ایران میں انجمنِ علمیِ عرفانِ اسلامی کی صدر نے عراقی خواتین کارکنان کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا: امام خمینیؒ فرماتے تھے: ’’امریکہ کچھ نہیں کرسکتا‘‘؛ کیونکہ وہ مطلق قدرت کو دیکھتے تھے۔ کیا امامؒ امریکہ کی طاقت اور اس کی قوت سے واقف نہیں تھے؟! امامؒ فرماتے تھے کہ مطلق قدرت اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، تو پھر ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے؟! اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عرفان محبت سے شروع ہوتا ہے؛ کیونکہ انسان تعینات اور ظاہری حدود سے آگے بڑھ سکتا ہے اور اس مقام پر اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کی موجودگی کو محسوس کرتا ہے۔ جس شخص کا محبوب سفر کے آغاز ہی سے اس کا ہم سفر ہو، اس کا سفر دشوار نہیں رہتا۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے معاملات دشوار نہیں رہتے۔ اس کی بلند ترین مثال حضرت زینبؑ کے اس فرمان میں نظر آتی ہے: ’’میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی مشقت کی بھی ایک دوسری صورت ہوتی ہے اور وہ لذت کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔
ایران میں انجمنِ علمیِ عرفانِ اسلامی کی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ہم آج کے مسائل کو امام خمینیؒ کی فکر کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر ہم امامؒ سے پوچھیں کہ موجودہ حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے، تو ان کا جواب بالکل واضح ہے اور اسے ان کی تحریروں میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ امامؒ نے ان تمام افکار کو اپنی کتاب ’’شرحِ جنودِ عقل و جہل‘‘ میں پیش کیا ہے۔ امامؒ کا کہنا ہے کہ انسان کو عقل کے ساتھ حرکت کرنی چاہیے؛ یعنی عقلانیت کو معاشرے میں جاری و ساری ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے عراقی خواتین کارکنان کے ایک گروپ سے ملاقات میں اپنے خطاب کے دوران کہا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم سب امام خمینیؒ سے محبت کرتے ہیں اور ہم سب امامؒ کے کام کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ امامؒ نے کتنا عظیم کام انجام دیا اور کس طرح دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ امامؒ کی عظمت اور اخلاق کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے، لیکن میرے خیال میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ کسی مفکر کی فکر زندہ اور جاری رہے تو سب سے پہلے اس فکر کو سمجھنا ضروری ہے، پھر ہم اس مفکر کے ساتھ مکالمہ کرسکتے ہیں۔ اگر ہم ان کی فکر کو جانیں اور ان کے ساتھ فکری مکالمہ کریں تو ہم آج کے مسائل کے حل کے لیے ان کے افکار سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
انجمنِ علمیِ عرفانِ اسلامی کی صدر نے مزید تأکید کی کہ ہم امام خمینیؒ کی فکر کے ذریعے آج کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امامؒ نے جن موضوعات کو پیش کیا اور جو علما کے درمیان بھی بہت معروف تھے، ان میں سیاست اور عرفان کا تعلق ایک اہم موضوع تھا۔ امامؒ سیاست سے مراد ’’زندگی کی دقیق منصوبہ بندی‘‘ لیتے ہیں، خواہ وہ دنیاوی زندگی ہو یا اخروی زندگی۔ امامؒ کے نقطۂ نظر سے دنیا میں اچھی زندگی ہمیں آخرت میں بھی اچھی زندگی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ یعنی اگر ہم دنیا میں زندگی بسر کریں، انسانی انداز میں عمل کریں اور انسانی رویہ اختیار کریں تو امید کی جاسکتی ہے کہ آخرت میں بھی ہمیں آرام و سکون کی زندگی نصیب ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا: ہماری اخروی زندگی ہماری دنیاوی زندگی کی اچھائی کی مرہونِ منت ہے۔ لیکن دنیا میں اچھی زندگی سے کیا مراد ہے؟ یہ ایک اہم نکتہ ہے جسے ہمیں سمجھنا چاہیے۔ ہم کس طرح زندگی بسر کریں کہ یہ کہا جاسکے کہ ہم نے اچھی زندگی گزاری؟ واضح ہے کہ اس کا تعلق دولت، ملکیت، اقتدار یا شہرت سے نہیں ہے؛ کیونکہ یہ چیزیں ثابت اور دائمی نہیں بلکہ اعتباری امور ہیں۔ یہ آج موجود ہوسکتی ہیں اور کل ختم ہوجاتی ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنے اندر انسانی صفات کو پروان چڑھائے تو وہ کہہ سکتا ہے: میں انسان ہوں اور میں نے انسانی زندگی گزاری ہے۔ اگر انسان انسانی زندگی بسر کرے تو آخرت میں بھی اسے اچھی زندگی حاصل ہوگی۔
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے یاد دلایا: اگر ہم امامؒ سے پوچھیں کہ آج روزمرہ زندگی کے مسائل، دشمنوں کے ہمہ گیر حملوں اور آج کی دنیا کے شور و ہنگامے کے درمیان ہم کس طرح زندگی گزاریں اور انسان بن کر رہیں؟ دوسرے لفظوں میں، اس بحران اور اس دشوار مرحلے میں، جب ہماری زندگی ہر طرح کے دباؤ کا شکار ہے اور آج کی دنیا، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور ایسے مسائل کا سامنا ہے جن پر بالکل قابو پانا ممکن نہیں، ہم کس طرح زندگی گزاریں؟
ہم نے امامؒ سے یہ سیکھا ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ’’بالقوۃ انسان‘‘ ہوتا ہے؛ یعنی اس میں انسان بننے، خلیفۃ اللہ بننے اور اپنے اندر صفاتِ الٰہی کو ظاہر کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے وجود میں ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: امام خمینیؒ کا پیش کردہ عرفان، بہت سے لوگوں کے عام تصور کے برخلاف، جذباتی اور انفرادی عرفان نہیں بلکہ سماجی اور تمدنی عرفان ہے۔ امامؒ نے اسی عقیدے کی بنیاد پر خود ایران میں ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھی، جو ڈھائی ہزار سال پر محیط شاہنشاہی سلطنت کا خاتمہ کرنے اور دنیا کے سامنے ایک نئی تہذیب پیش کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لہٰذا اگر ہم امامؒ سے پوچھیں کہ موجودہ حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے تو ان کا جواب بالکل واضح ہے اور ہم اسے ان کی تحریروں میں تلاش کرسکتے ہیں۔ امامؒ نے ان تمام افکار کو اپنی کتاب ’’شرحِ جنودِ عقل و جہل‘‘ میں پیش کیا ہے۔ امامؒ کا کہنا ہے کہ انسان کو عقل کے ساتھ حرکت کرنی چاہیے؛ یعنی عقلانیت کو معاشرے میں جاری و ساری ہونا چاہیے۔
انجمنِ علمیِ عرفانِ اسلامی کی صدر نے تأکید کرتے ہوئے کہا: عقل اور جہل کے درمیان کشمکش دراصل ’’انسان بالقوۃ‘‘ سے ’’انسان بالفعل‘‘ بننے کی جدوجہد ہے۔ یہ انسان کے وجود میں ایک مقدس کشمکش ہے؛ اس مرحلے میں عقل حاکم بنتی ہے، جہالت زائل ہوتی ہے اور انسان کے وجود میں عقلانیت غالب آجاتی ہے۔ اس کے ثمرات کیا ہیں؟ اور ہم کس طرح جان سکتے ہیں کہ ہمارے وجود پر عقل حاکم ہے یا جہل؟
