تحریر: تصور حسین شہزاد
امریکہ اور ایران نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے کرنے اور سخت بیانات دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے کسی فوری معاہدے کی امید اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایران اور اس کیساتھ تجارت کرنے والے ممالک کیخلاف نئی اور وسیع اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد فوری معاہدے نہ ہونے سے متعلق شکوک بڑھتے جا رہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملے رکوانا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں ہونیوالی اپنی پریس کانفرنس کے دوران ایران کے ساتھ جاری تنازع کی نوعیت سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جواب دیئے، تاہم ان کے بیانات نے ابہام دور کرنے کے بجائے امریکی میڈیا میں مختلف اور بعض اوقات متضاد، ردِعمل کو جنم دیا۔
خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جو اپنے خاندانوں سے دور ایک ایسے تنازعے کا حصہ ہیں، جس کے نتائج بالکل غیر یقینی ہیں۔ ان فوجیوں کے اہلخانہ پریشان ہیں اور جب تابوت واپس امریکہ پہنچتے ہیں تو میڈیا سے بلیک آوٹ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے رات کے اندھیرے میں تابوت ورثاء کے حوالے کئے جاتے ہیں، تاکہ امریکی عوام کا مورال ڈاون نہ ہو، اس کے باوجود فوجیوں کے اہلخانہ میں شدید اضطراب بہرحال موجود ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ موجودہ صورتحال کو جنگ قرار نہیں دیں گے، کیونکہ ان کے بقول وہاں کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی۔ جے ڈی وینس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ انتظامیہ کے مؤقف کو زیادہ وضاحت سے پیش کریں گے۔ تاہم انہوں نے نہ تو یہ واضح کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کب متوقع ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ تنازع کس طرح اور کن شرائط پر اختتام پذیر ہوسکتا ہے۔ ان کے بیانات نہ صرف انتظامیہ کے دیرینہ ناقدین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے، بلکہ ایسا بھی دکھائی دیا کہ وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقوں میں اس بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کے حوالے سے اختلافِ رائے موجود ہے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے دنیا کی اہم سمندری گزرگاہوں میں شامل آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ جون میں دونوں فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ اس کا مقصد 60 دن کے اندر مستقل جنگ بندی اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم یہ مدت بھی ختم ہوگئی۔ جنگ اب ساتویں مہینے میں داخل ہوچکی ہے اور ٹرمپ کے سارے اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں، جو چند ہفتوں میں ایران کو فتح کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ دیکھا جائے تو امریکی حکمتِ عملی اب بھی واضح نہیں۔ امریکہ کو فوجی کارروائیوں کے جلد نتائج کی اُمید تھی، تاہم ایسا نہیں ہوا اور امریکہ کو شدید ناکامی کا سامنا کڑنا پڑا ہے۔ اب واشنگٹن فوجی کارروائیوں اور اقتصادی پابندیوں، دونوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی حکومت فی الحال موجودہ پالیسی جاری رکھنے پر مطمئن دکھائی دیتی ہے اور اسے امید ہے کہ نئی پابندیاں ایران کو کمزور پوزیشن سے مذاکرات پر آمادہ کریں گی۔
تاہم ایران کسی بھی سمجھوتے کے بدلے بھاری قیمت طلب کرے گا، جسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قبول کرنا سیاسی طور پر مشکل ہوسکتا ہے۔ حالیہ حملوں سے ایران کی پالیسی میں فوری تبدیلی کا امکان نہیں۔ تہران معیشت پر بڑھتے دباؤ اور وقفے وقفے سے ہونیوالے حملوں کے لیے پہلے ہی تیار دکھائی دیتا ہے اور غالباً ان کا محدود جواب دیتا رہے گا، تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ نئی پابندیاں ایرانی معیشت کو مزید نقصان پہنچائیں گی، مگر فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ معاشی دباؤ ایران کو اپنے مؤقف یا مذاکرات سے متعلق حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور کر دے گا۔ ایران تنازع سے نکلنے کا راستہ ضرور تلاش کر رہا ہے، تاہم وہ امریکی دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے کسی رعایت یا سابقہ مفاہمتی فریم ورک کی بحالی کا منتظر ہے۔ حالیہ فوجی کارروائیاں اور اقتصادی پابندیاں ایران کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرسکیں گی۔ کیونکہ چین، روس اور دیگر کئی ممالک امریکی پابندیوں کی مکمل حمایت نہیں کرتے اور ایران کیساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر اثرات پڑ رہے ہیں۔ اس بحران سے نکلنے کا بہترین راستہ جون میں طے پانے والے جنگ بندی فریم ورک اور مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔ ایک معاہدہ نہ صرف امریکہ کے لیے سفارتی کامیابی ہوگا، بلکہ اس سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات بھی کم ہوسکتے ہیں۔ طویل مدت میں پابندیوں میں نرمی اور ایران کے عالمی معیشت سے روابط بڑھنے سے ملک کے اندر بتدریج سیاسی اور معاشی تبدیلیاں آسکتی ہیں، تاہم اس کے لیے وقت اور صبر درکار ہوگا۔ فی الحال یہ تنازع ایک پیچیدہ تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے، جس کا نقصان تمام فریقوں کو ہو رہا ہے۔ تاہم اس کا جواب جون میں طے پانیوالی مفاہمتی یادداشت میں موجود ہے۔ اگر واشنگٹن دوبارہ اسی فریم ورک کے تحت مذاکرات شروع کرے تو معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