ایران پر حالیہ حملوں کے امریکی مقاصد

ایران پر حالیہ حملوں کے امریکی مقاصد

ان دنوں میڈیا میں ایرانی سرزمین پر حالیہ امریکی حملوں کے بارے میں طرح طرح کے ابہام اور شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں

تحریر: شھاب اسفند یار

 

ایرانی سرزمین پر حالیہ حملوں سے امریکہ کیا چاہتا ہے؟

ان دنوں میڈیا میں ایرانی سرزمین پر حالیہ امریکی حملوں کے بارے میں طرح طرح کے ابہام اور شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں۔ ملک کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کو پہنچنے والے نقصان اور وطن کے محافظوں کی شہادت پر بہت سے شہری ناراض بھی ہیں۔ فوجی جنگ کے ساتھ ساتھ دشمن کی نفسیاتی جنگ بھی عروج پر ہے اور واقعات کو مسخ کرکے اس کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں ماحول کو صاف کرنے اور دشمن کے خلاف اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لیے درج ذیل 10 نکات پر توجہ دینا ضروری ہے۔

 

1۔ امریکہ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا اور اسے شکست ہوئی۔ تمام ممتاز بین الاقوامی تجزیہ نگار اس حقیقت کو تسلیم کرچکے ہیں۔

2۔ ایران نے جنگ میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے سب سے اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی لیور حاصل کیا ہے۔

3۔ امریکہ 40 دنوں کی جنگ میں اور اپنی تمام تر فوجی طاقت کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکام رہا۔

4۔ مذاکرات کا مقصد جنگ کی کامیابیوں کو مستحکم کرنا، جارح کو سزا دینا اور جنگی نقصانات کا مطالبہ کرنا تھا۔

5۔ مذاکرات اور ایم او یو کی تشریح کے بہانے دشمن نے جنوبی راستے کو کھولنے اور ایرانی انتظامات کو منسوخ کرنے اور آبنائے ہرمز پر ایران  کے اختیار ختم  کرنے کی کوشش کی۔

 6۔ جنوبی راستے کا کھلنا صرف ایران کو جنگی نقصانات کے معاوضے کے طور پر آبنائے سے گزرنے سے نہیں روک رہا ہے۔ جنوبی راستے کے کھلنے کا مطلب مستقبل کے مذاکرات میں ایران کا سب سے اہم فائدہ اور پابندیوں اور دوبارہ حملوں کو روکنے میں ایران کا سب سے اہم فائدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر ایران کو اس کے اختیار سے محروم کرنے پر اتنا اصرار کرتا ہے۔

7۔ جنوبی راستے کے کھلنے کا مطلب یہ ہے کہ فوجی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزریں گے اور ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے فوجی فارمیشن لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیج فارس میں تمام امریکی فوجی اڈے دوبارہ تعمیر کیے جائیں گے اور انہیں دوبارہ ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ امریکی جنگجو جنوبی راستے کو کھولنے پر اصرار کرکے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کر رہے ہیں۔

 8۔ جو کوئی بھی ایرانی انتظامات کو لاگو کیے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنے کی حمایت کرتا ہے، اس نے اپنی مرضی یا ناخوشی سے امریکی جنگجوؤں کی راہ اختیار کی ہے۔

9۔ امریکہ، بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرکے یا کسی اور فوجی آپریشن کے ذریعے آبنائے ہرمز کو نہیں کھول سکتا۔ امریکہ کی واحد امید اندرونی فتنہ و فساد اور رمضان جنگ کی کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکام کی قوت ارادی کو کمزور کرنا ہے۔ امریکی کرائے کے فوجیوں اور وطن سے غداری کرنے والے عناصر کی جنوبی ایران پر حالیہ نفسیاتی اور پروپیگنڈہ کارروائیاں اسی سمت میں ہیں۔

 10۔ ایران کو اس کے اختیار سے محروم کرکے نیز آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات کو منسوخ کرکے امریکہ جنگ کی حقیقت کو مسخ کرکے اپنی شکست خوردہ حیثیت کو ایک فاتح کی تصویر میں بدلنا چاہتا ہے۔ اگر کچھ لوگ اس امریکی بیانیہ کے سامنے ہتھیار ڈال کر ایران کو جنگ میں شکست خوردہ فریق کے طور پر متعارف کراتے ہیں تو انہوں نے امریکہ کی مزید غنڈہ گردی اور زیادتیوں کے لیے زمین تیار کر لی ہے۔

ای میل کریں