تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی
بعض واقعات وقت کے دھارے میں جنم لیتے ہیں اور پھر تاریخ کی کتابوں کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں، جو وقت کی حدود کو توڑ کر خود تاریخ کے معمار بن جاتے ہیں۔ کربلا ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ یہ محض 10 محرم 61 ہجری کو پیش آنے والا ایک سانحہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی دائمی آواز ہے، جو ہر عہد میں ظلم کو للکارتی اور انسان کو اس کی اخلاقی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔ اسی طرح اربعین بھی صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ عاشورا کے پیغام کی مسلسل تجدید، انسانی شعور کی بیداری اور حق و عدل کی عالمی تحریک کا زندہ مظہر ہے۔ اگر عاشورا نے حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل قائم کی تو اربعین نے اس حدِ فاصل کو نسل در نسل منتقل کرنے کا فریضہ انجام دیا۔
حضرت زینب کبریٰ (س) اور امام زین العابدین (ع) کے خطبات سے شروع ہونے والا یہ سفر آج کروڑوں انسانوں کو کربلا کی طرف گامزن کیے ہوئے ہے۔ یہ تمام خلق جہاں صرف ایک مزار کی طرف نہیں بڑھتی، بلکہ ایک نظریئے، ایک اخلاقی نظام اور ایک الہیٰ مقصد کی طرف محوِ سفر ہوتی ہے۔ عصرِ حاضر میں جب دنیا سیاسی انتشار، تہذیبی کشمکش، معاشی ناہمواری اور اخلاقی بحرانوں کے سنگم پر کھڑی ہے، اربعین کا اجتماع محض مذہبی عقیدت کا اظہار نہیں رہ جاتا بلکہ ایک ایسے عالمی اخلاقی منشور کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو انسان کو طاقت کے بجائے حق، مفاد کے بجائے انصاف اور نفرت کے بجائے خدمت کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین کو صرف مذہبیات کے دائرے میں محدود کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ ایک تہذیبی مظہر، ایک سماجی تحریک، ایک اخلاقی مکتب اور ایک فکری انقلاب بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے ایسی تیز رفتار تبدیلیاں دیکھی ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی سیاست، طاقت کے توازن اور تہذیبی تصورات کو نئی شکل دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین جنگ، غزہ کا انسانی المیہ، مغربی ایشیا میں نئی صف بندیاں اور مختلف معاشروں میں شناخت کے بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انسانیت صرف عسکری یا اقتصادی قوت سے مطمئن نہیں ہوسکتی۔ اسے ایک ایسے اخلاقی مرکز کی ضرورت ہے، جو طاقت کو انصاف کا پابند بنا سکے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں اربعین کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔
کربلا کا پیغام یہ ہے کہ طاقت اگر عدل سے محروم ہو جائے تو ظلم بن جاتی ہے اور خاموشی اگر حق کے مقابلے میں اختیار کی جائے تو وہ بھی ظلم کی ایک شکل ہے۔ اسی لیے اربعین صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر کا عنوان ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات قوموں کی روح ان کے اجتماعی اجتماعات میں نمایاں ہوتی ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای شہید کی شہادت کے بعد ایران اور عراق میں منعقد ہونے والے انسانوں کے عوامی اجتماعات نے بھی اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ اہلِ بیت سے وابستگی آج بھی کروڑوں انسانوں کے اجتماعی شعور کا محور ہے۔ ان اجتماعات کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا۔
بعض اہلِ فکر نے انہیں امت کی بیداری اور مزاحمتی فکر کی تجدید کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض مذہبی حلقوں نے انہیں آخری زمانے سے متعلق روایات کے تناظر میں بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ سوال یہ نہیں کہ اربعین میں کتنے انسان شریک سفر ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان قدموں کو چلانے والی قوت کیا ہے۔؟ وہ کون سا جذبہ ہے جو نسل، زبان، رنگ، قومیت اور جغرافیے کی تمام سرحدوں کو عبور کرکے انسانوں کو ایک ہی مرکز پر جمع کر دیتا ہے۔؟ اس سوال کا جواب کسی سیاسی فلسفے یا سماجی نظریئے میں مکمل طور پر نہیں ملتا بلکہ کربلا کے اس ابدی سبق میں ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والی اقلیت، باطل کی بڑی اکثریت سے زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔ یہی اربعین کی اصل معنویت ہے اور یہی اس دور کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