کمساری: امام خمینیؒ کی تاریخی رہائش گاہوں کو زندہ اور بامقصد رکھا جائے

کمساری: امام خمینیؒ کی تاریخی رہائش گاہوں کو زندہ اور بامقصد رکھا جائے

امام خمینیؒ کے آثار کی تنظیم و اشاعت کے ادارے کے سربراہ حجت الاسلام ڈاکٹر علی کمساری نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ سے منسوب گھر عجائب گھر صرف نمائش گاہیں نہیں ہونے چاہییں بلکہ اپنی تاریخی اصالت برقرار رکھتے ہوئے نئی نسل کے لیے زندہ، تعاملی اور مؤثر انداز میں تاریخ بیان کرنے والے مراکز بننے چاہییں۔

امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینیؒ کے آثار کی تنظیم و اشاعت کے ادارے کے سربراہ حجت الاسلام ڈاکٹر علی کمساری نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ سے منسوب گھر عجائب گھر صرف نمائش گاہیں نہیں ہونے چاہییں بلکہ اپنی تاریخی اصالت برقرار رکھتے ہوئے نئی نسل کے لیے زندہ، تعاملی اور مؤثر انداز میں تاریخ بیان کرنے والے مراکز بننے چاہییں۔

انہوں نے "منگل میوزیم اسٹڈیز" کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ کے گھروں کو صرف اشیاء کی نمائش تک محدود کرنے کے بجائے انہیں ایسی جگہوں میں تبدیل کیا جانا چاہیے جہاں زائرین امام کی زندگی، جدوجہد اور افکار کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

کمساری نے اپنی گفتگو کے دوران ایران کی بعض ثقافتی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فنونِ لطیفہ اور موسیقی پر عائد کئی پابندیاں شرعی بنیادوں کے بجائے انتظامی یا ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی تھیں۔ ان کے مطابق بعض فیصلوں کو بعد میں مذہبی یا انقلابی رنگ دے دیا گیا، حالانکہ ان کی اصل بنیاد ایسی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کو تاریخ اور ثقافت کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کر سکیں۔ ان کے بقول مختلف آراء سننے اور ان کا جائزہ لینے کا موقع دینا ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔

امام خمینیؒ کے مختلف تاریخی گھروں کا ذکر کرتے ہوئے کمساری نے کہا کہ خمین، قم، بورسا، نجف اور جماران کے یہ مقامات امام کی زندگی کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نجف میں واقع امام کا گھر آج بھی بڑی تعداد میں زائرین کی توجہ کا مرکز ہے، جبکہ جماران کا گھر اور حسینیہ امام کی سادہ طرزِ زندگی کی علامت ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ان تاریخی مقامات کی اصل شناخت اور سادگی کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور ملٹی میڈیا ذرائع سے نئی نسل کو ان سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔

کمساری نے آخر میں وزارتِ ثقافتی ورثہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امام کے گھر عجائب گھروں کو صرف سیاحتی مقامات نہیں بلکہ فعال ثقافتی مراکز کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔

ای میل کریں