یہ ایک الهی ذمہ داری اور شرعی معاملہ ہے

یہ ایک الهی ذمہ داری اور شرعی معاملہ ہے

ہم نے یہ فیصلہ کیا تها کہ دو تین دن حضرات کے ساته ملاقاتیں کرنے کے بعد کویت سے شام جائیںگے اور وہاں طویل مدت تک رہیںگے۔ لیکن خداوند نے یہ تقدیر لکهی تهی کہ راہ، دوسری ہی چیز ہو۔

   خدا تعالیٰ نے جو چیزیں مقرر کی ہیں، ہم ان کے راز سے تب تک آگاہ نہیں ہوتے ہیں جب تک ان کا وقت گزر نہیں جاتا ہے۔ عراقی حکومت پر ایرانی حکومت اور محمد رضا شاہ کے دباؤ اور ان کی جانب سے ہمارے گهر کی نگرانی کے بعد، عراقی حکومت کے عہدیداروں اور ہمارے درمیان جو ملاقاتیں اور مذاکرات ہوئے ان میں ہم نے ان کو خبردار کیا کہ یہ ایک شرعی معاملہ ہے۔ ایک الٰہی ذمہ داری ہے اور میں ایک شرعی معاملے اور ذمہ داری کو تمہارے کہنے پر ترک نہیں کرسکتا ہوں۔ میں ان کاموں کو جو یہاں انجام دے رہا ہوں، انجام دیتا رہوںگا۔ تم بهی جو کچه کرنا چاہتے ہو کرو۔ انہوں نے ہم سے التجا کی کہ چونکہ ہمارا ایرانی حکومت کے ساته سمجهوتہ ہوا ہے اور جو کچه آپ اور آپ کے ساتهی کررہے ہیں، وہ اس سمجهوتے کے منافی ہے۔ اس لیے ہم ان کاموں کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں نے کسی سے سمجهوتہ نہیں کیا ہے۔ تمہارا سمجهوتہ ہے۔ میری ایک شرعی ذمہ داری ہے، اس پر میں عمل کروںگا اور تمہارے سمجهوتے کی مجهے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں منبر پر تقریریں بهی کروںگا، اعلامئے بهی جاری کروںگا اور کیسٹ بهی ریکارڈ کر کے بهیجوںگا۔ یہ میرا فرض ہے۔ تمہاری بهی جو ذمہ داری ہے، تم اسے انجام دو۔ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے میرے بهائیوں کو، کہ جو نجف میں میرے دوستوں میں شمار ہوتے تهے، ڈرایا دهمکایا اور مجهے پتہ چلا کہ انہوں نے ان سے کہا ہے کہ ہمیں خود ان سے مثلاً، کوئی سروکار نہیں ہے۔ لیکن تمہیں فلاں انجام سے دوچار کردیںگے۔ میں نے جب یہ دیکها کہ ممکن ہے کہ میرے ان دوستوں کو کوئی نقصان پہنچائیں تو میں نے سفر کا ارادہ کرلیا اور میں کویت کی سرحد پر چلا آیا (البتہ عراقی حکومت کی نگرانی میں) اور کویت کی سرحد پر بهی وہ دباؤ جو عراقی حکومت پر تها، کویت کی حکومت پر بهی تها اور انہوں نے ہمیں شہر عبور کر کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے کی بهی اجازت نہیں دی، البتہ مجهے کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ وہ اپنے سمجهوتوں کے مطابق عمل کرنے کے پابند تهے۔ مجهے نہ تو عراقی حکومت سے گلہ ہے اور نہ ہی کویت کی حکومت سے۔ لیکن خدائے تبارک وتعالیٰ نے یہ مقرر کیا تها اور ہم اس سے غافل تهے۔
    ہم نے یہ فیصلہ کیا تها کہ دو تین دن حضرات کے ساته ملاقاتیں کرنے کے بعد کویت سے شام جائیںگے اور وہاں طویل مدت تک رہیںگے۔ لیکن خداوند نے یہ تقدیر لکهی تهی کہ راہ، دوسری ہی چیز ہو اور ہم نہیں جانتے تهے کہ اس تقدیر کا انجام کیا ہوگا۔


۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.۔.
صحیفہ امام، ج ٦، ص ٢٢٦۔ 

ای میل کریں