اربعینِ حسینی دنیا کے عظیم ترین مذہبی اور روحانی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ کی یاد نہیں بلکہ حق، عدالت، آزادی، ایثار، اخوت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا دائمی پیغام ہے۔ ہر سال لاکھوں بلکہ کروڑوں عاشقانِ اہل بیتؑ کربلا کی جانب پیدل سفر کرتے ہیں تاکہ حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔ یہ اجتماع نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید، اتحاد اور اخلاقی بیداری کی علامت بن چکا ہے۔
امام خمینیؒ نے اربعین کو محض ایک مذہبی رسم کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے امتِ مسلمہ کی حیاتِ نو، اسلامی بیداری اور ظلم کے خلاف دائمی جدوجہد کا سرچشمہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک واقعۂ کربلا ایک ایسا زندہ مکتب ہے جو ہر دور کے انسان کو حق و باطل کی پہچان، عزتِ نفس، استقلال اور الٰہی ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔
امام خمینیؒ کا یہ مشہور فرمان کہ "یہ محرم اور صفر ہی ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ رکھا ہے" دراصل اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ عاشورا اور اربعین اسلامی معاشرے کی روحانی اور انقلابی حیات کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر اہل بیتؑ کی یاد، عزاداری اور اربعین کی روایت زندہ نہ رہتی تو ممکن تھا کہ کربلا کا پیغام صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود ہو جاتا، لیکن اہل ایمان نے ہر دور میں اس پیغام کو اپنے دلوں، معاشروں اور تحریکوں میں زندہ رکھا۔
امام خمینیؒ کے نزدیک اربعین ایک ایسی تربیتی درسگاہ ہے جہاں انسان ایثار، قربانی، صبر، تقویٰ اور اجتماعی ذمہ داری سیکھتا ہے۔ جب لاکھوں افراد مختلف زبانوں، قومیتوں، ثقافتوں اور ممالک سے ایک ہی مقصد کے تحت کربلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں تو وہ عملی طور پر اسلامی اخوت اور وحدت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس عظیم اجتماع میں رنگ، نسل، زبان، دولت اور مقام کی تمام تفریق ختم ہو جاتی ہے اور صرف بندگیِ خدا اور محبتِ امام حسینؑ باقی رہ جاتی ہے۔
اسلامی انقلابِ ایران کی کامیابی میں بھی امام حسینؑ کی تحریک اور ثقافتِ عاشورا کا بنیادی کردار رہا۔ امام خمینیؒ نے عوام کو ہمیشہ یہ یاد دلایا کہ ظلم کے سامنے خاموش رہنا حسینی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے شاہی استبداد کے خلاف عوامی تحریک کو عاشورا کے پیغام سے جوڑا اور فرمایا کہ مسلمان اگر امام حسینؑ کی سیرت پر عمل کریں تو کوئی ظالم طاقت انہیں غلام نہیں بنا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابِ اسلامی کے دوران محرم، صفر اور اربعین کے اجتماعات عوامی بیداری، اتحاد اور مزاحمت کا مؤثر ذریعہ بنے۔
اربعین کا پیدل سفر بھی امام خمینیؒ کی فکر کے مطابق ایک عظیم تربیتی عمل ہے۔ یہ سفر انسان کو صبر، نظم، خدمت، تعاون، عاجزی اور اخلاص کا سبق دیتا ہے۔ زائرین اپنے آرام، آسائش اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر صرف رضائے الٰہی اور محبتِ اہل بیتؑ کے جذبے کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ راستے میں عراقی عوام اور دیگر رضاکار جس محبت، سخاوت اور ایثار کے ساتھ زائرین کی خدمت کرتے ہیں، وہ اسلامی اخلاق اور اخوت کی بے مثال مثال ہے۔
