قوموں کے حقوق پر حملہ لبرل ڈیموکریسی کی ماہیت کا جز ہے

قوموں کے حقوق پر حملہ لبرل ڈیموکریسی کی ماہیت کا جز ہے

آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں اسلامی جمہوریت کے نمونے کے ظہور کو مغربی ڈیموکریسی کے مفادات کو خطرات لاحق ہو جانے کا سبب قرار دیا

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے جمعرات کی صبح رہبر انقلاب کا انتخاب کرنے والی اور ان کی کارکردگی کی نگرانی کرنے والی ماہرین اسمبلی کے سربراہ اور ارکان سے ملاقات میں استکباری محاذ کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ کی مزاحمت و استقامت کا فلسفہ بیان کیا اور گزشتہ جمعے کو ہونے والے ماہرین اسمبلی اور پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے انتخابات کے بارے میں کچھ نکات بیان کئے۔

 

رہبر انقلاب اسلامی نے منہ زوری کرنے والی طاقتوں کے سامنے اسلامی جمہوریہ کی استقامت کی منطق بیان کرتے ہوئے فرمایا:"اسلامی جمہوریہ کی تشکیل سے قبل مغرب کی لبرل ڈیموکریسی سے وابستہ جمہوریاؤں کا محاذ دنیا کا واحد محاذ تھا لیکن اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریت پر استوار نیا محاذ وجود میں آیا جس کا مغربی ڈیموکریسی کے مد مقابل کھڑا ہونا فطری تھا۔"

آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں اسلامی جمہوریت کے نمونے کے ظہور کو مغربی ڈیموکریسی کے مفادات کو خطرات لاحق ہو جانے کا سبب قرار دیا اور اسے اس محاذ کی جانب سے اسلامی جمہوری نظام کی دائمی مخالفتوں کی وجہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خطرہ محسوس کرنے اور مخالفت شروع کر دینے کی وجہ یہ تھی کہ مغربی ڈیموکریسی کی ماہیت میں استکبار، جارحیت، قوموں کے حقوق پر حملہ، مطلق طاقت حاصل کرنے کے لئے جنگ افروزی اور خونریزی پائی جاتی ہے جس کا ثبوت ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک پر انیسویں صدی میں سامراجی قبضہ ہے جو جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق کے بارے میں ان کے دعوؤں اور نعروں کے اوج کا زمانہ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوری محاذ کا سب سے اہم موقف ظلم و زیادتی کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ اسلامی جمہوریہ کیوں سامراجی محاذ سے نبرد آزما ہے کہا کہ ہمارا ملکوں، حکومتوں اور قوموں سے بذات خود کوئی تنازعہ نہیں ہے بلکہ ہماری مخالفت ظلم و جارحیت سے ہے جو مغربی ڈیموکریسی کے محاذ کے باطن کا حصہ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کے اندوہناک واقعات کو کسی سرزمین کے مالکوں پر سامراجی محاذ کے ظلم و جارحیت اور اس سرزمین کے لوگوں کے بے رحمانہ قتل عام کی واضح مثال قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ کی مخالفت در حقیقت اس طرح کے مظالم اور جرائم کے بارے میں ہے جس کے ہر عقل و شریعت اور انسانی ضمیر کے نزدیک قابل مذمت ہونے کے باوجود امریکہ، برطانیہ اور بعض یورپی حکومتوں کی جانب سے اس کی حمایت کی جا رہی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ یہ حقیقت واضح ہونی چاہئے کہ استکباری محاذ نے ڈیموکریسی، انسانی حقوق اور لبرلزم کے نام کے پیچھے ظلم و جارحیت اور قتل عام کو چھپا رہا ہے۔

آيت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ کو ہمیشہ استکبار و سامراج کا مقابلہ کرنے میں علمبردار اور پیش قدم رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ استکبار سے جنگ کے پرچم کو روز بروز زیادہ وسیع اور زیادہ بلند کریں اور کسی بھی دور میں یہ موقع نہ دیں کہ اسلامی جمہوریہ کے ہاتھ سے یہ پرچم لے لیا جائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں ماہرین اسمبلی  کے فرائض یعنی رہبر انقلاب کا انتخاب کرنے اور اس کے اندر اس عہدے کی صلاحیتوں کے موجود رہنے کی نگرانی کرنے کو اسلامی جمہوری نظام میں بہت اہم انتظامی فریضہ قرار دیا اور کہا کہ ماہرین اسمبلی کے ارکان کو خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے انتخاب میں اسلامی جمہوریہ کے بنیادی اور مستقل اصول نظرانداز نہ ہونے پائیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مجلس شورائے اسلامی کے انتخابات کا بھی ذکر کیا اور نئی پارلیمنٹ کی تشکیل کو ملک کے لئے ایک شیریں اور نیا افق معین کرنے والا موقع قرار دیا اور کہا کہ پرانے ارکان کے ساتھ نئے ارکان کا بیٹھنا جو جدت پسندی اور پرانے تجربے سے استفادے کی آمیزش سے عبارت ہے، قیمتی سرمایہ اور سیاسی شعبے کی رگوں میں تازہ خون کی گردش کے مترادف ہے۔

آيت اللہ خامنہ ای نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی جانب سے اپنے گورنروں کو تقوا کے تعلق سے کی جانے والی تاکید کا ذکر کیا اور اسے اسلامی جمہوریہ کے عہدیداران و کارکنان کی بڑی اہم ضرورت قرار دیا۔ آپ نے اس ضمن میں شرعی احکام کی پابندی، حلال و حرام پر توجہ، دروغ گوئی، غیبت اور تہمت سے اجتناب پر تاکید کی۔

ای میل کریں