امام حسن عسکریؑ کی ولادتِ باسعادت

امام حسن عسکریؑ کی ولادتِ باسعادت

امام حسن عسکریؑ اہلِ بیتِ اطہارؑ کے گیارہویں امام اور رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے جلیل القدر خاندان کے چشم و چراغ تھے

تحریر: علی رضا شریفی

 

امام حسن عسکریؑ اہلِ بیتِ اطہارؑ کے گیارہویں امام اور رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے جلیل القدر خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپؑ کی پوری زندگی علم، تقوا، عبادت، صبر، شجاعت اور حق کی پاسداری سے عبارت تھی۔ آپؑ کی ولادت باسعادت اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے، کیونکہ آپؑ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے فرزند حضرت امام مہدیؑ ہیں، جن کے ظہورِ مبارک کا عقیدہ شیعہ اسلامی تعلیمات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

 

امام حسن عسکریؑ کی ولادت کے سال کے بارے میں تاریخی منابع میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم مشہور قول کے مطابق آپؑ کی ولادت ۸ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ کے والد بزرگوار دسویں امام، حضرت امام علی نقیؑ، اور والدۂ ماجدہ حضرت سلیلؑ تھیں۔ آپؑ کا معروف لقب ’’عسکری‘‘ ہے۔ یہ لقب سامرہ کے عسکری علاقے سے نسبت کی وجہ سے مشہور ہوا، جہاں عباسی حکومت نے آپؑ اور آپؑ کے والد امام ہادیؑ کو اپنے زیرِ نگرانی رکھا تھا۔

 

امام حسن عسکریؑ نے ایسے دور میں زندگی بسر کی جب عباسی حکمران اہلِ بیتؑ کی علمی، روحانی اور اجتماعی مقبولیت سے شدید خوفزدہ تھے۔ حکومت کی جانب سے آپؑ پر مسلسل نگرانی رکھی جاتی تھی اور آپؑ کے روابط کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس کے باوجود امامؑ نے اپنے علم و معرفت، اخلاق و کردار اور دینی رہنمائی کے ذریعے لوگوں کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔

 

آپؑ کا علمی مقام نہایت بلند تھا۔ مختلف علاقوں سے آنے والے شیعہ آپؑ سے دینی مسائل دریافت کرتے اور آپؑ کی رہنمائی سے استفادہ کرتے تھے۔ آپؑ نے اپنے پیروکاروں کو توحید، نبوت، امامت، عبادت، اخلاق اور اسلامی معاشرت کے اصولوں کی تعلیم دی۔ آپؑ کی احادیث اور ارشادات آج بھی اسلامی علوم میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

 

امام حسن عسکریؑ کی زندگی کا ایک اہم پہلو صبر و استقامت ہے۔ عباسی حکومت کی سختیوں، مسلسل نگرانی اور قید و بند کے باوجود آپؑ نے کبھی حق کی دعوت اور دینی ذمہ داریوں سے دست برداری اختیار نہیں کی۔ آپؑ نے اپنے پیروکاروں کو بھی صبر، تقوا، اخلاص، امانت داری اور حسنِ اخلاق کی تلقین فرمائی۔

 

امام حسن عسکریؑ کی ولادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی قیادت صرف اقتدار اور ظاہری قوت کا نام نہیں، بلکہ علم، تقوا، اخلاق اور حق کی حفاظت بھی قیادت کا بنیادی حصہ ہے۔ آپؑ نے محدود اور دشوار حالات میں بھی اپنے کردار اور تعلیمات کے ذریعے ایک ایسی روحانی و فکری میراث چھوڑی جو آج تک باقی ہے۔

 

آپؑ کی ولادتِ باسعادت اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے لیے خوشی اور تجدیدِ عہد کا موقع ہے۔ اس مبارک دن پر امام حسن عسکریؑ کی سیرت کو یاد کرنا دراصل علم، عبادت، صبر، اخلاق اور ولایت کے راستے پر چلنے کا عہد کرنا ہے۔ آپؑ کی پاکیزہ زندگی آج بھی انسانیت کو یہ درس دیتی ہے کہ مشکلات خواہ کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، حق، ایمان اور اخلاق کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔

ای میل کریں