مکتب خمینی(رح) میں عوام اور جمہوری نظام کی بنیاد

مکتب خمینی(رح) میں عوام اور جمہوری نظام کی بنیاد

اس نظام میں اسلام، جمہور کے ساتھ ہے چنانچہ جمہور بھی اسلام محمدی(ص) کے ساتھ عجین ہے۔

مکتب امام خمینی رحمت اللہ علیہ میں جمہوریت اور عوامی کردار اہم اور قابل احترام بھی ہے، طاقـتور اور کار ساز بھی ہے۔ اہم اور محترم ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام اور معاشرے کے امور چلانے میں عوام کی رائے بنیادی حیثیت رکھے۔ لہذا امام خمینی(رح) کے مکتب میں جو اسلام پر استوار ہے، حقیقی جمہوریت پائی جاتی ہے۔ عوام اپنے ووٹوں سے، اپنے ارادے سے اور اپنے ایمان سے راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور اپنے حکام کو منتخب کرتے ہیں۔ دوسری طرف امام خمینی(رح) عوام کے ووٹوں کی طاقت پر یقین رکھتے تھے اور آپ کا نظریہ تھا کہ عوام کے فولادی ارادے سے دنیا کی تمام جارح طاقتوں کے مقابلے میں استحکام اور پائیداری کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے اور آپ نے اس پائیداری کا ثبوت دیا۔

امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مکتب فکر میں جمہوریت اور جمہوری نظام، دین کے پایے پر استوار اور" وامرھم شوری بینھم" کی آیت سے ماخوذ ہے جس طرح "ھو الذی ایدک بنصرہ وبالمؤمنین" کے مطابق بھی ہے۔

اس نظام میں اسلام، جمہور کے ساتھ ہے چنانچہ جمہور بھی اسلام محمدی(ص) کے ساتھ عجین ہے۔ اس لئے ہمارا اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس ملک میں جمہوریت نہ ہو۔ ہم نے جمہوریت کسی سے نہیں سیکھی ہے، اس کی تعلیم ہمیں اسلام نے دی ہے۔ اس قوم کے ذہن اور اس نظام میں عوام اور خدا دونوں مد نظر ہیں اور خدا نے عوام کو یہ راستہ طے کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔ اس قوم، اس نظام، ان حدود اور اس آئین نے اسلام کی بھی ضمانت دی ہے اور جمہوریت کو بھی یقینی بنایا ہے۔

مذکورہ بنیاد کے تحت، آج ہم اسلامی جمہوریہ ایران میں انسانی تجربات سے بھی استفادہ کر رہے ہیں۔ بشری تجربات نے جمہوری نظام کو ایک طرح سے پارلیمانوں کی شکل میں مجسم کیا ہے۔ ہم نے پارلیمان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ وہ تمام چیزیں جن کا بشریت نے برسوں اور صدیوں تجربہ کیا ہے، اسلامی تفکر کشادہ روئی کے ساتھ ان کو قبول کرتا ہے لیکن محکم اسلامی اصولوں کے مطابق۔ یہ وہ چیز ہے جس نے اسلامی ملک ایران میں عملی شکل اختیار کی ہے۔


ماخذ: سوشل میڈیا

ای میل کریں