حج کے دوران امام خمینی(رہ) کی نظر میں سب سے بہترین عمل کیا ہے؟

حج کے دوران امام خمینی(رہ) کی نظر میں سب سے بہترین عمل کیا ہے؟

امام خمینی (رہ) نے حج کے اہداف کو بیان کیا ہے جن میں سے سیاسی مسائل پر غور وفکر پر کافی تاکید کی ہے

حج کے دوران امام خمینی(رہ) کی نظر میں سب سے بہترین عمل کیا ہے؟

جماران خبر رساں ایجنسی کی رپورت کے مطابق امام خمینی (رح) فرماتے ہیں حج کا سفر ایک الہی اور روحانی سفر ہے جس میں سیاسی اور سماجی اہداف بھی پاے جاتے ہیں یہ دن مسلمانوں کے اقتدار کے ایام ہیں لہذا ایرنی حجاج کرام کی ذمہ داری اس سفر میں بڑھ جاتی ہے کیوں کہ ایک تو حجاج کرام اسلامی جمہوری ایران کے سفیر اور دوسرے مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے ہیں حج کا موسم  پوری دنیا تک حق کا پیغام پہچاننے کا بہترین موقع ہے۔

امام (رہ) فرماتے ہیں پوری دنیا کے حجاج کرام کی نگاہ ایرانی حجاج کرام  پر رہتی اور وہ آپ کے ہر ایک عمل کو بڑی باریکی سے دیکھتے ہیں لہذا آپ ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے اسلام اور اسلامی جمہوری ایران پر کو ئی خدشہ وارد ہو اور لوگ ہم سے متنفر ہوں۔

امام خمینی (رہ) حجاج کرام کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں حجاج کرام اور حرمین شریفین کے زائرین اس بات کی اہمیت کو سمجھیں کہ وہ ایسے ملک سے اللہ کے گھر اور پیغٕبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرم کی طرف جا رہے ہیں جس نے اسلام کے اہداف اور طاغوتی نظام کے خلاف تحریک چلائی تھی لہذا ضروری ہے کہ وہ دوسرے حجاج کرام کا بھی خیال رکھیں۔

امام خمینی(رہ) اپنے ایک دوسرے بیان فرماتے ہیں زائرین کرام کا اس وقت امتحان ہو رہا ہے کیوں کہ وہ  اس وقت پوری دنیا کے سامنے اسلامی جمہوری ایران کا چہرہ ہیں اور دنیا بھر سے آئی ہوئی لاکھوں نگاہوں کا مرکز بنے ہوے ہیں۔

اسلامی جمہوری ایران کے بانی کبیر حضرت امام خمینی(رح) اس سفر کی معنویت کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں: ہر سال پوری دنیا سے لاکھوں حاجی مکہ مکرمہ جاتے ہیں جہاں وہ اپنا پاوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور جناب ہاجرہ سلام اللہ کے پاوں کی جگہ رکھتے ہیں لیکن ان میں سے  کوئی بھی اپنے آپ سے یہ سوال نہین کرتا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون تھے؟ اور انہوں نے کیا کیا؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم سے کیا چاہتے ہیں؟

واضح رہے کے امام خمینی (رہ )  اپنے مختلف پیغامات میں حج ابراہیمی اور محمدی کی اہمیت اور اہداف کو بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں کہ ہمارے ہر عمل کے کچھ ایداف اور مقاصد ہوتے ہیں اسی طرح حج بیت اللہ کے بھی کچھ اہداف ہیں جن میں سب سے پہلا ہدف اپنی اندر تبدیلی پیدا کرنا ہے، امام (رہ) فرماتے ہیں حب نفس اور حب دنیا سے دوری بنانے کا بہترین موقع ہے حج بیت اللہ کے بعد اگر کوئی شخص اپنے اندر تبدیلی محسوس کرتا ہے تو اس نے اس سفر کی معنویت کو درک کیا ہے۔

امام خمینی (رہ) اتحاد بین المسلمین کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتےہیں حج کے دوران جہاں پوری دنیا سے لاکھوں حجاج کرام جمع ہوتے ہیں وہاں اتحاد بین المسلمین برقرار رکھنا ضروری ہے اور حجاج کرام کو چاہیے کہ وہ اپنے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں ان کے علاوہ بھی امام خمینی (رہ) نے حج کے اہداف کو بیان کیا ہے جن میں سے سیاسی مسائل پر غور وفکر پر کافی تاکید کی ہے۔

 

 

 

ای میل کریں