حج کے مناسک زندہ لوگوں کے مناسک ہیں

حج کے مناسک زندہ لوگوں کے مناسک ہیں

امام خمینی(رہ) کی 1970ء اور اس سے پہلے کی تحریک میں دینی فکر کا احیاء اہم ترین اہمیت کے حامل امور میں سے ایک تها۔

امام خمینی(رہ) کی 1970ء اور اس سے پہلے کی تحریک میں دینی فکر کا احیاء اہم ترین اہمیت کے حامل امور میں سے ایک تها۔

امام خمینی(رہ) دینی فکر کے احیاء پر، ایک مقدس ہدف کے طور پر عالمی سطح پر، زور دیتے رہے اور اپنی پر برکت زندگی کے آخری ایام تک بهی وہ اس ہدف کا تعاقب فرماتے رہے۔

امام خمینی(رہ) کی انتهک سعی و جدوجہد میں سے ایک حج بیت اللہ کے سماجی اور سیاسی اثرات کو واضح کرنے کے ذریعے ان کا احیاء تها۔

امام خمینی(رہ) کے گفتار وکردار کا ایک معتدبہ حصہ ابراہیمی(ع) اور محمدی(ص) حج کے احیاء سے متعلق ہے اور استعماری طاقتوں اور اسلامی ممالک میں ان کے چنے گئے ایجنٹوں کو بدنام کرنے کے راستے سے حقیقت کا جامہ پہنایا۔

مسلمانوں کے بڑے فرائض میں سے ایک یہ ہے کہ وہ معلوم کریں کہ حج بیت اللہ کی حقیقت کیا ہے؟

حج بیت اللہ کو اس سے کیا غرض ہے کہ انسان کو کس طرح زندگی گزارنی چاہیے اور کس طریقے سے فرد کا مقدس جدوجہد میں شریک ہونا ضروری ہے؟

حج بیت اللہ کو مسلمانوں کے حقوق اور مستضعفین کی متکبرین کے خلاف حفاظت و نگہداشت سے کیا لینا دینا؟

حج بیت اللہ کو مسلمانوں پر ذہنی اور جسمانی دباؤ ڈالے جانے کے مسئلے کو حل کرنے سے کیا مطلب؟

حج بیت اللہ کو اس سے کیا غرض ہے کہ مسلمانوں نے ایک عظیم قوت کی صورت میں تیسری عالمی طاقت کے طور پر اپنے آپ کو منوانا ہے؟

حج بیت اللہ کے فلسفے اور معاشرتی اور سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے نظریاتی اور روحانی اہداف و مقاصد کو سمجهیں۔

امام خمینی(رہ) کا یہ نظریہ ہے کہ حقیقی حج بیت اللہ کو حج کی ان باطل تفاسیر اور توجیہات سے نبردآزما اور ان کا مخالف ہونا چاہیے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’ حج بیت اللہ، الہٰی تعلیمات کے دل (وسط) میں موجود ہے جس سے آدمی کو زندگی گزارنے کے تمام پہلوؤں پر مبنی اسلام کی پالیسی کے متن کو ڈهونڈ نکالنا چاہیے۔

حج بیت اللہ ایک ایسے معاشرے کا معمار ہے جس سے مادی اور روحانی نقائص و معائب دور کئے گئے ہوں۔

حج کے مناسک زندہ لوگوں کے مناسک ہیں۔

حج بیت اللہ توحیدی انسان کو منظم کرتا ہے۔

حج بیت اللہ مسلمانوں کی مادی، روحانی، مخفی صلاحیتوں اور استعدادت کے انعکاس کا مقام ہے۔

حج بیت اللہ وہ پر برکت قرآن ہے جس سے تمام لوگ مستفید ہوتے ہیں۔

یقیناً ایک بے روح بے حرکت اور بے تحریک حج ذمہ داری سے انکار، بغیر وحدت و اتحاد اور ایک ایسا حج جو کفر اور شرک کے انکار کی دعوت نہ دیتا ہو، حقیقی حج نہیں ہوتا۔

مگر کیا کیا جائے اور ہم اس بڑے غم کو لے کر کہاں جائیں کہ حج بیت اللہ کو قرآن عظیم کی طرح ہی اجنبی بنا دیا گیا ہے!!


حجکم مقبول وسعیــکم مشکور

والسلام علی عبادہ الصالحین

ای میل کریں