حسین (علیہ السلام) اور حسینیت

حسین (علیہ السلام) اور حسینیت

تاریخ میں کون سی ایسی شخصیت ہے کہ جس کی نہ صرف یاد منائی جاتی ہے بلکہ اس کے طرز زندگی کو اپنانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے؟

تحریر: سید طالب حیدر (قم المقدسہ)

 

تاریخ میں کون سی ایسی شخصیت ہے کہ جس کی نہ صرف یاد منائی جاتی ہے بلکہ اس کے طرز زندگی کو اپنانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے؟ اس بات میں شک نہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرح اور کسی نے زمان اور مکان کی حدود کو عبور کرکے دنیا کے تمام پاکیزہ فطرت انسانوں کو متاثر نہیں کیا اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو اپنی زندگیوں کے لئےایک جاوداں نمونہ عمل بنایا۔

 

عاشورا ایک ایسا مکتب ہے جو انسان کو سکھاتا ہے کہ کیسے سوچا جائے؟، کیسے انتخاب کیا جائے؟، کیسے ظلم کے سامنے ڈٹا جائے؟، کیسے حق کا دفاع کیا جائے؟ اور یہاں تک کہ کیسے اپنی جان کو الہی اہداف کی راہ میں قربان کیا جائے؟۔ اسی لیے تاریخ اسلام میں خصوصا صدیوں سے جہاں کہیں بھی مزاحمت، ایثار اور عزت کا ذکر ہوا، وہاں حسین بن علیؑ کا نام موجود رہا۔

 

حضرت سیدالشہداء علیہ السلام نے اپنی عزت مندانہ زندگی، اپنی جدوجہد اور آخرکار اپنی شہادت کے ذریعے ہر اُس شخص کے لیے ایک ایسی روشن راہ بنائی کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی الہی رنگ سے آراستہ ہو۔ اس زاویۂ نظر سے "حسینی ہونا" بھی ایک طرزِ زندگی ہے جہاں انسان کی فکر، عمل، جدوجہد، صبر، مزاحمت اور یہاں تک کہ شہادت کو اس عاشورائی مکتب کے دائرے میں معنی ملتا ہے۔

 

ہمارے شہید رہبر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اس مکتب کی پیروی کے روشن ترین نمونوں میں سے ہیں۔ ان کی سیاسی اور اجتماعی زندگی، شہنشاہی پہلوی نظام کے خلاف جدوجہد کے ابتدائی سالوں سے لے کر اسلامی انقلاب کی رہبری کے طویل سالوں تک، ہمیشہ استقامت، ذمہ داری پر عمل، مزاحمت، عوام پر اعتماد اور امت اسلامی کی عزت کے دفاع سے جُڑی رہی اور یہ وہی مفاہیم ہیں کہ جو عاشورا کی تحریک کی بنیاد ہیں۔

 

اسی لیے رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں، شہید رہبر کی تشییع اور تدفین کے موقع پر، ان کی توصیف ایک ایسے جملے سے شروع کی جو حقیقت میں ان کی ساری زندگی کی مجاہدت کا خلاصہ ہے: "وہ حسینی تھے، حسینی سوچتے تھے، حسینی حرکت کرتے تھے، حسینی جہاد و مقاومت کرتے تھے، حسینی جیتے تھے اور اپنا خون حسینؑ کے مکتب کی راہ میں نچھاور کرکے شہید ہوگئے۔"

 

رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے درحقیقت شہید رہبر کے مکتب کی وضاحت کی ہے جہاں "حسینی ہونا" یعنی انسان کی فکر عاشورائی ہوجائے، اس کا ہر عمل ذمہ دارانہ ہو، اس کی ظلم کے خلاف مزاحمت رکنے نہ پائے اور اگر جان کو قربان کرنے تک آجائے تو اس سے پیچھے نہیں ہٹے۔

 

یہ ہے "حسینی مکتب" کہ جس کی بہترین مثال شہید رہبر کی زندگی سے ہمیں مل سکتی ہے۔ یہ وہ مکتب ہے کہ جو صرف انسانوں کی زندگیوں کو تبدیل نہیں کرتا ہے بلکہ معاشرہ بھی تعمیر کرتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان کے خون کی برکت سے معاشروں میں حرکت آئی اور امت اسلامی کے ضمیر کو جھنجوڑا۔

 

اسی لیے حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (رہبر معظم انقلاب اسلامی) اپنے پیغام کے تسلسل میں فرماتے ہیں: "حسینیوں میں وہ لوگ بھی ہیں کہ جب وہ حسینؑ کی راہ میں اور حسینؑ کے مکتب کے لیے اپنا خون مظلومانہ زمین پر بہاتے ہیں تو امت اسلام حرکت میں آجاتی ہے اور یوں وہ وقت عاشورا اور وہ جگہ کربلا سے متصل ہو جاتی ہے۔" یہ درحقیقت اُسی الٰہی سنت کی شرح ہے جو عاشورا میں تشکیل پائی؛ وہ سنت جس کے مطابق ہمارے شہید پیشوا کا خون کسی حرکت کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایک قوموں کی بیداری کا آغاز ہے۔

ای میل کریں