آرامگاہ

آرامگاہ

دنیا کے عظیم الشان رہبر امام خمینی(رح) کا مرقد مطہر ایران میں مشہور ہے، آپ کے مزار اقدس کا جنوبی دروازہ تہران کے بہترین علاقہ گلزار شہداء کے نزدیک بہشت زہرا قبرستان میں واقع ہے

دنیا کے عظیم الشان رہبر  امام خمینی(رح) کا مرقد مطہر ایران میں مشہور ہے، آپ کے مزار اقدس کا جنوبی دروازہ تہران کے بہترین علاقہ گلزار شہداء کے نزدیک بہشت زہرا قبرستان میں واقع ہے اور درحقیقت اپنی نوعیت کا عظیم الشان اور بے نظیر ایک مجموعہ شمار ہوتا ہے۔ ایرانی ۱۴/ خرداد کی رات کو جب امام خمینی(رح)کی حالت بگڑتی جارہی تهی سید احمد خمینی مرحوم کی موجودگی میں امام خمینی(رح) کے دفتر  کے بعض اراکین اور قم و تہران کے علماء اور ملک کے مسئولین اور ذمہ داروں کے ساته جماران نامی مقام پر ایک جلسہ ہوا اور آپ کے مدفن کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئیں اور مسئولین ، ملک کے سربراہوں اور بعض علماء و مراجع نے اپنی اپنی تجویز پیش کی ۔ پهر ان تمام آراء و نظریات کو جمع کرنے کے بعد کہ امام کو دفن کرنے کے لئے تہران بہترین جگہ ہے اور مرحوم حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمد خمینی(رح) اور دوسروں کی رائے کے ساته یہ طے پاگیا کہ امام(رح) کےپاکیزہ پیکر کو  انقلاب اسلامی کے عظیم المرتبت شہداء کے قریب بہشت زہرا نامی مقام پر ہی دفن کیا جائے۔ ایک گروہ مناسب اور بہشت زہرا میں بہترین جگہ کے انتخاب کے لئے نکل پڑا اور ہمہ جانبہ چهان بین کرنے کے بعد موجودہ مقام کی تعیین کردی اور بہشت زہرا ادارہ کے تعاون سے مدنظر علاقہ اس کے مالک سے خرید کر ان کے حوالہ کردیا۔ اس عظیم نقشہ اخراجات اور عوامی تعاون، اعتبارات، مراکز اور اداروں کا تعاون ہے نیز  نذورات، عائدات، تحفے اور موقوفات سے پورے ہوتے ہیں۔
امام خمینی(رح) کی رحلت سے لے کر چہلم تک ضریح کے ہمراہ مزار کا ابتدائی حصہ بن گیا اور ملک میں موجودہ وسائل کی مدد اور فضائی سازو سامان کے ہونے کی بنا پر کچه ہی دنوں میِں سائبان پڑگئی۔ اس کا اصلی گنبد بهی ۸/پیلر اور ۸/میٹر اونچائی کے ساته ظاہر ہونے لگا۔ اسی طرح جنوب، مشرق اور مغرب کی سمت میں چار گلدستے بنائے گئے اور ان گلدستوں میں سے ہر ایک کی لمبائی ۹۱/ میٹر ہے۔ حرم مطہر ۱۲۶x۱۲۶ یعنی طول و عرض دونوں لحاظ سے ۱۲۶x۱۲۶ہے کہ۴۲x۴۲ میٹر کا ۹/مربع میٹر میں تقسیم ہوا ہے اور ضریح میں جانے کا چار بڑا دروازہ ہے جو مربع کے وسط میں مرکزیت میں واقع ہے کوشامل ہے۔ اسلامی تعمیر کی خاص روش اورجدید مصالح سے اس کو بنایا گیا ہے کہ ہرز ائر اس کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ حرم کا اندرونی حصہ جو صرف چار ستونوں پر استوار ہے دیکهنے والوں کو ایک خاص عظمت اور تجلی کا پتہ دیتا ہے۔ اس نقشہ نے امام خمینی(رح) کی وفات کے دوسال بعد مسئولین کو اپنی طرف جذب کیا اور ۱۳۷۰سے اصلی نقشہ کا ابتدائی حصہ عمل میںِ آیا۔ اور اسی دوران ایک سال بعد ۱۲۰ میٹر ہزار مربع میں مشرق اور مغرب کے صحن کے بیس منٹ (Besment)کا نقشہ بنا اور اس کا سنگ بنیاد رکها گیا۔ یہ دونوں صحن کہ صحن شہداء اور صحن مصطفیٰ سے مشہور ہیں، دو بڑے آنگن کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس صحن کا استعمال ان تمام ضرورتوں کی جواب دہی ہے جس کی حرم کو مختلف شعبوں میں ضرورت پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر ثقافتی شعبہ کا نام لیا جاسکتا ہے جس میں حضرت امام خمینی(رح) انقلاب اور شہداء کا میوزیم بنایا گیا ہے۔ اسی طرح اس کا تجاری شعبہ عمل میں آیا (اس مجموعہ کے شہر سے دور ہونے کے لحاظ سے) تاکہ زائرین کی مشکل حل کرے اور اس کے رہائشی اور ہوٹل والے حصے میں بهی یعنی شمال غربی اورشمال شرقی دو حصوں میں بهی مراکز ایجاد کئے گئے تاکہ زائرین انفرادی،اجتماعی اور خانوادگی طور پر اس میں قیام کرسکیں۔ اس کے مغربی جنوب میں آراستہ اور اسپیشل قابل دید اسپتال ہے جو ابهی پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہئے کہ اس عمارت کا نقشہ ابتدا ہی سے امام خمینی(رح) کی یادگار عالی جناب سید احمد خمینی(رح) کا بنایا ہوا ہے۔ ان کا یہ خیال تها کہ  حرم اور روضہ کا کلی ڈهانچہ اور اس کی تعمیراگر ہوسکے تو حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے انصار کے عاشورائی انقلاب کا نمونہ ہواور اگر شیعہ عمارت اور خیمہ کا جلوہ نظر آئے تو بہت ہی بہتر ہےنقشہ بنانے والوں نے اس روش اور سلیقہ کو دستورالعمل کے عنوان سے نمونہ عمل قرار دیا۔
 
روضہ کے اندر اصلی گنبد ضریح کے اوپر واقع ہے اور دونوں صحن میں داخل ہونے والے دروازہ پر چار فیروزہ کے گنبد بنے ہوئے ہیں کہ عملی طور پر ہر اصلی صحن کو شامل ہیں، ہمیں اسی مجموعہ کے لئے ۵ /گنبد دکهائی دیتا ہے جس میں پنجتن پاک کی علامت ہے۔ پورے حرم کی معماری میں انتخابی اعداد کااصولی طور پر خاص نمونہ کے ساته انتخاب ہوا ہے۔ پانچ گنبد کی تعداد پنجتن پاک کی نشانی ہے گنبد کے نیچے والے ستون کی پہلی عدد ۸/ہے کہ آٹهویں امام سے موسوم ہے اور ہمارے آئین میں اس کا ایک مقام ہے، اسی طرح دروازہ کے اوپر کی آرائش بهی ۸/عدد سونے یا چاندی کی اینٹوں سے ہوئی ہے۔ اس کے گنبد بهی ۴۲ ، ۵۷  اور ۶۸ میٹر کی بلندی پر بنائے گئے ہیں کہ ۴۲ یعنی انقلاب کے آغاز کا سال ۵۷ سے انقلاب کی کامیابی اور ۶۸ امام خمینی رح کی رحلت کا سال ہے۔

ای میل کریں