جماران حسینیہ اور امام خمینی (رح) کے گھر کا غیرملکی مہمانوں کا دوره

جماران حسینیہ اور امام خمینی (رح) کے گھر کا غیرملکی مہمانوں کا دوره

اس دورے کے دوران موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رح) کے ثقافتی نائب صدر امین عارف نیا نے غیر ملکی مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا...

جماران کے مطابق، ایک گروپ جس میں مشرقی ایشیا کے مہمان شامل تھے امام کے گھر گئے اور امام کی رہائش گاہ کا قریب سے دورہ کیا۔ پھر انہوں نے حسینیہ جماران میں حاضری دی۔

 

اس دورے کے دوران موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (رح) کے ثقافتی نائب صدر امین عارف نیا نے غیر ملکی مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: جماران حسینیہ تقریباً ایک صدی پرانا ہے اور انقلاب سے پہلے یہ مقام مقامی لوگوں کے لیے تقریبات، ماتم اور مذہبی اجتماع کی جگہ تھی۔ لیکن انقلاب کے بعد جب ڈاکٹروں نے امام کو قم واپس جانے سے منع کیا تو وہ اس جگہ منتقل ہوگئے اور ایک گھر میں رہنے لگے جو ان کے ایک شاگرد کا تھا۔

 

انہوں نے کہا: دنیا کی بہت سی سیاسی اور ثقافتی شخصیات نے جماران کے ثقافتی کمپلیکس کا دورہ کیا ہے، جس میں امام کا گھر، جماران حسینیہ اور امام کی نمایشگاه شامل ہیں۔ ان لوگوں میں نیلسن منڈیلا کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ دلچسپ بات ہے کہ اس کمپلیکس میں آنے والے زیادہ تر غیر ملکی زائرین حسینیہ اور بیت امام کے روحانی اور سادہ ماحول سے متاثر ہوئے ہیں۔

 

عارف نیا نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: امام (رح) کی حیات طیبہ کے دوران اس حسینیہ میں امام کے ساتھ عوامی اور سرکاری ملاقاتیں ہوئیں اور اس حسینیہ میں امام کی عوامی مجالس کی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کی گئیں ہیں۔

 

ان مہمانوں میں سے ایک ہندوستان سے تعلق رکھنے والی "فردوس جہان" نامی خاتون تھیں جنہوں نے کہا: "جب میں اس مقام پر آئی تو مجھے لگا کہ امام بھی یہیں ہیں اور ہمیں چھوڑ کر نہیں گئے ہیں۔ امام خمینی زندہ ہیں اور ہم انہیں محسوس کرتے ہیں، امام نے نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام انسانوں کے لیے کام کیا ہے۔

 

ای میل کریں