شہید سید حسن نصراللہ کی برسی۔۔۔ کیا میں اپنے عہد پر قائم ہوں؟

شہید سید حسن نصراللہ کی برسی۔۔۔ کیا میں اپنے عہد پر قائم ہوں؟

شہید حسن نصراللہ کی اہمیت محض ایک عہدے دار کی سی نہیں تھی۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک حزب اللہ کی سیاسی شناخت، عسکری بیانیے، علاقائی تعلقات اور عوامی ابلاغ کا حقیقی و مرکزی چہرہ بنے رہے

تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

 

بلاشبہ شہید حسن نصراللہ کا خلا کبھی پُر نہیں ہوسکتا۔ شواہد بتاتے ہیں کہ اُن کے بعد حزب اللہ کو قیادت، عسکری صلاحیت، رسد، سیاسی اثر اور شام کے ذریعے سپلائی لائن کے حوالے سے شدید نقصانات اٹھانا پڑے۔ ان کے بعد ہاشم صفی الدین کی شہادت، اعلیٰ قیادت کو پہنچنے والے نقصانات، بڑی تعداد میں جنگجوؤں کی شہادتیں، عسکری ڈھانچے کی تباہی اور شام میں بشار الاسد کے زوال سے ایران تک رسد کے ایک اہم راستے کا خاتمہ ہوا۔  شہید حسن نصراللہ سے پہلے ہی فؤاد شکر، ابراہیم عقیل اور متعدد اعلیٰ کمانڈروں کو نشانہ بنایا جا چکا تھا، شہید حسن نصراللہ کے بعد ہاشم صفی الدین بھی مارے گئے۔ اس طرح شہید حسن نصراللہ کی شہادت کی قدرومنزلت اور بھی بڑھ گئی، چونکہ اب مسئلہ صرف ایک سربراہ کے خاتمے کا نہیں تھا بلکہ تجربہ کار قیادت کی ایک پوری نسل کے بیک وقت خاتمے کا تھا۔

 

شہید حسن نصراللہ کی اہمیت محض ایک عہدے دار کی سی نہیں تھی۔ وہ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک حزب اللہ کی سیاسی شناخت، عسکری بیانیے، علاقائی تعلقات اور عوامی ابلاغ کا حقیقی و مرکزی چہرہ بنے رہے۔ اسی لیے ان کی شہادت کو محض "ایک کمانڈر کی موت" سمجھنا غلط ہوگا۔ ابتدائی تجزیوں میں بعض ماہرین نے ان کی شہادت کو حزب اللہ کے لیے ایک غیر معمولی نقصان بھی قرار دیا تھا۔ تاہم اُن کی شہادت کے بعد یہ عُقدہ کھلا کہ حزب اللہ کی فیصلہ سازی کئی سطحوں، سیاسی اداروں، سماجی خدمات، مقامی نیٹ ورکس اور متبادل قیادت میں پہلے سے ہی تقسیم تھی۔ لہذا ایک مرکزی شخصیت کا خاتمہ حزب اللہ کیلئے  شدید دھچکا تو ثابت ہوا، لیکن اختتام نہیں۔ شہید حسن نصراللہ کی شہادت سے یہ ثابت  ہوا ہے کہ ایسے رہبر کا سر کاٹنے سے اُس کا نظام نہیں ختم ہوتا، جس نے اپنے تجربات اور اپنی یادداشت نئی نسل میں منتقل کرنے کا انتظام کر رکھا ہو۔

 

طوفان الاقصیٰ کے انتہائی خطرناک لمحات میں شہید حسن نصراللہ نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کو بچانے کیلئے اپنے آپ کو ایسی جرات و شہامت کے ساتھ قربان کیا کہ جس سے شہید و شہادت کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔ اسی طرح شہید کی شہادت کے ایام میں یہ بھی ایک سنگین مسئلہ تھا کہ اسرائیل حزب اللہ کے اندرونی مواصلاتی اور سکیورٹی نظام میں کافی زیادہ نفوذ کرچکا تھا۔ ستمبر 2024ء میں پیجر اور واکی ٹاکی حملوں، پھر اعلیٰ کمانڈروں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگز نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ اس وقت جنگ ہتھیاروں کے بجائے معلومات کی تھی۔ ستمبر 2024ء کے پیجر اور واکی ٹاکی حملوں میں کم از کم 37 افراد شہید اور تین ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ ان واقعات نے تنظیم کے اندرونی مواصلاتی نظام اور حفاظتی طریقۂ کار پر بنیادی سوالات کھڑے کر دیئے تھے۔

 

