ایرانی قیادت پر ہمارا پورا اعتماد ہے

ایرانی قیادت پر ہمارا پورا اعتماد ہے

خطے میں بیداری، اس جد وجہد کا نتیجہ ہے جو امام خمینی(رح) نے ایران میں سامراج کو شکست دینے کے سلسلے میں کی تھی۔

خطے میں بیداری، اس جد وجہد کا نتیجہ ہے جو امام خمینی(رح) نے ایران میں سامراج کو شکست دینے کے سلسلے میں کی تھی۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے اسلام ٹائمز کو دئیے گئے اپنے ایک انٹریو میں کہا: عرب اسپرنگ ان مغلوب لوگوں کی جد وجہد ہے جن کو مختلف بادشاہوں نے مختلف اوقات میں دبایا ہے اور انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب اسپرنگ میں عرب ممالک کے بادشاہوں نے یہ کردار ادا کیا کہ اس کو مسلکی رنگ دے دیا جائے۔ مسلکی رنگ دینے کی کوششوں کی وجہ سے صورتحال بہتری کی طرف جانے کی بجائے خرابی کا شکار ہونے لگی۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ جو ٹولہ اقتدار میں بیٹھا ہے یہ نہ شیعہ ہے نہ سنی، یہ اپنے مفادات کےلئے ساری چیزیں کرتے ہیں۔ امریکہ کا ساتھ دیتے ہیں، اس کے گن گاتے ہیں، بحرین کے اندر جد وجہد کو شیعہ کہہ کر دباتے ہیں و ...

ڈاکٹر معراج الہدی نے خطے میں آئی بیداری کی اس لہر کے بارے میں کہا: یہ نتیجہ ہے اس جد وجہد کا کہ جو امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے ایران میں سامراج کو شکست دینے کے سلسلے میں کی تھی۔ امریکی سامراج و استعمار کو ایران سے نکالا، ایک بھی گولی چلائے بغیر۔ ایسی پر امن جد وجہد جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

امریکہ نے عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے ذریعے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے پیغام کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کا تصور انقلاب ہے وہ شیعہ انقلاب کا تصور نہیں ہے۔ ان کا انقلابی پیغام دنیا کے تمام مغلوب و مظلوم انسانوں کی آزادی کےلئے ہے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں جہاں جہاں سامراج و استعمار کے ٹٹو اور پٹھو حکمران بیٹھے ہیں ان کو مسترد کرکے ہٹانے کا پیغام ہے۔

امام خمینی رحمت اللہ علیہ کا یہ تصور ساری دنیا میں قبولیت رکھتا ہے اور مغرب میں رہنے والوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تو یہ عرب اسپرنگ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے انقلاب کی دوسری نسل ہے۔ اس کو خراب کرنے کےلئے اسے مسلکی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا سارا فائدہ ان عرب بادشاہوں کو ہوتا ہے۔

شام کا مسئلہ ہے بہت نازک۔ شام کے اسرائیل مخالف کردار کو ہم تسلیم کرتے ہیں اور یہ ٹھیک ہےکہ شام کے اس کردار سے بالکل انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شام نے اسلامی مزاحمتی تحریکوں حماس اور حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف بہت کھلے طریقے سے سپورٹ کیا۔

ہم یہ کہتے ہیں شام کے مسئلے کو مسلکی رنگ نہیں دینا چاہیئے، اس مسئلے کو بہترین حکمت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اس لڑائی میں شامی عوام کا جو جانی نقصان ہو رہا ہے، اس نقصان سمیت دیگر تمام نقصانات سے بچنے کےلئے شامی حکومتی نمائندوں اور وہاں جو باغی ہیں ان کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہئیے، تاکہ مسئلہ کا پر امن حل نکل سکے۔

عالم اسلام میں ایسے علماء و فقہاء موجود ہیں کہ جو یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ شام کے اندر جو مسئلہ پیدا ہوا ہے اس کے اندر امریکہ اور اسرائیل ملوث ہیں، یہ بات بالکل ٹھیک ہے، ہم اس حقیقت کو مانتے ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی کہتے ہیں وہاں جو ظلم و زیادتی ہوئی ہے وہ بھی بہت بڑی ہوئی ہے۔ وہاں جو عوام قتل ہو رہی ہے، وہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ عوام کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا سب سے اہم ہے۔

شام کے مسئلے پر ایران کے موقف کے بارے جماعت اسلامی کا نظریہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا تھا:

ایران اور ایرانی قیادت پر ہمارا پورا اعتماد ہے، حزب اللہ اور حسن نصر اللہ صاحب پر ہمارا مکمل اعتماد ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں مزید اہلسنت نمائندوں، معتبر شخصیات کو شامل کیا جائے۔ جب یہ سب مل کر شام کے مسئلے کے حل کےلئے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے تو انشاء اللہ راستہ نکل آئےگا۔

جہاں تک بات ہے شام کے مسئلے کو خراب کرنے کی تو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ شام کے مسئلہ کو خراب کرنے میں ان قوتوں کا زیادہ بڑا کردار ہے جو اپنی بادشاہتوں کو قائم رکھنا چاہتے ہیں، اس کےلئے یہ بادشاہ مسلک کا ڈھونگ استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان کا کوئی مسلک نہیں ہے، بادشاہ تو بادشاہ ہوتا ہے اس کا کیا مسلک ہے، نہ وہ سنی ہے نہ وہ شیعہ ہے۔ یہ بادشاہتیں تو امریکہ کی غلام ہیں۔ کس نے کہا ہےکہ تم امریکہ کی افواج کو بلا کر اپنے ہاں بٹھا دو، امریکہ کو اڈے بھی فراہم کر دو، اس کو ہر طرح کی سپورٹ بھی دیتے رہو۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ خطے کے معاملات خطے کے اندر رہ کر خطے کی قوتوں کے باہمی اعتماد کے ساتھ حل ہونے چاہیئیں۔ سامراجی قوتوں کو ہزاروں میل دور سے بلا کر لوگ ان کی ہدایات پر عمل کرنا شروع کر دینگے تو حالات بہتری کی جانب جانے کے بجائے خرابی کا شکار ہونگے۔

 

http://urduold.ws.irib.ir/

ای میل کریں