حضرت امام خمینی (رح) نے اپنی فکری اور عملی زندگی میں امت مسلمہ کے اتحاد کو ہمیشہ ایک بنیادی اور ناقابلِ تغیر ہدف قرار دیا۔ آپ نے اس اتحاد کو نہ صرف ایک مذہبی اور اخلاقی ضرورت قرار دیا، بلکہ اسے مسلمانوں کی بقا، عزت اور استکبارِ عالم کے خلاف کامیابی کا واحد راستہ سمجھا۔ آپ کا نقطہٴ نظر اس قدر وسیع تھا کہ اس نے تمام فرقوں کو ایک چھت کے نیچے جمع ہونے کی دعوت دی، جس کی جھلک آپ کے ارشادات اور عملی اقدامات میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔
نظریاتی بنیاد: قرآن و سنت مرکزِ اتحاد
امام خمینی (رح) کے نزدیک وحدتِ اسلامی کا نقطہٴ آغاز قرآن کریم اور سنتِ نبوی ہے۔ آپ اس حوالے سے سورہٴ آل عمران کی آیت "وَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" (سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو) پر خصوصی زور دیتے تھے ۔ آپ کا ماننا تھا کہ تمام مسلمان، خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، اس ایک مشترکہ اور مقدس مرکز پر جمع ہو سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی کہ سرحدیں اور جغرافیائی فاصلے اگرچہ الگ ہیں، لیکن دلوں کو ایک ہونا چاہیے، ورنہ مسلمانوں کی بڑی آبادی اپنی طاقت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی ۔
عملی حکمت عملی: اختلافات کی نفی، مشترکات پر زور
امام (رح) نے وحدت کو صرف ایک خواب یا نظریہ نہیں رکھا، بلکہ اس کے لیے ایک واضح عملی حکمت عملی پیش کی۔
فرقہ واریت سے بالا تر: آپ نے مسلمانوں کے درمیان شیعہ اور سنی کے مصنوعی اختلافات کو دشمن کی سازش قرار دیا اور تمام فرقوں کو ایک ساتھ لا کر صف بندی کرنے پر زور دیا ۔ اسی سوچ کا عملی مظہر ہفتہٴ وحدت اور یوم القدس جیسی تحریکیں ہیں، جن کا مقصد مشترکہ دشمنوں (صہیونیت اور استکبار) کے خلاف یکجہتی کو فروغ دینا ہے ۔
مشترکہ دشمن کی شناخت: آپ نے مسلمانوں کو اپنے اندرونی اختلافات کو بھول کر اس دشمن کے خلاف متحد ہونے کا درس دیا، جس کا مقصد ان کے وسائل کو لوٹنا اور ان میں تفرقہ ڈالنا ہے ۔ آپ کا یہ پیغام تھا کہ تمام مسلمان، استعماری طاقتوں اور اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہو کر کھڑے ہوں ۔
علما اور دانشوروں کا کردار: امام (رح) نے وحدت کے فروغ میں علماء اور دانشوروں کو کلیدی حیثیت دی۔ انہوں نے درباری علماء اور اختلافات کو ہوا دینے والوں سے خبردار کیا اور ذمہ دار طبقے کو حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی ۔
اثرات اور اعتراف
امام خمینی (رح) کے افکارِ وحدت کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری دنیا بالخصوص برصغیر پاک و ہند میں گہرا اثر چھوڑا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کی وحدت کے تصور پر مشتمل کتاب "امام خمینی وحدت اسلامی کے نقیب" لاہور سے شائع ہو چکی ہے اور حال ہی میں راولپنڈی سے کتاب "وحدت اسلامی از نگاه امام خمینی" کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے، جس میں شیعہ و سنی اتحاد، قرآنی تعلیمات اور استکبار کی سازشوں سے نمٹنے جیسے موضوعات شامل ہیں ۔ مزید برآں، قم المقدسہ میں ایک علمی کانفرنس خاص طور پر اردو زبان میں منعقد کی گئی تاکہ امام (رح) کے وحدت کے افکار کو اردو دان طبقے تک پہنچایا جا سکے ۔
امام خمینی (رح) نے وحدتِ اسلامی کو ایک ایسا عقیدہ اور عملی پروگرام بنایا جو تمام فرقوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان قرآن و سنت کو اپنا محور بنا لیں اور اپنے اختلافات کو دشمنوں کی خوشی کا باعث نہ بننے دیں، تو نہ صرف وہ ایک عظیم طاقت بن جائیں گے، بلکہ ان کی اجتماعی اور روحانی ترقی کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا۔ آج بھی ان کا یہ پیغام اردو بولنے والے مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ایک روشن مینار ہے ۔