پیشرفتہ ترین امریکی ڈرون ہے، جسے ایران نے 2011ء میں ہیک کرکے صحیح و سالم اتار لیا تھا۔ بعد میں اس کے سسٹم کو ڈی کوڈ کرکے ریورس انجنیئرنگ کے ذریعے آرکیو 170 کی پوری کھیپ تیار کر لی۔ میزائل حملے نے اسرائیل کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ جنگ کی صورت میں کیا نتیجہ نکلے گا۔ یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت تمام تر اندازوں اور تجزیوں سے بڑھ کر ہے، ایران کے پاس ذوالفقار سے بھی زیادہ صلاحیت کی کئی میزائل سیریز موجود ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کو بھی بخوبی معلوم ہوا کہ عرب ممالک میں موجود فوجی اڈے اور بحری بیڑوں کو پیشرفتہ ایرانی میزائلوں سے حقیقی خطرہ لاحق ہے اور ان کے تمام اندازے غلط ہیں۔


تیسرا جھٹکا، 20 جون 2019ء

ایران کے ہاتھوں امریکہ کو تیسرا اور شدید ترین جھٹکا ابھی ابھی لگا ہے، جس کے آفٹرشاکس اب بھی پوری دنیا محسوس کر رہی ہے، فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکہ کے جدید ترین ڈرون آر کیو فور گلوبل ہاک (RQ-4 Globle Hawk) کو صوبہ ہرمزگان میں مبارک پہاڑ کے علاقہ میں تباہ کر دیا۔ یہ صرف ایک ڈرون نہیں تھا بلکہ خلیج میں موجود امریکی بیڑوں کا مکمل کمیونیکیشن اور اینٹلیجنس سسٹم تھا، جو اب تباہ ہوچکا ہے۔ خود امریکی میڈیا نے یہ انکشاف کیا ہے کہ یہ ڈرون امریکہ کا جدید ترین اور مہنگا ترین ڈرون تھا، وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس طرح کا ایک طیارہ بنانے پر 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے۔

65 ہزار فٹ کی بلندی پر مسلسل 30 گھنٹے پرواز کرنے اور ایک ہی وقت میں ایک لاکھ مربع کلومیٹر کا سروے کرنے، ہر قسم کے موسم میں زمین پر نظر رکھنے کی صلاحیت کے حامل اس ڈرون کو ایران کے مقامی ساختہ میزائل دفاعی نظام ''سوم خرداد'' نے نشانہ بنایا۔ سوم خرداد کو حال ہی میں آپریشنل کیا گیا ہے۔ ڈرون کی تباہی کے بعد لگنے والے جھٹکوں کا اندازہ اس وقت لگا، جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ انکشاف کیا کہ گذشتہ رات کو ہی امریکی صدر نے ایران پر حملے کا حکم دیا تھا، حملے کی تیاریاں بھی کی جا رہی تھیں، لیکن اسی رات ٹرمپ نے اپنے حکم کو واپس بھی لیا، کیونکہ امریکہ کو ایران کے ردعمل کا اب کوئی اندازہ نہیں رہا، اس لیے جنگ کا امکان فی الحال نظر نہیں آتا، کیونکہ حالات اب امریکہ کے قابو میں نہیں رہے، تاہم مزید سرپرائزز اور جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ای میل کریں