حضرت زینب (س)

حضرت زینب (س) امانتدارِ تاریخ

حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور چونکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے زمانہ میں عظیم درسگاہ ایمانی و انسانی کی پروردہ تھیں ...

حضرت زینب (س) امانتدارِ تاریخ

 

تحریر: سید مشاہد عالم رضوی

 

حوزہ نیوز ایجنسی | عورت اپنے وجود میں شرم و حیا چھپاے ہوے ناز و اداۓ زنانہ کا پیکر ہے اور شجاعت و دلآوری اس کی فطرت سے پرے سمجھی جاتی ہے مگر یہی عورت تاریخ انسانی کی ایک بڑی معلمہ اورعظیم مربیہ کے منصب پرفائزہے جو اولاد آدم کو خون دل پلا کراپنے وجود کا حصہ بنا کررکھتی ہے اور پھر زندگی کے مختلف مراحل میں اسے صفات انسانی میں ڈھالتی ہے یہ اس کا اچھوتا اور نہایت اہم تاریخ سازکردار ہے۔

 

تاریخ انسانی کی امانت دار

جبکہ یہی عورت اپنی عفت و پاکدامنی کے البیلے وصف میں غرق وقار انسان کی پاسداری کرتی ہے۔چنانچہ اسی عظیم مسؤلیت وذمہ داری کی وجہ سے پوری تاریخ انسانی کی امانت دار ہے جسے اس کےمقصد حیات کا ایک حصہ شمار کرنا چاہئیے یعنی انسانی عظیم معاشرے کی صلاح وارتقاء کے لئے صحت مند وسلیم الطبع انسانوں کی پرورش کرنا اس کا لائق تعریف ودر عین حال ایک دشوار گزارکارنامہ ہے جس کے لئےمرد چاہے جس قدر اسکی قدردانی کرے کم ہے مغربی تہذیب وتمدن کے خوگر اس نکتہ کے درک وفہم سے عاجز ہیں۔

 

راہزنان حرص وآز

چنانچہ درمیان راہ اسےگاہے بگاہے راہزنان حرص و ھوس شہوت وآز کے پجاریوں کا خطرہ محسوس ہوا تووہ اپنی عفت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شجاعت کا مجسمہ بنکر ڈٹ جاتی ہے

 

مرغ پردار کے مانند

ایک مرغ پردار کے مانند جو اپنے بچوں کو خطرہ کے وقت پروں میں چھپا کر صیاد بے رحم پر آنکھیں سرخ کرکے دوڑتی ہے اور ننھی منی مرغی دشمن کے سامنے بہادر بن کر ڈٹ جاتی ہے اسی طرح ایک عورت بھی جب اپنی امانت کو ابنائے زمانہ اور بو الھوسوں کے ہاتھوں خطرہ میں دیکھتی ہے تو وہ ان کے مقابلے میں ڈٹ جاتی ہے اور نڈر ہو کر شیدان مکر و فریب کا مقابلہ کرتی ہے اس عزم و حوصلہ کے ساتھ کہ امانت کو منزل تک پہنچا سکے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور چونکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے زمانہ میں عظیم درسگاہ ایمانی وانسانی کی پروردہ تھیں اور کائنات کی خاتون اول عصمت کبری حضرت فاطمہ زہرا کی عفت مآب بیٹی تھیں اور اپنی مسؤلیت سے بخوبی آگاہ تھیں اس لیے آپ نے بھی دنیا کی تمام شائستہ عورتوں کی طرح ایک منزل پر خطرہ کے وقت عفاف وحجاب کی پوری پاسداری کے ساتھ راہزنان حرص و آز ھوس کے پجاری یزید وابن زیاد جیسے پست طینت افرادکے جگنل سے کاروان انسانی کے سید وسردار عشق وآزادی کے میر کارواں حضرت اباعبداللہ الحسین کے مشن کو بچایاتھا اورآپ تن تنہا سن اکسٹھ ہجری کے سخت امتحان میں کامیاب وسر بلند رہیں یہاں تک کہ اپنے اس اچھوتےکردار وعمل سے قیامت تک آنے والی عورتوں کی نمائندہ بن گیں۔

 

حقا این سعادت بزور بازو نیست/ تانبخشد خدائے بخشندہ

فاطمہ کی جائی علی کی بیٹی حسن و حسین کی شیر دل بہن پر ہمارا سلام

ای میل کریں