امام خمینیؒ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اسی لیے وہ اربعین کو سماجی اصلاح، اخلاقی تربیت اور سیاسی شعور کے فروغ کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک امام حسینؑ کی تحریک کا اصل مقصد معاشرے میں عدل قائم کرنا، ظلم کا خاتمہ کرنا، انسان کی عزت کی حفاظت کرنا اور اسلامی اقدار کو زندہ رکھنا تھا۔ لہٰذا اربعین کا حقیقی پیغام بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انہی اصولوں کو نافذ کریں۔
امام خمینیؒ کی فکر میں اربعین عالمی اسلامی وحدت کی ایک روشن علامت بھی ہے۔ آج اربعین کے موقع پر مختلف ممالک، مسالک اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایک ہی پرچم کے نیچے جمع ہوتے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ محبتِ امام حسینؑ تمام مصنوعی سرحدوں سے بالاتر ہے۔ اربعین مسلمانوں کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے، جو آج کے دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔
عصرِ حاضر میں جب دنیا مختلف بحرانوں، جنگوں، ظلم، ناانصافی، اخلاقی انحطاط اور روحانی بے چینی کا شکار ہے، اربعین انسانیت کے لیے امید کا پیغام بن کر سامنے آتا ہے۔ امام خمینیؒ کے مطابق اگر انسان کربلا کے مکتب کو صحیح معنوں میں سمجھ لے تو وہ ظلم، استعمار، استکبار اور اخلاقی گمراہی کے خلاف مضبوط کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو امام حسینؑ کی سیرت سے آشنا ہونے اور اس سے اپنی زندگی کی رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین کی۔
اربعین صرف سوگ اور ماتم کا نام نہیں بلکہ تجدیدِ عہد، اصلاحِ نفس اور عملی ذمہ داری کا نام ہے۔ ہر زائر دراصل اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں حق کا ساتھ دے گا، ظلم سے نفرت کرے گا، مظلوموں کی حمایت کرے گا اور اسلامی اخلاق کو فروغ دے گا۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہیں امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب کی بنیاد بنایا اور پوری زندگی ان پر عمل کیا۔
امام خمینیؒ کی سیاسی اور دینی فکر میں کربلا ایک زندہ حقیقت ہے، نہ کہ صرف ایک تاریخی واقعہ۔ ان کے نزدیک ہر دور میں یزیدی قوتیں موجود ہوتی ہیں اور ہر زمانے میں حسینی کردار ادا کرنے والے افراد کی ضرورت رہتی ہے۔ اربعین انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ حق کی راہ میں مشکلات، قربانیاں اور آزمائشیں لازمی ہیں، لیکن ان کا انجام ہمیشہ عزت، کامیابی اور رضائے الٰہی ہے۔
آج اربعین کا عالمی اجتماع اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ امام حسینؑ کی محبت وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور وسیع ہوئی ہے۔ کروڑوں انسانوں کا ایک ہی مقصد کے تحت کربلا کی جانب سفر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کربلا کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا رہے گا۔ امام خمینیؒ اسی بیداری کو امتِ مسلمہ کی حقیقی طاقت قرار دیتے تھے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اربعینِ حسینی صرف ایک مذہبی مناسبت نہیں بلکہ ایک مکمل فکری، اخلاقی، روحانی اور سماجی تحریک ہے۔ امام خمینیؒ نے اپنی تعلیمات، تقاریر اور عملی جدوجہد کے ذریعے اس حقیقت کو واضح کیا کہ عاشورا اور اربعین انسان کو ظلم کے مقابلے میں استقامت، دین کی حفاظت، اسلامی وحدت، خدمتِ خلق اور الٰہی ذمہ داری کا شعور عطا کرتے ہیں۔ اگر مسلمان اربعین کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں تو وہ نہ صرف اپنی اخلاقی اور روحانی اصلاح کر سکتے ہیں بلکہ ایک عادل، متحد اور باوقار اسلامی معاشرہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہی اربعین کا دائمی پیغام ہے اور یہی امام خمینیؒ کی فکر کا بنیادی نکتہ بھی ہے کہ کربلا صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی تعمیر کا زندہ سرچشمہ ہے۔