تقوا

تقوا

اصلاح میں نفس اور اس کے شر سے بچنے کے لئے وہ ہمیشہ با وضو رہنے کی سفارش کیا کرتے تھے

امام خمینی (رح) اپنی کتاب چہل حدیث میں تقوا کے دو مفاہیم ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:

جان لیں کہ (تقوا) وقایہ سے ہے کہ جس کا مطلب نگاہداری ہے اور عرف عام میں اس کا مطلب اپنے نفس کو محرمات الہی سے روکنا اور اوامر الہی کا تابع بنانا اور رضائے الہی کی پیروی کرنا ہے۔ اور اس بات کو ہر حال میں جاننا چاہیے کہ اگر چہ تقوا دنیاوی کمال کے ساتھ وابستہ نہیں ہے لیکن اس کے بغیر اس کے حصول کا امکان بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ نفس انسان عموما محرمات کی طرف تمایل رکھتا ہے اور ہر وقت لذاید دنیاوی کے حصول کا منتظر رہتا ہے، لذا اس کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے رضائے الہی کو اس پر حاکم کرنے سے آدمی صاحب تقوا ہوتا ہے۔ اس طرح سب سے پہلے: انسان کو حب دنیا سے رہائی حاصل کرنا ہوگی اور جب تک یہ رهائی حاصل نہیں کرلے گا اس وقت تک وہ مقام متوسطین و مقام زاہدین تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ اور اسی طرح نہ ہی وہ مقام مخلصین اور محبین تک پہنچ سکتا ہے۔ اور جب تک اس کے دل میں ملک و ملکوت کا شوق رہے گا اور  مقام مجذوبین تک رسائی حاصل نہیں کر پائے گا۔ اور جب تک اس کے باطن میں اور اس کی ذات کے اندر اسم و اسماء (میں اور ہم) کا شوق رہے گا اس وقت تک وہ فنا فی اللہ کی منزل تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اور جب تک (تلوین یعنی خدائی صفات) کا حامل رہے گا اس وقت تک (تمکین یعنی احکام الہی کو صحیح معنوں میں ) انجام نہیں دے پائے گا۔ اور اس طرح سے ذات خدا اس کے اندر ازلی و ابدی تجلی نہیں کرے گی۔ لہذا تقوا عوام کے لئے محرمات سے رکنے کا نام ہے اور خواص کے لئے خواہشات نفسانی سے، زاہدوں کے لئے حب دنیا سے دوری اور مخلصین کے لئے حب نفس سے دوری، مجذوبین کے لئے کثرت افعالی اور فنا فی اللہ کے لئے کثرت اسمائی، اور واصلین کے لئے فنا کی جانب توجہ اور متمکنان کے لئے تلوینات کا نام ہے کہ جس کا اشارہ قرآن کریم میں اس طرح سے ہوا ہے۔

اس کے علاوہ تقوا کے ایسے مراتب ہیں کہ جن کا ذکر اصطلاحات اور مفاہیم کی حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اور ان تمام اصطلاحوں کے لئے اپنا اپنا میدان ہے کہ جس کا مسافر اس کے اندر راہی بہ سمت منزل والا ہوتاہے۔

یہاں پر ہم تقوا کے پہلے مرحلے کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو کہ اپنی نوع کے اعتبار نہایت اہم ہے:

ہمارے ایک بہت بڑے عارف اور عالی مقام شیخ فرمایا کرتے تھے کہ سورہ حشر کی آخری آیت شریفہ "یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ و لتنظر نفس ما قدمت لغد و اتقو ا الله ان الله خبیر بما تعلمون" کو اپنی نمازوں کی تعقیبات میں اور خصوصا نماز شب کے بعد کہ جب دل دنیا کے تمام خیالات سے خالی ہوتا ہے اس وقت پڑھنا بہت زیادہ موثر رہتا ہے۔ اصلاح میں نفس اور اس کے شر سے بچنے کے لئے وہ ہمیشہ با وضو رہنے کی سفارش کیا کرتے تھے۔ اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ وضو ایک ایسا لباس ہےکہ جس سے ہر طرح کے خوف و خطر سے امان ملتی ہے۔ لہذا اللہ تعالی سے ہر وقت دعا کرتے رہیں کہ وہ ہماری مدد کرے اور ہمیں اہل تقوا بنائے۔


ای میل کریں