آیت اللہ شہید باقر الصدر (رہ) اسلامی دنیا کا اثاثہ بلکہ دنیائے عالم کے لئے ایک رہبر و رہنماء کا درجہ رکھتے تھے

آیت اللہ شہید باقر الصدر (رہ) اسلامی دنیا کا اثاثہ بلکہ دنیائے عالم کے لئے ایک رہبر و رہنماء کا درجہ رکھتے تھے

آپ کا تعلق نجف اشرف کے اس علمی خانوادے سے تھا جس میں ہر دور میں بلند پایہ علماء پیدا ہوتے رہے

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ممتاز اسلامی شخصیت آیت اللہ سید محمد باقر الصدر شہید اور ان کی ہمشیرہ سیدہ آمنہ بنت الہدی کی44 ویں برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسلامی دنیا کی جن ممتاز، جید اور علوم و فنون کی ماہر شخصیات کی بدولت نہ صرف عالم اسلام بلکہ دنیائے عالم جن کے نظریات اور تصورات سے بھرپور انداز میں استفادہ کرکے ترقی و کامرانی کے سفر پر گامزن ہے ان مشاہیر اسلام میں سے ایک معروف مفکر، باصلاحیت اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہمارے استاد بزرگوار، نامور اسلامک سکالر اور بین الاقوامی طور پر پہچانے جانے والے ماہر اقتصاد یات شہید محمد باقر الصدر کا نام ہے۔

 

آپ کا تعلق نجف اشرف کے اس علمی خانوادے سے تھا جس میں ہر دور میں بلند پایہ علماء پیدا ہوتے رہے۔ تالیف و تحقیق اور تدوین و تدریس کے شعبوں میں شہید کی مہارت اپنی مثال آپ تھی۔

 

علم اصول میں تحقیقی کاوش سے لے کر جدید علوم پر مبنی تالیفات تک شہید نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی متعدد تصنیفات ہر دور کے انسان کو علمی و فکری رہنمائی کا سامان فراہم کرتی ہیں۔

 

جدید علوم و فنون کا احاطہ کرنے والی ان تالیفات نے کیپٹل ازم مارکسیت اور اشتراکیت کے مقابلے میں اسلامی فلسفہ اور اسلامی نظام کی حاکمیت اور حقانیت کو نہایت ہی واضح اور ٹھوس انداز میں پیش کیا چنانچہ علمائے اسلام آپ کو چودہ صدیوں میں چوتھا مسلمان فلسفی گردانتے ہیں۔

 

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ منطق، فلسفہ اور معاشیات کے بعد نجف اشرف کی علمی درس گاہ حوزہ علمیہ کی ترتیب و تنظیم، قدیم علوم کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، سود کے مسئلہ پر امت مسلمہ کی رہنمائی جیسے ان کے اقدامات ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

 

شہید باقر الصدر جمود اور روایت پرستی کے مخالف، مذہب کو فعال طاقت اور مذہب سے شغف رکھنے والے کو فعال شخصیت قرار دیتے اور اکثر فرمایا کرتے کہ قوم کو عملی اسلام سے روشناس کراناعلمائے اسلام کی اولین ذمہ داری ہے چاہے اس راہ میں جس قدر بھی مشکلات و مصائب ہی کیوں نہ جھیلنی پڑیں۔

 

عالم اسلام کی ایسی بے مثال شخصیات ہمیشہ سامراجی قوتوں کی انکھ کا کانٹا رہیں چنانچہ اسی بدولت استعماری سازشوں کے نتیجے میں 1980ء میں سید محمد باقر الصدر کو ان کی ہمشیرہ محترمہ سیدہ آمنہ بنت الہدی کے ہمراہ شہید کر دیا گیا اور دنیا ہمیشہ کے لئے ایک ایسی شخصیت سے محروم ہو گئی جو نہ صرف اسلامی دنیا کا اثاثہ تھیں بلکہ دنیائے عالم کے لئے ایک رہبر و رہنماء کا درجہ رکھتی تھی۔

ای میل کریں