یہاں امامؒ ہمارے سامنے ایک خوبصورت معیار پیش کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: اگر تمہارے وجود میں حسد اور تکبر موجود ہے اور تواضع و عفت نہیں ہے تو جان لو کہ جہل حاکم ہے۔ لیکن اگر تواضع، عفت، حلم، تسلیم اور صداقت جیسی انسانی صفات تمہارے وجود پر حاکم ہیں تو عقل حاکم ہے۔ اگر خود غرضی اور ذات پرستی حاکم ہے تو جان لو کہ جہل نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: جہل کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان بارگاہِ ربوبیت سے رابطہ قائم نہیں کرسکتا اور حق کو نہیں دیکھ سکتا۔ جہل تاریکی ہے اور انسان اس کے ذریعے نورانی فضا کو دیکھ یا اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر عقل حاکم ہو تو انسان کے پاس ایک ایسا وسیلہ موجود ہوتا ہے جو اسے بارگاہِ ربوبیت کے قریب لے جاتا ہے۔ وہاں اس کی انسانیت بالفعل ہوجاتی ہے اور نشوونما پاتی ہے۔
اسی لیے اگر ہم امامؒ سے پوچھیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے تو ان کا جواب ہے: عقل کی مدد سے شیطانی صفات اور جہل کی صفات پر غلبہ حاصل کرو اور اپنے وجود میں ان کے شعلوں کو بجھا دو۔ اگر انسان اپنے وجود میں یہ جنگ لڑنے میں کامیاب ہوجائے، یعنی اس کشمکش میں داخل ہوجائے جسے میں اس لیے مقدس جنگ سمجھتی ہوں کہ یہ کمال کی طرف لے جاتی ہے، تو اس کے بعد وہ مطمئن ہوسکتا ہے کہ وہ بیرونی دنیا میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے کہا: جب انسان کا باطن کینہ، نفرت اور اضطراب سے بھرا ہوا ہو اور اس میں اعتدال موجود نہ ہو تو وہ معاشرے کو معتدل کیسے بنانا چاہتا ہے؟ وہ معاشرے کو امن کی دعوت کیسے دے سکتا ہے؟ اور وہ معاشرے پر اثرانداز کیسے ہوسکتا ہے؟ لہٰذا میرے اس سوال کے جواب میں امامؒ کی فکر سے جو نتیجہ میں اخذ کرتی ہوں وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے اندر اور اپنی مملکتِ وجود میں عقلانیت کو حاکم بناؤ اور اس جہل کو دور کرو جو تاریکی ہے۔ جب تم اس پر قابو پالے تو خود بخود معاشرے پر اثرانداز ہونے اور اسے کمال کی طرف لے جانے کے قابل ہوجاؤ گے۔
انہوں نے تأکید کی: عقل کا مقام بہت اہم ہے اور امام خمینیؒ بھی اس بات کی سفارش کرتے ہیں کہ عقل کو اپنے وجود پر حاکم بناؤ۔ لیکن اگر ہم اپنے وجود میں اس لامحدود حقیقت کو دیکھنا اور محسوس کرنا چاہیں تو عقل محدود اور متعین ہے اور وہ غیر متعین حقیقت کا ادراک نہیں کرسکتی۔ یہیں سے عرفان کا پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں تک ہم فلسفے اور عقل کے ساتھ سفر کرتے ہیں، لیکن اس مقام کے بعد ہمیں ایک ماورائی اور لامحدود قوت کی ضرورت ہوتی ہے جو عقل کی مدد کرے۔ یہاں عقل کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ اور حاکم قوت محبت ہے۔
انجمنِ علمیِ عرفانِ اسلامی کی صدر نے مزید کہا: عقل کو ہماری رہنمائی کرنی چاہیے، لیکن جب ہم انسان بن جائیں اور اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم کرکے اس سے گفتگو کرنے کے قابل ہوجائیں تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب عقل بھی قربان ہوچکی ہو۔ اس مقام پر ’’میں‘‘ کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی اور انسان کہتا ہے: ’’میں کچھ بھی نہیں ہوں۔‘‘ امام خمینیؒ بارہا فرماتے ہیں: ’’میں کچھ نہیں ہوں‘‘ یا ’’ہم کچھ نہیں ہیں۔‘‘
انسان اس مقام تک کب پہنچتا ہے جہاں وہ ’’کچھ نہیں‘‘ ہوجاتا ہے؟ اس وقت جب محبت اس کے وجود پر غالب آجاتی ہے۔ تب انسان اپنے سفر کی بلند ترین منزل کو طے کرتا ہے۔ عرفان کی بنیاد محبت ہے اور اس کا سفر بھی محبت کے ذریعے طے ہوتا ہے۔
