زندگی، مقام و مرتبہ اور حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کی زیارت کے فضائل

زندگی، مقام و مرتبہ اور حضرت عبدالعظیم حسنی (ع) کی زیارت کے فضائل

حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) اہلِ بیتِ اطہارؑ کے جلیل القدر فرزند، بزرگ عالم، عابد، محدث اور امامانِ اہلِ بیتؑ کے سچے پیروکار تھے

تحریر: علی رضا شریفی

 

حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) اہلِ بیتِ اطہارؑ کے جلیل القدر فرزند، بزرگ عالم، عابد، محدث اور امامانِ اہلِ بیتؑ کے سچے پیروکار تھے۔ آپ(ع)  کا نسب چند واسطوں سے امام حسن مجتبیٰؑ تک پہنچتا ہے، اسی نسبت سے آپ کو ’’حسنی‘‘ کہا جاتا ہے۔ آپ(ع)  کی علمی و روحانی شخصیت نے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا اور آج بھی آپ کا روضۂ مبارک شہرِ ری میں عقیدت مندوں اور زائرین کا اہم مرکز ہے۔

 

حضرت عبدالعظیم(ع)  ایسے دور میں زندگی بسر کر رہے تھے جب عباسی حکمران اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں اور علما پر سخت دباؤ رکھتے تھے۔ آپ(ع)  نے علمِ دین حاصل کیا اور اسے آگے منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ(ع)  نے امام موسیٰ کاظمؑ، امام علی رضاؑ اور امام محمد تقیؑ کے عہد کو پایا اور امام علی نقیؑ سے بھی خصوصی تعلق اور علمی استفادہ حاصل کیا۔ روایات میں آپ(ع)  کی دینداری، تقویٰ اور ولایتِ اہلِ بیتؑ سے گہری وابستگی کا ذکر ملتا ہے۔

 

حضرت عبدالعظیم(ع)  کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ صرف نسبی طور پر اہلِ بیتؑ سے وابستہ نہ تھے، بلکہ عقیدہ اور عمل دونوں اعتبار سے ان کے وفادار پیروکار تھے۔ منقول ہے کہ حضرت عبدالعظیم(ع)  نے اپنے اعتقادات امام علی نقیؑ کے سامنے پیش کیے اور اپنے ایمان و عقیدے کی تفصیل بیان کی۔ امامؑ نے ان کے عقائد کی تائید فرمائی۔ یہ واقعہ حضرت عبدالعظیم(ع)  کے علمی مقام اور دینی بصیرت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

 

حضرت عبدالعظیم(ع)  نے حالات کے دباؤ اور حکومتی نگرانی کے باعث مدینہ سے ایران کی طرف ہجرت کی اور بالآخر شہرِ ری میں سکونت اختیار کی۔ آپ(ع)  نے اس شہر میں لوگوں کے درمیان دینی معارف اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کو فروغ دیا۔ کچھ عرصے بعد آپ(ع)  کا انتقال ہوا اور آپ(ع)  کو ری میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ آپ(ع)  کا مزار ایک عظیم روحانی اور مذہبی مرکز بن گیا۔

 

حضرت عبدالعظیم(ع)  کی زیارت کے بارے میں روایات میں خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اہلِ بیتؑ کے مزارات کی زیارت کے عمومی فضائل کے حوالے سے متعدد روایات منقول ہیں، جن میں زیارت کو محبت، معرفت اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی کا اظہار قرار دیا گیا ہے۔ ’’کامل الزیارات‘‘ جیسے روایتی ماخذ میں ائمہؑ کی زیارت کے فضائل اور زائرین کے لیے اخروی اجر کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

 

حضرت عبدالعظیم(ع)  کی زیارت کی اہمیت کو صرف ایک تاریخی شخصیت کی قبر پر حاضری تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے؛ بلکہ یہ حاضری اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے تجدیدِ عہد، دینی معرفت کے حصول اور روحانی پاکیزگی کی علامت بھی ہے۔ زائر جب اس مقدس بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو سلام و زیارت کے ذریعے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتا اور اپنے دل کو اخلاق، تقوا، بندگی اور ولایت کی تعلیمات سے وابستہ کرتا ہے۔ شیخ صدوق (رح) نے اپنی کتاب "ثواب الأعمال" میں اس طرح لکھتے ہیں:

حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمْزَهُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَلَوِیُّ ره قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَى الْعَطَّارُ عَمَّنْ دَخَلَ عَلَى أَبِی الْحَسَنِ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْهَادِی مِنْ أَهْلِ الرَّیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِی الْحَسَنِ الْعَسْکَرِیِّ علیه السلام فَقَالَ أَیْنَ کُنْتَ قُلْتُ زُرْتُ الْحُسَیْنَ علیه السلام قَالَ أَمَا إِنَّکَ لَوْ زُرْتَ قَبْرَ عَبْدِ الْعَظِیمِ عِنْدَکُمْ لَکُنْتَ کَمَنْ زَارَ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ علیه‌السلام؛

 ری کے ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ میں امام ہادی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’تم کہاں تھے؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے گیا تھا۔‘‘  امام علیہ السلام نے فرمایا: ’’آگاہ رہو! اگر تم اپنے شہر میں موجود عبدالعظیم کی قبر کی زیارت کرتے تو یہ ایسے ہی ہوتا جیسے تم نے حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کی ہو۔‘‘


 آج روضۂ حضرت عبدالعظیم حسنی(ع)  شہرِ ری کی مذہبی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے اور مختلف علاقوں سے آنے والے زائرین یہاں حاضر ہوکر عبادت، دعا اور زیارت بجا لاتے ہیں۔ حضرت عبدالعظیم(ع)  کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی عظمت صرف نسب سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ علم، تقوا، معرفت، وفاداری اور حق کی پیروی سے انسان بلند مقام حاصل کرتا ہے۔ اسی لیے حضرت عبدالعظیم حسنی(ع)  کی شخصیت آج بھی اہلِ ایمان کے لیے علم، تقوا اور ولایت کا روشن نمونہ ہے۔

ای میل کریں