ولایت فقیہ کے ثمرات

ولایت فقیہ کے ثمرات

صدر اسلام کے ابتدائی چند سالوں کے بعد اس الہی اور قرآنی مقصد کی تکمیل کوسوں دور نظر آئی

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ (نحل/36)

(اور بیشک ہم ہر امت میں رسول بھیجا تاکہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے دوری اختیار کرو)

 

صدر اسلام کے ابتدائی چند سالوں کے بعد اس الہی اور قرآنی مقصد کی تکمیل کوسوں دور نظر آئی۔ لیکن انقلاب اسلامی کی برکتوں سے حق، عزت، صداقت اور عدل کی حکمرانی کا مقصد حاصل ہوتا نظر آرہا ہے اور اس کو ہر با بصیرت انسان دیکھ رہا ہے۔ کس طرح تین دنوں میں ایران کو مغلوب کرنے والا جہانی استکبار ذلیل و رسوا ہورہا ہے جس کی مثال موجودہ زمانے میں نہیں ملتی۔ رہبر شہید سید علی خامنہ ای رحمۃ اللہ علیہ نے 2012ء میں اس حقیقت کی طرف صراحت سے فرمایا تھا کہ انقلاب اسلامی قدرتمند ہے، طاقت اور توانائی کا وہ ذخیرہ جو انقلاب اسلامی میں موجود ہے، اس میں یہ صلاحیت ہے کہ راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹا دے اور اس شاندار اور بہترین اور اسلامی تمدن کو پوری دنیا کے سامنے کھڑا کردے۔ (14 اکتوبر 2012)

آج ایران اسلامی کی اس عزت اور مقام کو ساری دنیا کے پاکیزہ فطرت مسلمان، یہاں تک کہ حق پرست غیر مسلمان بھی احساس کررہے ہیں کہ جس کی طرف رہبر شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہادت سے کئی سال پہلے اشارہ بھی کیا تھا: جمہوری اسلامی ایران کا اقتدار قوموں کو بیدار کرتا ہے، ہم اس راہ کو جاری رکھیں گے، ہم نے اپنے اہداف کو پہچان لیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کہاں جانا ہے، (لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ)۔ یہ راہ وہ راہ ہے جو ہماری قوم کو خالص اور مکمل اسلام تک پہنچا سکتی ہے۔" (9 جنوری، 2011ء)۔ میرے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں، ہم ولایت فقیہ کے سایے میں حقیقی اسلام اور تمدن اسلامی کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں دنیا میں اسلام کا پرچم سرافراز ہوگا۔

رہبرِ معظم انقلاب حضرت آیت‌اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے اس چالیس روزہ جنگ کے بعد موجودہ حالات اور ماحول کو امام خمینی اور رہبر شہید (رحمۃ اللہ علیھما) کی کاوشوں کے حصول کے لیے ایک نیا موقع قرار دیا ہے اور انہوں نے پوری ملت خصوصاً نوجوانوں، دانشوروں اور اہلِ فکر اور ہنر کے لیے ایک اہم مأموریت متعین کی، "یہ اہم کردار (تمدن اسلامی کی تعمیر) پوری قوم خصوصاً نوجوانوں، دانشوروں اور اہلِ فکر اور ہنر کے ذمے ہے کہ اسی مکتب (مکتبِ خمینیِ عظیم و خامنه‌ایِ شہید) کی بنیاد پر، خدائی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے، ہمارے آقا امامِ زمانہ (عجّل‌ اللہ‌ تعالی‌ فرجہ‌ الشریف) کی توجہات کے سایے میں اور خالص اسلام یعنی دو سو پچاس سالہ دورِ حضورِ معصومین اور ولایتِ کبریٰ (صلوات‌ اللہ‌ و سلامہ‌ علیہم‌ اجمعین) میں متعین نورانی راہ پر شاندار مستقبل تعمیر کریں۔" (4 جون، 2026)۔ اپنے اہداف کو بلند کریں کہ اقبال نے جواب شکوہ کے آخری اشعار میں یہ فرمایا تھا:

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری

میرے درویش خلافت ہے جہانگیر تری

 

ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری

تو مسلماں ہے تو تقدیر ہے تدبیر تری

 

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

ای میل کریں