امام خمینیؒ نے اپنی کتاب ’’چہل حدیث‘‘ میں اسی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس مقام کے بعد انسان کا سفر ’’سفرِ عشقی‘‘ بن جاتا ہے؛ جبکہ اس مقام تک سفر عقلی تھا اور اسے ایسا ہی ہونا بھی چاہیے تھا۔
انہوں نے مزید کہا: حقیقی محبت وہ محبت ہے جو عقل سے آگے نکل چکی ہو۔ عاقل عاشق بن جاتا ہے؛ عقل اپنے کمال کو پہنچتی ہے اور محبت ظاہر ہوتی ہے۔
اس بنا پر ہمارے پاس ایک ایسی محبت بھی ہے جو ’’دونِ عقل‘‘ یعنی عقل سے پایین ہے اور عرفانی محبت نہیں ہے، جبکہ ایک محبت ’’فوقِ عقل‘‘ یعنی عقل سے بالاتر ہے، اور یہی وہ محبت ہے جو عرفان میں پیش کی جاتی ہے۔ جو شخص اس راستے پر گامزن ہوتا ہے، وہ دنیا کو ’’کچھ نہیں‘‘ دیکھتا ہے اور صرف ایک وجود، یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود کو دیکھتا ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ طباطبائی نے کہا: امام خمینیؒ فرماتے ہیں: ’’امریکہ کچھ نہیں کرسکتا‘‘؛ کیونکہ وہ مطلق قدرت کو دیکھتے تھے۔ کیا امامؒ امریکہ کی طاقت سے واقف نہیں تھے؟! امامؒ فرماتے تھے کہ مطلق قدرت اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، تو پھر ان لوگوں کی کیا حیثیت ہے؟! اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عرفان محبت سے شروع ہوتا ہے؛ کیونکہ انسان تعینات اور ظاہری حدود سے آگے بڑھ سکتا ہے اور اس مقام پر اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کو محسوس کرتا ہے۔ جس شخص کا محبوب سفر کے آغاز ہی سے اس کا ہم سفر ہو، اس کا سفر دشوار نہیں رہتا۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے معاملات دشوار نہیں رہتے۔ اس کی بلند ترین مثال حضرت زینبؑ کے اس فرمان میں ہے: ’’میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی مشقت کی ایک دوسری کیفیت بھی ہوتی ہے اور وہ لذت کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: بعض بزرگ شخصیات امامؒ کے طرزِ عمل کی تشریح کرتے ہوئے کہتی تھیں کہ امامؒ اس مرحلے میں پہنچ چکے تھے جہاں ’’کُن فیکون‘‘ کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ کیفیت ہر انسان کے لیے ممکن ہے؛ ممکن ہے میرے لیے کوئی معاملہ معمولی ہو اور کسی دوسرے شخص کے لیے بہت بڑا۔ ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ ہم کمال تک نہیں پہنچ سکتے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں جب ہم اپنے اندر سے کسی شیطانی صفت یا جہل کی کسی صفت کو دور کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ ہمارے وجود میں نور کا ایک نقطہ بن جاتا ہے، جس کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کو محسوس کرسکتے ہیں۔ اگر ہمارے وجود میں عقل کی صفات، جو نور ہیں، موجود ہوں تو انہی کے ذریعے ہم نورالانوار سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔
اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں انجمنِ علمیِ عرفانِ اسلامی کی صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امام خمینیؒ نے ۱۳ سال عراق میں گزارے اور عراقی عوام کے مہمان رہے۔ انہوں نے کہا: تہران میں ہمارا ایک ثقافتی ادارہ ہے اور ہم وہاں بھی مشترکہ سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔ جب ہم وہاں تھے تو ہمارے اردگرد زیادہ تر ایرانی ہی تھے، لیکن ہمارا عراقی عوام کے ساتھ قریبی رابطہ تھا۔ عراقی عوام بہت محبت کرنے والے تھے اور امامؒ سے بے حد محبت کرتے تھے، جس کے نتیجے میں ہمارے درمیان ایک خوبصورت جذباتی اور قلبی تعلق قائم ہوا۔