اس کے بعد حزب اللہ نے اپنی فوجی سرگرمیوں کو زیادہ زیرِ زمین رکھنے اور ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ جدید مواصلاتی آلات جب دشمن کے لیے معلومات کا ذریعہ بن گئے تھے تو تنظیم نے ان آلات کے استعمال کو محدود کرکے اپنے مواصلاتی طریقوں کو زیادہ متنوع اور جاسوسی شکن بنانے کی حکمت عملی اپنائی۔ حزب اللہ نے اچھی طرح یہ سبق سیکھا کہ جنگ میں جدید ترین ذریعہ ہمیشہ محفوظ ترین ذریعہ نہیں ہوتا۔ بالآخر 7 اکتوبر 2023ء کے "طوفان الاقصیٰ" سے شروع ہونے والی کشیدگی کی بھاری قیمت حزب اللہ کو ادا کرنی پڑی۔ حزب اللہ اس جنگ کی براہِ راست فریق نہیں تھی۔  8 اکتوبر سے "حمایتی محاذ" کے طور پر حزب اللہ اس جنگ میں داخل ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مکمل جنگ سے بچتے ہوئے غزہ کے ساتھ شمالی محاذ کھول کر اسرائیل پر دو طرفہ دباؤ ڈالا جائے۔ سید حسن نصراللہ کی حکمتِ عملی محدود اور قابو میں رکھی ہوئی کشیدگی سے اسرائیل سے حماس کے مطالبات منوانا تھی۔

 

حزب اللہ نے 8 اکتوبر ہی سے اسرائیل کے شمالی علاقوں پر حملے شروع کیے، لیکن اس نے ابتدا میں پوری عسکری قوت استعمال نہیں کی۔ مقصد یہ تھا کہ اسرائیل کو شمالی محاذ پر فوج رکھنے پر مجبور کیا جائے، غزہ پر دباؤ کم ہو اور اسرائیل کو ایک وسیع علاقائی جنگ کی طرف جانے سے روکا جائے۔ دوسری طرف اسرائیل اس سے سخت خوفزدہ تھا کہ حماس یا حزب اللہ جیسی مقاومتی تنظیمیں مستقبل میں اس سے کہیں بڑا حملہ کرسکتی ہیں۔ حزب اللہ نے حماس و غزہ کے دفاع کے لیے اپنے آپ کو یہ جانتے ہوئے پیش کر دیا کہ غزہ کی جنگ کا اختتام  حماس یا حزب اللہ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ شہید حسن نصراللہ نے طوفان الاقصیٰ میں کود کر یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے ہم مشن ساتھیوں کے ساتھ اپنے کئے گئے عہد پر قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شہادت کے بعد ان کے ہم مشن ساتھیوں کے لیے اُس عہد پر ثابت قدم رہنا تھا، جس پر شہید آخری دم تک ثابت رہے۔ شہید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد "اَنا عَلَی الْعَہْد" کا تصور ایک تجدیدِ عہد کے طور پر ساری ملت اسلامیہ میں ابھرا۔ "اَنا عَلَی الْعَہْد" یعنی میں مظلوموں کی مدد و نصرت کے عہد پر قائم ہوں۔

 

شہید حسن نصراللہ کے ساتھ عہدِ وفاداری یہ ہے کہ ان کے مظلوموں کے ساتھ کئے گئے عہد کی حفاظت کی جائے، ان کی قربانی کو محض جذباتی انداز میں پیش کرنے کے بجائے ملت کی تربیت کیلئے پیش کیا جائے اور ان سے یہ سیکھا جائے کہ مسلمانوں کے درمیان کسی صورت میں بھی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ حقیقی عہد وہ ہے، جو کسی شخصیت کے چلے جانے کے بعد بھی انسان کے اندر اخلاقی ذمہ داری اور مسئولیت پذیری پیدا کرے۔ یعنی شہید کے ساتھ وفاداری ہمارے نعروں کے ساتھ ساتھ ہمارے فیصلوں میں بھی نظر آئے۔ المختصر یہ کہ شہید حسن نصراللہ کی برسی ہمیں یہ احساس  دلاتی ہے کہ زندگی کی دشوار گھاٹیوں میں کبھی منزل آنکھوں سے اوجھل بھی ہو جائے تو مقصد فوت نہیں ہونا چاہیئے۔ بلاشبہ شہید حسن نصراللہ کا خلا کبھی پُر نہیں ہوسکتا، لیکن یہ خلا اُس روز عظیم سے عظیم تر نقصان میں تبدیل ہو جائے گا، جس روز ہم نے شہید کے افکار و نظریات کو فراموش کر دیا۔

ای میل کریں